صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب ذكر النداء بصلاة الكسوف: «الصلاة جامعة»:
باب: نماز کسوف کے لئے «الصّلاةُ جَامِعَةٌ» کہہ کر پکارنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 911 ترقیم شاملہ: -- 2116
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ كلهم، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي حَدِيثِ سُفْيَانَ، وَوَكِيعٍ " انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ ".
وکیع، ابواسامہ، ابن نمیر، جریر، سفیان، اور مروان سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کے دن سورج کو گرہن لگا تو لوگوں نے کہا: سورج کو ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات کی بناء پر گرہن لگا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2116]
امام صاحب اپنے بہت سے اساتذہ سے اسماعیل کی اس سند سے روایت بیان کرتے ہیں۔ سفیان اور وکیع کی روایت میں ہے کہ ”ابراہیم رضی اللہ عنہ کی موت کے دن سورج کو گہن لگا، تو لوگوں نے کہا: سورج کو گہن ابراہیم کی موت کی وجہ سے لگا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الكسوف/حدیث: 2116]
ترقیم فوادعبدالباقی: 911
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 2116 in Urdu
مروان بن معاوية الفزاري ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي