صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب جَعْلِ الْقَطِيفَةِ فِي الْقَبْرِ:
باب: قبر میں چادر ڈالنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 967 ترقیم شاملہ: -- 2241
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، وَوَكِيعٌ ، جميعا، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاءُ "، قَالَ مُسْلِم: أَبُو جَمْرَةَ اسْمُهُ نَصْرُ بْنُ عِمْرَانَ، وَأَبُو التَّيَّاحِ وَاسْمَهْ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ، مَاتَا بِسَرَخْسَ.
ابوجمرہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ موٹی چادر رکھی (بچھائی) گئی تھی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران اور ابوتیاح کا نام یزید بن حمید ہے۔ (ان کا نام سند میں نہیں) یہ ایک زائد فائدہ ہے جس کا اضافہ امام مسلم رحمہ اللہ نے غالباً کسی شاگرد کے سوال پر کیا۔ ان دونوں نے سرخس میں وفات پائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
امام صاحب نے مختلف اساتذہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں سرخ چادر رکھی۔“ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ابوجمرہ کا نام نصر بن عمران ہے اور ابوالتیاح کا نام یزید بن حمید ہے اور دونوں (ایک ہی سال) سرخس میں فوت ہوئے۔“ (ابوالتیاح کا اس حدیث میں ذکر نہیں ہے)۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2241]
ترقیم فوادعبدالباقی: 967
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
2241
| جعل في قبر رسول الله قطيفة حمراء |
جامع الترمذي |
1048
| جعل في قبر النبي قطيفة حمراء |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2241 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2241
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
فوائد ومسائل:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام نے محض اسی بنا پر یہ چادر قبر میں ڈال دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اس کو کوئی استعمال نہ کرے۔
لیکن چونکہ یہ بات درست نہ تھی اس لیے بقول امام ابن عبدالبر اس کو نکال لیا گیا تھا۔
اور جمہور فقہاء نے میت کے نیچے کپڑے بچھانے کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2241]
ڈاکٹر محمد جاوید حفظ اللہ، صحیح مسلم2241
مسلم شریف کی ایک صحیح حدیث سے غلط استدلال۔
❀ «عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جعل فى قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة حمراء.» [صحيح مسلم، باب: جعل القطيفة فى القبر، ح: 967، 655/2]
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ”میں“ ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔
ایک عزیز شاگرد کے بقول انہیں کسی دوست نے مسلم شریف کے حوالہ سے یہ حدیث اس ترجمہ کے ساتھ بھیجی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر سرخ رنگ کی چادر ڈالی گئی“۔
اور اس طرح اس روایت کی تحریف کرتے ہوئے مزارات پہ چادریں چڑھانے کو جواز بخشا گیا۔
قطع نظر اس اختلاف کے ہم اپنی بحث کو صرف اس حدیث مبارکہ کے مفہوم تک محدود رکھتے ہوئے محدثین کرام کی آراء سے استدلال کریں گے۔
◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ یوں نقل کیے:
❀ ”جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا تو آپ علیہ السلام کے نیچے سرخ رنگ کی ایک چادر ڈالی گئی۔“ [السنن الكبري: 2150، 7085، المجتبي، باب: قبر ميں كپڑا ركهنا، ح: 2021]
حدیث مبارکہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ قبر کے اوپر کا ترجمہ تحریف کی بدترین مثال ہے اور ایسا کسی خاص مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ حدیث مسند احمد، جامع الترمذی وغیرہ کثیر کتب میں موجود ہے اور کہیں بھی قبر کے اوپر چادر ڈالنے کے الفاظ نہیں ہیں۔
اب اس روایت کے متعلق چند محدثین کی آراء دیکھیں۔
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کر کے لکھا:
”(اس حدیث کے راوی) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ قبر میں میت کے نیچے کسی بھی چیز کے بچھانے کو ناپسند فرماتے تھے اور بعض اہل علم کا بھی یہی رجحان ہے۔“ [جامع الترمذي، باب: قبر ميں ميت كے نيچے ايک ہی كپڑا ركهنے كا بيان، ح: 1048، 356/3]
◈ صحیح مسلم کے معروف شارح امام نووی رحمہ اللہ نے اس روایت کی شرح میں جو تبصرہ فرمایا بعد میں آنے والوں نے اسے ہی قبول کر کے آگے نقل کیا، لکھتے ہیں:
”اس قطیفہ کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں آپ علیہ السلام کے غلام شقران نے رکھا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد کوئی اور استعمال کرے اور امام شافعی رحمہ اللہ اور ہمارے شوافع کے جملہ علماء اور شوافع کے علاوہ دوسرے علماء نے بھی اس بات کو منصوص کہا ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کپڑا چٹائی وغیرہ رکھنا مکروہ ہے۔
البتہ شوافع میں سے امام بغوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التہذیب میں اس روایت سے استدلال کر کے کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے اور صحیح بات یہی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ جمہور کی رائے ہے۔
شقران رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا جواب یہ ہے کہ ایسا کرنے میں وہ منفرد ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں سے کسی نے بھی ان کی موافقت نہیں کی اور نہ ہی انہیں شقران رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا پتہ چلا اور شقران رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ اس چادر کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد کوئی اور شخص استعمال کرے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر کو پہنتے بھی تھے اور نیچے بھی بچھا لیتے تھے اور شقران رضی اللہ عنہ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ اب اسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ کوئی استعمال کرے جبکہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اس باب میں ان کی مخالفت کی۔“ [شرح مسلم: 34/7]
◈ معروف حنفی عالم ملا علی قاری رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ کی درجہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا:
”یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے..... اور امام عراقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الفیہ فی سیرۃ میں لکھا کہ وہ چادر جو بچھائی گئی تھی اسے نکال لیا گیا تھا اور یہی چیز اثبت ہے اور اسی کی طرف ابن عبد البر رحمہ اللہ نے الاستیعاب میں اشارہ کیا ہے کہ اس چادر کو مٹی ڈالنے سے قبل نکال لیا گیا تھا۔“ [مرقاة المصابيح: 1215/3]
◈ صاحب مرعاۃ کے نزدیک جمہور علماء قبر میں میت کے نیچے چادر وغیرہ بچھانے کی کراہت کے قائل ہیں اور شقران رضی اللہ عنہ نے جو چادر بچھائی تھی اس کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو علم نہ تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی نے ان کی رائے کی موافقت کی۔ [مرعاة المصابيح: 427/3]
◈ طیبی اور قاضی بیضاوی نے اسے آپ علیہ السلام کے خواص میں سے کہا۔ [شرح مشكاة للطيبي: 1406/4، تحفة الابرار: 438/1]
◈ علامہ توربشتی (م 661ھ) نے کہا دفن سے قبل اس چادر کو نکال لیا گیا تھا۔
◈ ابن سعد رحمہ اللہ نے اس باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وصیت بسند صحیح نقل کر کے مسئلہ کی وضاحت فرمائی:
”عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازہ کی چارپائی کے ساتھ نہ تو آگ لے کے چلنا اور نہ ہی میرے نیچے سرخ چادر بچھانا۔“ [طبقات ابن سعد: 59/8]
اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید یا احادیث میں تحریف کرنا باعث شرم ہی نہیں بلکہ یہود کی تقلید بھی ہے اور جہنم میں دخول کا سرٹیفیکیٹ بھی۔
اللہ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
❀ «عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: جعل فى قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة حمراء.» [صحيح مسلم، باب: جعل القطيفة فى القبر، ح: 967، 655/2]
جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ”میں“ ایک سرخ رنگ کی چادر رکھی گئی تھی۔
ایک عزیز شاگرد کے بقول انہیں کسی دوست نے مسلم شریف کے حوالہ سے یہ حدیث اس ترجمہ کے ساتھ بھیجی: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر سرخ رنگ کی چادر ڈالی گئی“۔
اور اس طرح اس روایت کی تحریف کرتے ہوئے مزارات پہ چادریں چڑھانے کو جواز بخشا گیا۔
قطع نظر اس اختلاف کے ہم اپنی بحث کو صرف اس حدیث مبارکہ کے مفہوم تک محدود رکھتے ہوئے محدثین کرام کی آراء سے استدلال کریں گے۔
◈ امام نسائی رحمہ اللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے الفاظ یوں نقل کیے:
❀ ”جب جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کیا گیا تو آپ علیہ السلام کے نیچے سرخ رنگ کی ایک چادر ڈالی گئی۔“ [السنن الكبري: 2150، 7085، المجتبي، باب: قبر ميں كپڑا ركهنا، ح: 2021]
حدیث مبارکہ کے الفاظ ہی ظاہر کر رہے ہیں کہ قبر کے اوپر کا ترجمہ تحریف کی بدترین مثال ہے اور ایسا کسی خاص مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ حدیث مسند احمد، جامع الترمذی وغیرہ کثیر کتب میں موجود ہے اور کہیں بھی قبر کے اوپر چادر ڈالنے کے الفاظ نہیں ہیں۔
اب اس روایت کے متعلق چند محدثین کی آراء دیکھیں۔
◈ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کر کے لکھا:
”(اس حدیث کے راوی) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ وہ قبر میں میت کے نیچے کسی بھی چیز کے بچھانے کو ناپسند فرماتے تھے اور بعض اہل علم کا بھی یہی رجحان ہے۔“ [جامع الترمذي، باب: قبر ميں ميت كے نيچے ايک ہی كپڑا ركهنے كا بيان، ح: 1048، 356/3]
◈ صحیح مسلم کے معروف شارح امام نووی رحمہ اللہ نے اس روایت کی شرح میں جو تبصرہ فرمایا بعد میں آنے والوں نے اسے ہی قبول کر کے آگے نقل کیا، لکھتے ہیں:
”اس قطیفہ کو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں آپ علیہ السلام کے غلام شقران نے رکھا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی تھی کہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد کوئی اور استعمال کرے اور امام شافعی رحمہ اللہ اور ہمارے شوافع کے جملہ علماء اور شوافع کے علاوہ دوسرے علماء نے بھی اس بات کو منصوص کہا ہے کہ قبر میں میت کے نیچے کپڑا چٹائی وغیرہ رکھنا مکروہ ہے۔
البتہ شوافع میں سے امام بغوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب التہذیب میں اس روایت سے استدلال کر کے کہا کہ ایسا کرنے میں کوئی عیب نہیں ہے اور صحیح بات یہی ہے کہ ایسا کرنا مکروہ ہے جیسا کہ جمہور کی رائے ہے۔
شقران رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا جواب یہ ہے کہ ایسا کرنے میں وہ منفرد ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم میں سے کسی نے بھی ان کی موافقت نہیں کی اور نہ ہی انہیں شقران رضی اللہ عنہ کے اس عمل کا پتہ چلا اور شقران رضی اللہ عنہ نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ اس بات کو پسند نہیں فرماتے تھے کہ اس چادر کو آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے بعد کوئی اور شخص استعمال کرے کیونکہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اس چادر کو پہنتے بھی تھے اور نیچے بھی بچھا لیتے تھے اور شقران رضی اللہ عنہ کو یہ بات گوارا نہ ہوئی کہ اب اسے آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ کوئی استعمال کرے جبکہ دوسرے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے اس باب میں ان کی مخالفت کی۔“ [شرح مسلم: 34/7]
◈ معروف حنفی عالم ملا علی قاری رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ کی درجہ بالا عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا:
”یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسا کرنا جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہے اور آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے علاوہ کسی اور کے ساتھ ایسا کرنا صحیح نہیں ہے..... اور امام عراقی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب الفیہ فی سیرۃ میں لکھا کہ وہ چادر جو بچھائی گئی تھی اسے نکال لیا گیا تھا اور یہی چیز اثبت ہے اور اسی کی طرف ابن عبد البر رحمہ اللہ نے الاستیعاب میں اشارہ کیا ہے کہ اس چادر کو مٹی ڈالنے سے قبل نکال لیا گیا تھا۔“ [مرقاة المصابيح: 1215/3]
◈ صاحب مرعاۃ کے نزدیک جمہور علماء قبر میں میت کے نیچے چادر وغیرہ بچھانے کی کراہت کے قائل ہیں اور شقران رضی اللہ عنہ نے جو چادر بچھائی تھی اس کا صحابہ رضی اللہ عنہم کو علم نہ تھا اور نہ ہی ان میں سے کسی نے ان کی رائے کی موافقت کی۔ [مرعاة المصابيح: 427/3]
◈ طیبی اور قاضی بیضاوی نے اسے آپ علیہ السلام کے خواص میں سے کہا۔ [شرح مشكاة للطيبي: 1406/4، تحفة الابرار: 438/1]
◈ علامہ توربشتی (م 661ھ) نے کہا دفن سے قبل اس چادر کو نکال لیا گیا تھا۔
◈ ابن سعد رحمہ اللہ نے اس باب میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وصیت بسند صحیح نقل کر کے مسئلہ کی وضاحت فرمائی:
”عبد اللہ بن عبید کہتے ہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وصیت فرمائی تھی کہ میرے جنازہ کی چارپائی کے ساتھ نہ تو آگ لے کے چلنا اور نہ ہی میرے نیچے سرخ چادر بچھانا۔“ [طبقات ابن سعد: 59/8]
اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید یا احادیث میں تحریف کرنا باعث شرم ہی نہیں بلکہ یہود کی تقلید بھی ہے اور جہنم میں دخول کا سرٹیفیکیٹ بھی۔
اللہ ہمیں ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رکھے۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
Sahih Muslim Hadith 2241 in Urdu
نصر بن عمران الضبعي ← عبد الله بن العباس القرشي