🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب ذكر الخوارج وصفاتهم:
باب: خوارج اور ان کی صفات کا ذکر۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1063 ترقیم شاملہ: -- 2449
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ مُنْصَرَفَهُ مِنْ حُنَيْنٍ، وَفِي ثَوْبِ بِلَالٍ فِضَّةٌ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبِضُ مِنْهَا يُعْطِي النَّاسَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ، قَالَ: " وَيْلَكَ وَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ لَقَدْ خِبْتَ وَخَسِرْتَ إِنْ لَمْ أَكُنْ أَعْدِلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَقْتُلَ هَذَا الْمُنَافِقَ، فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ يَتَحَدَّثَ النَّاسُ أَنِّي أَقْتُلُ أَصْحَابِي، إِنَّ هَذَا وَأَصْحَابَهُ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنْهُ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ "،
لیث نے یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چاندی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کے لوگوں کو دے رہے تھے۔ تو اس نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) عدل کیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے لیے ویل (ہلاکت یا جہنم) ہو! اگر میں عدل نہیں کر رہا تو کون عدل کرے گا؟ اگر میں عدل نہیں کر رہا تو میں ناکام ہو گیا اور خسارے میں پڑ گیا۔ اس پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کو قتل کر دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (میں اس بات سے) اللہ کی پناہ (مانگتا ہوں)! کہ لوگ ایسی باتیں کریں کہ میں اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہوں۔ یہ شک یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے، وہ ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا، (یہ لوگ) اس طرح اس (دین اسلام) سے نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے (آگے) نکل جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2449]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حنین سے واپسی کے وقت جعرانہ میں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ جبکہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے میں کچھ چاندی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مٹھی بھر بھر کر لوگوں کو دے رہے تھے تو اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! انصاف کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو تباہ ہو، اگر میں عدل نہیں کر رہا تو عدل کون کرے گا؟ تو ناکام ہوا اور خسارے میں پڑا۔ اگر میں عدل نہیں کر رہا ہوں (جس کا متبوع و مقتدی ہی نعوذ باللہ) غیر منصف ہے تو پھر تابع اور مقتدی کی حالت کیا ہوگی تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ لوگ باتیں کریں کہ میں اپنے ہی ساتھیوں کو مروا دیتا ہوں یہ اور اس کے ساتھی قرآن پڑھیں گے اور وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اس سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے [صحيح مسلم/كتاب الزكاة/حدیث: 2449]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1063
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير
Newمحمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري
صدوق إلا أنه يدلس
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← محمد بن مسلم القرشي
ثقة ثبت
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله
Newمحمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
3138
شقيت إن لم أعدل
صحيح مسلم
2449
يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يمرقون منه كما يمرق السهم من الر
سنن ابن ماجه
172
يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية
مسندالحميدي
1308
ويحك، فمن يعدل إذا لم أعدل؟
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2449 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2449
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
خبت و خسرت:
اگر مخاطب کے صیغے ہوں (اور واضح صورت یہی ہے)
تو معنی ہو گا جس کو ایسا مقتدیٰ اور پیشوا ملا جو غیر منصف ہے اس کی ناکامی و نامرادی یا نقصان میں کیا شبہ ہو سکتا ہے اور اگر متکلم کا صیغہ ہو تو معنی ہو گا اگر میں مقتدیٰ اور پیشوا ہو کر بھی عادل نہیں ہوں،
تو پھر مجھ سے زیادہ ناکام اور نامراد گھاٹے کا شکار کون ہے۔
(2)
لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهم:
ان کے حلق اور حنجرہ سے نہیں اترنا۔
ان کے دل اس کے فہم و معرفت سے عاری ہیں،
اور اس کی تلاوت سے سوائے طوطے کی طرح الفاظ دہرانے سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے،
یا ان کی انتہا پسندی اور حرفیت پسندی کی بنا پر ان کا عمل اور تلاوت اوپر نہیں چڑھتی اور اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتی۔
(3)
يمرقون منه:
قراءت سے بلا فائدہ اور فہم و سمجھ نکل جاتے ہیں۔
اس سے ان کے دل و دماغ متاثر نہیں ہوتے۔
(4)
كَمَا يَمْرُقُ السَّهمُ مِنَ الرَّمِيَّة:
جس طرح تیر،
شکار سے اس حالت میں نکل جاتا ہے کہ اس کی کوئی چیز اسی کو نہیں لگی ہوتی۔
الرمية اس شکار کو کہتے ہیں جس پر تیر پھینکا جاتا ہے۔
یعنی فعيلة،
مفعولۃ کے معنی میں ہے۔
فوائد ومسائل:
یہ واقعہ 8 ہجری میں حنین سے واپسی پر جعرانہ کے مقام پر پیش آیا۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کپڑے سے ہرگزرنے والے کو چاندی کی مٹھی عنایت فرما رہے تھے اور اس میں دینی حکمت ومصلحت کے تحت کمی وبیشی ہو سکتی ہے،
محض خواہش نفس سے یہ کام نہیں ہو سکتا اور اس بدبخت نے اس کو خواہش نفس کا شاخسانہ قرار دے کر یہ گستاخانہ بات کہہ ڈالی۔
جس اُمت کا رسول ہی یہ رویہ اختیار کرے اس میں عدل وانصاف کہاں سے پیدا ہو سکتا ہے۔
اور اسے عدل وانصاف کا حکم کیسے دیا جا سکتا ہے۔
لیکن انتہا پسند لوگ جو دینی حکم اور مصالح کو نہیں سمجھتے۔
وہ ہر جگہ ایسا ہی رویہ اپناتے ہیں اور شرعی حکموں پر اعتراض کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عقل کا مالک سمجھ کر ان کا انکار کر دیتے ہیں اور اپنے جرم کی پردہ پوشی کے لیے یہ کہتے ہیں یہ شرعی حکم ہی نہیں ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2449]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث172
خوارج کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں تشریف فرما تھے، اور آپ بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں سے سونا، چاندی اور اموال غنیمت (لوگوں میں) تقسیم فرما رہے تھے، تو ایک شخص نے کہا: اے محمد! عدل و انصاف کیجئیے، آپ نے عدل سے کام نہیں لیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا برا ہو، اگر میں عدل و انصاف نہ کروں گا تو میرے بعد کون عدل کرے گا؟، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئیے، میں اس منافق کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے اور بھی ساتھی ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں، لیک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/(أبواب كتاب السنة)/حدیث: 172]
اردو حاشہ:
(1)
جس شخص نے یہ گستاخی کی اس کا نام ذُوالْخُوَيْصِرَه تھا۔
اور یہ واقعه غزوہ حنین کے بعد پیش آیا۔
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانه کے مقام پر غزوہ حنین سے حاصل ہونے والا مال غنیمت مجاہدین میں تقسیم فرمایا۔

