صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب الدعاء في الاستسقاء:
باب: نماز استسقاء کے موقع پر دعا مانگنا۔
ترقیم عبدالباقی: 897 ترقیم شاملہ: -- 2082
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أُسَامَةُ ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ، وَزَادَ: " فَرَأَيْتُ السَّحَابَ يَتَمَزَّقُ كَأَنَّهُ الْمُلَاءُ حِينَ تُطْوَى ".
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے۔ (آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: میں نے بادل کو دیکھا وہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہو جب اسے لپیٹا جا رہا ہو۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2082]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بدو جمعہ کے دن جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مذکورہ بالا حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا میں نے بادلوں کو اس طرح پھٹتے دیکھا، گویا وہ ایک بڑی چادرتھی، جس کو لپیٹ دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة الاستسقاء/حدیث: 2082]
ترقیم فوادعبدالباقی: 897
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2082 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2082
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عام روایات میں بارش کی اپیل ایک بدو نے کی ہے۔
لیکن ایک روایت میں ہے کہ سب لوگ پکارنے لگے۔
تو اس کی وجہ ہے کہ درخواست ایک ہی فرد نے کی تھی۔
اس لیے اصل محرک اور داعی وہی تھا۔
دوسرے لوگوں نے تو صرف اس کی تائید میں آواز بلند کی تھی۔
اس لیے اپیل کی نسبت اسی کی طرف کی گئی ہے جبکہ خواہش مند اور تائید کنندہ سب تھے۔
فوائد ومسائل:
عام روایات میں بارش کی اپیل ایک بدو نے کی ہے۔
لیکن ایک روایت میں ہے کہ سب لوگ پکارنے لگے۔
تو اس کی وجہ ہے کہ درخواست ایک ہی فرد نے کی تھی۔
اس لیے اصل محرک اور داعی وہی تھا۔
دوسرے لوگوں نے تو صرف اس کی تائید میں آواز بلند کی تھی۔
اس لیے اپیل کی نسبت اسی کی طرف کی گئی ہے جبکہ خواہش مند اور تائید کنندہ سب تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2082]
حفص بن عبيد الله الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري