🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب استئذان النبي صلى الله عليه وسلم ربه عز وجل في زيارة قبر امه:
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے رب سے اجازت طلب کرنا اپنی والدہ کی قبر دیکھنے کی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 977 ترقیم شاملہ: -- 2261
ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِيِّ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَأُرَاهُ، عَنْ أَبِيهِ الشَّكُّ مِنْ أَبِي خَيْثَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي سِنَانٍ.
ابوخیثمہ نے زبید الیامی سے، انہوں نے محارب بن دثار سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے، میرا خیال ہے اپنے والد سے، شک ابوخیثمہ کی طرف سے ہے۔۔۔ اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (اسی طرح) سفیان نے علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے سلیمان بن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ (اسی طرح) معمر نے عطاء خراسانی سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ان سب (زبید، سفیان اور معمر) نے ابوسنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2261]
امام صاحب نے مذکورہ بالا روایت اپنے متعدد اوراساتذہ سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2261]
ترقیم فوادعبدالباقی: 977
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيبصحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥عطاء بن أبي مسلم الخراساني، أبو عثمان، أبو محمد، أبو أيوب، أبو صالح
Newعطاء بن أبي مسلم الخراساني ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥معمر بن أبي عمرو الأزدي، أبو عروة
Newمعمر بن أبي عمرو الأزدي ← عطاء بن أبي مسلم الخراساني
ثقة ثبت فاضل
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← معمر بن أبي عمرو الأزدي
ثقة حافظ
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن رافع القشيري، أبو عبد الله
Newمحمد بن رافع القشيري ← عبد بن حميد الكشي
ثقة
👤←👥محمد بن أبي عمر العدني، أبو عبد الله
Newمحمد بن أبي عمر العدني ← محمد بن رافع القشيري
ثقة
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب
Newبريدة بن الحصيب الأسلمي ← محمد بن أبي عمر العدني
صحابي
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي
Newسليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث
Newعلقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← علقمة بن مرثد الحضرمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥قبيصة بن عقبة السوائي، أبو عامر
Newقبيصة بن عقبة السوائي ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← قبيصة بن عقبة السوائي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب
Newبريدة بن الحصيب الأسلمي ← ابن أبي شيبة العبسي
صحابي
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي
ثقة
👤←👥محارب بن دثار السدوسي، أبو مطرف، أبو دثار، أبو كردوس، أبو النضر
Newمحارب بن دثار السدوسي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
ثقة
👤←👥زبيد بن الحارث اليامي، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newزبيد بن الحارث اليامي ← محارب بن دثار السدوسي
ثقة ثبت
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← زبيد بن الحارث اليامي
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا
Newيحيى بن يحيى النيسابوري ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة ثبت إمام
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2261 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2261
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مختار مطلق نہیں تھے۔
بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پابند اور مامور تھے اور کوئی کام اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر نہیں کرتے تھے۔

ابن سیرین،
ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ اور امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے زیارت قبور مکروہ سمجھتے تھے لیکن ان کے بعد کے ائمہ کے نزدیک مردوں کے لیے قبروں کی زیارت کرنا بالاتفاق جائزہے۔
عورتوں کے بارے میں اختلاف ہے اکثریت کے نزدیک اگر خلاف شرع امور کا ارتکاب نہ کرے بلکہ موت اور آخرت کی فکر کرنے کے باعث ہو تو جائز ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیارت قبورکا جو مقصد بیان کیا ہے،
اس مقصد کے مرد اور عورت دونوں ہی محتاج ہیں۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کی قبر پر جانے کی اجازت تو مل گئی،
لیکن استغفار کی اجازت نہیں ملی۔
علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے تو اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ملت اسلام کے سوا کسی اور دین پر مرنے والے کے لیے استغفار کی اجازت نہیں ہے۔
لیکن کچھ علماء کا خیال ہے استغفار تو اس کے لیے ہے جو غیر معصوم ہو یا گناہگار ہو،
اورآپ کی والدہ سے تو کوئی گناہ سرزد نہیں ہوا۔
اس پر سوال یہ ہے کہ اگر معصوم کے لیے استغفار کی ضرورت نہیں ہے تو پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری سورۃ،
سورہ نصر میں استغفار کا حکم کیوں دیا گیا کیا اس سے یہ وہم نہیں پیدا ہو سکتا کہ شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی گناہ کیا ہو،
جب کہ اصل حقیقت ہے کہ استغفار رفع درجات کا بھی باعث ہے۔
برحال علامہ سیوطی نے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین کے بارے میں تین نظریات پیش کیے ہیں۔
وہ محل نظر ہیں۔
لیکن جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اس مسئلے کو عام مجالس میں موضوع سخن بنانا درست نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2261]