صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1ق. باب:
باب: نماز عیدین کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 886 ترقیم شاملہ: -- 2050
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، أَرْسَلَ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ أَوَّلَ مَا بُويِعَ لَهُ، " أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُؤَذَّنُ لِلصَّلَاةِ يَوْمَ الْفِطْرِ فَلَا تُؤَذِّنْ لَهَا، قَالَ: فَلَمْ يُؤَذِّنْ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَهُ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَعَ ذَلِكَ إِنَّمَا الْخُطْبَةُ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَإِنَّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يُفْعَلُ، قَالَ: فَصَلَّى ابْنُ الزُّبَيْرِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ".
محمد بن رافع نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی کہا: ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا: مجھے عطاء نے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن نماز (عید) کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی لہذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور (عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں) ایسے ہی کیا جاتا تھا۔ (عطاء نے) کہا: تو ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2050]
حضرت عطاء بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کی گئی تو آغاز ہی میں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ واقعہ یہ ہے کہ عید الفطرکے دن نماز کے لیے اذان نہیں دی جا تی تھی لہٰذا آپ اس کے لیے اذان نہ کہلوائیں تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس اذان نہ کہلوائی اور اس کے ساتھ یہ پیغام بھی بھیجا کہ خطبہ نماز کے بعد ہے اور ایسے ہی کیا جا تا تھا تو ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے نماز خطبے سے پہلے پڑھائی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 2050]
ترقیم فوادعبدالباقی: 886
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2050 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2050
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہے جیسا کہ آج کل متبعین سنت کا معمول ہے۔
لیکن بنو امیہ کے دور میں بعض شہروں میں خطبہ پہلے دیا جاتا تھا اور نماز بعد میں پڑھی جاتی تھی۔
آج کل بھی اکثر لوگ عید کی نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیتے ہیں اور اس کا نام اردو تقریر رکھ لیتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام جو ہم کرتے ہیں وہ نماز ہے۔
اس لیے نماز سے پہلے نظمیں نعتیں پڑھنا یا تقریر کرنا سنت کے خلاف ہے۔
تقریر خطبہ نماز کے بعد ہونا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے ہے جیسا کہ آج کل متبعین سنت کا معمول ہے۔
لیکن بنو امیہ کے دور میں بعض شہروں میں خطبہ پہلے دیا جاتا تھا اور نماز بعد میں پڑھی جاتی تھی۔
آج کل بھی اکثر لوگ عید کی نماز سے پہلے خطبہ شروع کر دیتے ہیں اور اس کا نام اردو تقریر رکھ لیتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام جو ہم کرتے ہیں وہ نماز ہے۔
اس لیے نماز سے پہلے نظمیں نعتیں پڑھنا یا تقریر کرنا سنت کے خلاف ہے۔
تقریر خطبہ نماز کے بعد ہونا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2050]
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي