صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب اجر الخازن الامين والمراة إذا تصدقت من بيت زوجها غير مفسدة بإذنه الصريح او العرفي.
باب: خازن امانتدار اور عورت کو صدقہ کا ثواب ملنا جب وہ اپنے شوہر کی اجازت سے خواہ صاف اجازت ہو یا دستور کی راہ سے اجازت ہو صدقہ دے۔
ترقیم عبدالباقی: 1024 ترقیم شاملہ: -- 2367
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابن نمیر نے کہا: ہمیں میرے والد اور ابومعاویہ نے اعمش سے اسی (مذکورہ بالا) سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2367]
مصنف اس کے ہم معنی روایت دوسرے استاد سے اعمش ہی کی سند سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2367]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1024
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية محمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش | ثقة | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن خازم الأعمى | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2367 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2367
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
کسی صدقہ وخیرات میں انسان کا جس قدر دخل اور عمل ہے اس کے مطابق اسے اجر ملے گا۔
اور ہر انسان اپنی جگہ اجر لے گا وہ دوسرے ساتھی یا حصہ دار کے اجر میں کسی کمی کا سبب نہیں بنے گا اور بیوی کے لیے عرفی اجازت کافی ہے ہاں اگر اتفاق کی صورت خصوصی ہو عام طور پر کیے جانے والا معروف خرچ نہ ہو تو پھر خصوصی اور صریح اجازت کی ضروت ہوگی۔
بگاڑ یا خرابی کی صورت یہ ہے کہ اپنی ضرورت اور حاجت کی چیز بلا اذن صریح کس کو دے دے۔
فوائد ومسائل:
کسی صدقہ وخیرات میں انسان کا جس قدر دخل اور عمل ہے اس کے مطابق اسے اجر ملے گا۔
اور ہر انسان اپنی جگہ اجر لے گا وہ دوسرے ساتھی یا حصہ دار کے اجر میں کسی کمی کا سبب نہیں بنے گا اور بیوی کے لیے عرفی اجازت کافی ہے ہاں اگر اتفاق کی صورت خصوصی ہو عام طور پر کیے جانے والا معروف خرچ نہ ہو تو پھر خصوصی اور صریح اجازت کی ضروت ہوگی۔
بگاڑ یا خرابی کی صورت یہ ہے کہ اپنی ضرورت اور حاجت کی چیز بلا اذن صریح کس کو دے دے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2367]
محمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش