🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب تخفيف الصلاة والخطبة:
باب: نماز اور خطبہ مختصر پڑھانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 874 ترقیم شاملہ: -- 2017
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ يَرْفَعُ يَدَيْهِ "، فَقَالَ عُمَارَةُ بْنُ رُؤَيْبَةَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ابوعوانہ نے حصین بن عبدالرحمان سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے جمعے کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو اس پر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔۔۔ اس کے بعد اس (مذکورہ بالا روایت) کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2017]
حصین بن عبدالرحمان کی روایت ہے کہ میں نے جمعہ کے دن بشر بن مروان کو دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے دیکھا۔ تو عمارہ بن رویبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا۔ مذکورہ بالاروایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجمعة/حدیث: 2017]
ترقیم فوادعبدالباقی: 874
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥الحصين بن عبد الرحمن السلمي، أبو الهذيلثقة متقن
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← الحصين بن عبد الرحمن السلمي
ثقة ثبت
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة ثبت
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2017 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2017
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء (بارش کی دعا)
کرتے وقت خطبہ جمعہ میں دونوں ہاتھ بلند فرماتے تھے لیکن جمعہ کے خطبہ میں لوگوں کو متوجہ کرنے کے لیے صرف انگشت شہادت سے اشارہ فرماتے تھے اور جب بشر بن مروان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معمول کی مخالفت کی تو سیدنا عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اتنی سی بات کو برداشت نہ کر سکے اور اس سے نفرت وکراہت کا اظہار کرتے ہوئے اس کو بدعا دی،
لیکن آج ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلوب وانداز کو نظر انداز کر کے کتنے نئے نئے طریقے نکال لیے ہیں۔
اور ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کا احساس تک نہیں ہے اور اگر کوئی متنبہ کرے تو کوئی اس کی بات کو سننا گوارا نہیں کرتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2017]