صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 895 ترقیم شاملہ: -- 2077
وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
یحییٰ بن سعید نے (سعید) بن ابی عروبہ سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2077]
یحییٰ بن سعید نے (سعید) بن ابی عروبہ سے اور انہوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2077]
ترقیم فوادعبدالباقی: 895
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥قتادة بن دعامة السدوسي، أبو الخطاب قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت مشهور بالتدليس | |
👤←👥سعيد بن أبي عروبة العدوي، أبو النضر سعيد بن أبي عروبة العدوي ← قتادة بن دعامة السدوسي | ثقة حافظ | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سعيد بن أبي عروبة العدوي | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة ثبت |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2077 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2077
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
1۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر ہاتھ دعائے استسقاء میں بلند کرتے تھے،
عام طور پر دعا میں اتنے مبالغہ سے بلند نہیں کرتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔
اس لیے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
کیونکہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی حدیثیں تو معناً متواتر ہیں اور تقریباً تیس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہیں۔
نیز حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا مشاہدہ ہے جبکہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اور جگہ بھی یہ طریقہ ثابت ہے۔
2۔
عام طور پر دعا میں ہتھیلیاں اوپر ہوتی ہیں لیکن دعائے استسقاء میں جس طرح حالات کی تبدیلی کی خواہش اور نیک شگون کے لیے چادر پلٹی جاتی ہے اسی طرح ہتھیلیوں کی بجائے ان کی پشت آسمان کی طرف کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خشک سالی اورقحط کو خوش حالی میں تبدیل فرما دے۔
فوائد ومسائل:
1۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم جس قدر ہاتھ دعائے استسقاء میں بلند کرتے تھے،
عام طور پر دعا میں اتنے مبالغہ سے بلند نہیں کرتے تھے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگے۔
اس لیے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مقصد نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعائے استسقاء کے سوا کسی دعا میں ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے۔
کیونکہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے کی حدیثیں تو معناً متواتر ہیں اور تقریباً تیس صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہیں۔
نیز حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا مشاہدہ ہے جبکہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے اور جگہ بھی یہ طریقہ ثابت ہے۔
2۔
عام طور پر دعا میں ہتھیلیاں اوپر ہوتی ہیں لیکن دعائے استسقاء میں جس طرح حالات کی تبدیلی کی خواہش اور نیک شگون کے لیے چادر پلٹی جاتی ہے اسی طرح ہتھیلیوں کی بجائے ان کی پشت آسمان کی طرف کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ خشک سالی اورقحط کو خوش حالی میں تبدیل فرما دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2077]
Sahih Muslim Hadith 2077 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري