صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
9. باب الميت يعذب ببكاء اهله عليه:
باب: میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 931 ترقیم شاملہ: -- 2153
وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ ، وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، جميعا، عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ خَلَفٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ قَوْلُ ابْنِ عُمَرَ: الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعَ شَيْئًا فَلَمْ يَحْفَظْهُ، إِنَّمَا مَرَّتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَنَازَةُ يَهُودِيٍّ، وَهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " أَنْتُمْ تَبْكُونَ وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ ".
حماد بن زید نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا روایت کردہ قول بیان کیا گیا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو انہوں نے کہا: ”اللہ عبدالرحمن پر رحم فرمائے، انہوں نے ایک چیز کو سنا لیکن (پوری طرح) محفوظ نہ رکھا (امر واقع یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک یہودی کا جنازہ گزرا اور وہ لوگ اس پر رو رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ’تم رو رہے ہو اور اسے عذاب دیا جا رہا ہے۔‘“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2153]
عروہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بیان کیا گیا کہ میت کو اس کے گھر والوں کے اس پر رونے سے عذاب دیا جا تا ہے تو عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اللہ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے انھوں نے ایک چیز سنی لیکن پوری طرح محفوظ نہیں کی بات صرف اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنا زہ گزرا اور وہ رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم رو رہے ہو اور اسے سزا مل رہی ہے“ عذاب دیا جا رہا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2153]
ترقیم فوادعبدالباقی: 931
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فقيه مشهور | |
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر هشام بن عروة الأسدي ← عروة بن الزبير الأسدي | ثقة إمام في الحديث | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← هشام بن عروة الأسدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥سليمان بن داود العتكي، أبو الربيع سليمان بن داود العتكي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة | |
👤←👥خلف بن هشام البزار، أبو محمد خلف بن هشام البزار ← سليمان بن داود العتكي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
3978
| ليعذب بخطيئته وذنبه وإن أهله ليبكون عليه الآن |
صحيح البخاري |
1289
| ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها |
صحيح مسلم |
2153
| تبكون وإنه ليعذب |
صحيح مسلم |
2154
| الميت يعذب في قبره ببكاء أهله عليه |
صحيح مسلم |
2156
| الميت ليعذب ببكاء الحي فقالت عائشة يغفر الله |
جامع الترمذي |
1006
| ليبكون عليها وإنها لتعذب في قبرها |
سنن النسائى الصغرى |
1858
| الله يزيد الكافر عذابا ببعض بكاء أهله عليه |
سنن النسائى الصغرى |
1857
| ليبكون عليها وإنها لتعذب |
سنن ابن ماجه |
1595
| أهلها يبكون عليها وإنها تعذب في قبرها |
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق