صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب ما يقال عند المصيبة:
باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2127
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘۔ ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما‘، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔“ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”کوئی بندہ جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ”بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ! میری مصیبت میں مجھے صلہ دے اور (مجھ سے چھن جانے والی چیز سے) اس کا بہتر بدل عطا دے،“ تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس سے بہتر جانشین عطا فرماتا ہے۔“ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ جب (میرے خاوند) ابو سلمہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو میں نے اسی طرح کہا جس طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بہتر جانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عنایت فرمائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2127]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥عمر بن سفينة مولى النبي، أبو إبراهيم عمر بن سفينة مولى النبي ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمر بن كثير المدني عمر بن كثير المدني ← عمر بن سفينة مولى النبي | ثقة | |
👤←👥سعد بن سعيد الأنصاري سعد بن سعيد الأنصاري ← عمر بن كثير المدني | صدوق سيئ الحفظ | |
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة حماد بن أسامة القرشي ← سعد بن سعيد الأنصاري | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
Sahih Muslim Hadith 2127 in Urdu
عمر بن سفينة مولى النبي ← أم سلمة زوج النبي