صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب ما يقال عند المصيبة:
باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
ترقیم عبدالباقی: 918 ترقیم شاملہ: -- 2128
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي، فَقُلْتُهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابواسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کر دیا تو میں نے وہی (کلمات) کہے۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جیسا کہ ابو اسامہ کی مذکورہ بالا حدیث ہے اور اس میں اضافہ ہے کہ جب ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے دل میں سوچا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں عزم پیدا کر لیا تو میں نے اس دعا کو پڑھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کر لی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2128]
ترقیم فوادعبدالباقی: 918
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمة | صحابية | |
👤←👥عمر بن سفينة مولى النبي، أبو إبراهيم عمر بن سفينة مولى النبي ← أم سلمة زوج النبي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥عمر بن كثير المدني عمر بن كثير المدني ← عمر بن سفينة مولى النبي | ثقة | |
👤←👥سعد بن سعيد الأنصاري سعد بن سعيد الأنصاري ← عمر بن كثير المدني | صدوق سيئ الحفظ | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← سعد بن سعيد الأنصاري | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2128 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2128
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب مسلمان انسان مصیبت میں صبر کرتا ہے اور چھن جانے والی چیز کے بارے میں یہ تصور کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز تھی اور وہی اس کا مالک تھا بلکہ میرا مالک بھی وہی ہے جب چاہے مجھے بلا سکتا ہے اور وہی چھننے والی چیز کا بہتر بدل عطا کر سکتا ہے اس عقیدہ اور نظریہ کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اجرو ثواب کے ساتھ ساتھ اس کا مادی یا معنوی طور پر بہتر جانشین عنایت فرماتا ہے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تصور تھا کہ میرے مرنے والے خاوند سے کون بہتر ہو سکتا ہے۔
جو ایک جلیل القدر صحابی تھے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر یقین کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف بخشا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ان کے دل میں پیدا ہونے والے خدشات غیرت اور بیٹی کا مسئلہ بھی دور فرما دئیے۔
فوائد ومسائل:
جب مسلمان انسان مصیبت میں صبر کرتا ہے اور چھن جانے والی چیز کے بارے میں یہ تصور کرتا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز تھی اور وہی اس کا مالک تھا بلکہ میرا مالک بھی وہی ہے جب چاہے مجھے بلا سکتا ہے اور وہی چھننے والی چیز کا بہتر بدل عطا کر سکتا ہے اس عقیدہ اور نظریہ کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اجرو ثواب کے ساتھ ساتھ اس کا مادی یا معنوی طور پر بہتر جانشین عنایت فرماتا ہے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تصور تھا کہ میرے مرنے والے خاوند سے کون بہتر ہو سکتا ہے۔
جو ایک جلیل القدر صحابی تھے۔
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر یقین کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی دعا پڑھی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا شرف بخشا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے ان کے دل میں پیدا ہونے والے خدشات غیرت اور بیٹی کا مسئلہ بھی دور فرما دئیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2128]
عمر بن سفينة مولى النبي ← أم سلمة زوج النبي