(2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عمل یا فرمان پر اعتراض کرنا یا اسے غلط قرار دینا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ناقابل عمل قرار دینا منافقوں کا شیوہ ہے، مومن سے ایسی حرکت کا صدور ممکن نہیں۔
 
(3)
اس واقعہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلم وعفو، اور صبروبرداشت کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ ایسی گستاخی کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سزا نہیں دی۔

(4)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب اس شخص کو منافق قرار دے کر قتل کرنے کی اجازت طلب کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تردید نہیں فرمائی۔
گویا اس شخص کے منافق ہونے کی تصدیق فرمائی، تاہم حکمت کی بنا پر اسے سزائے موت دینے سے احتراز فرمایا۔

(5)
اس شخص کی حرکت میں ارشاد نبوی کی حجت کا انکار پایا جاتا ہے، بعد میں خوارج نے بھی بہت سی احادیث کا انکار کیا کیونکہ ان کے خیال میں وہ قرآن کے اس مزعومہ مفہوم کے خلاف تھیں جو ان کے خیال میں قرآن کا صحیح مطلب تھا۔
لیکن اہل سنت کی نظر میں قرآن مجید کی آیات کا وہی مطلب درست ہوتا ہے جس کی تائید صحیح احادیث سے ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 172]

الشيخ محمد ابراهيم بن بشير حفظ الله، فوائد و مسائل، مسند الحميدي، تحت الحديث:1308
1308- سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعرانہ کے مقام پر غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا، کچھ ٹکڑے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا اس نے عرض کی: اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام لیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام نہیں لے رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا ستیاناس ہو، اگر میں عدل سے کام نہیں لو ں گا، تو پھر کو ن عدل سے کام لے گا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:1308]
فائدہ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہر چیز میں اس قدر کمال انصاف کرتے تھے کہ اس کی مثال نہیں ملتی لیکن بعض فتنہ پرور منافق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پرشکوک وشبہات کا اظہار کرتے رہتے تھے، کیونکہ منافقین حقیقت میں تو کافر ہی ہوتے تھے لیکن اوپر اوپر سے اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کی قسم! اب بھی منافق لوگ ہیں جو اوپر اوپر سے اسلام کا نام لیتے ہیں حقیقت میں وہ یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ نیز اس حدیث میں ان بعض بد بخت لوگوں کا ذکر ہے جو قرآن تو پڑھیں گے لیکن قرآن کریم پرعمل کرنے سے دور ہوں گے، اللہ کی قسم! ایسے لوگ اب بھی موجود ہیں، اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کی اصلاح فرمائے کہ شرور و فتن عام ہو رہے مصلحین پر حالات تنگ کر دیے گئے ہیں۔
[مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 1306]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3138
3138. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں مال غنیمت تقسیم کررہے تھے کہ اس دوران میں ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ ذرا انصاف سے کام لیں۔ آپ نے فرمایا: اگر میں عدل سے تقسیم نہ کروں تو بدبخت ہوجاؤں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3138]
حدیث حاشیہ:
شقیت کا لفظ دونوں طرح منقول ہے یعنی بصیغہ حاضر اور بصیغہ متکلم، پہلے کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں ہی غیرعادل ہوں تو پھر تو تو بدبخت ہوا کیو ں کہ تو میرا تابع ہے۔
جب مرشد اور متبوع عادل نہ ہو تو مرید کا کیا ٹھکانا اور یہ حدیث آئندہ پورے طور سے مذکور ہوگی۔
باب کی مناسبت یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خمس میں سے اپنی رائے کے موافق کسی کو کم یازیادہ دیا ہوگا، جب ذوالخویصرہ نے یہ اعتراض کیا، کیوں کہ باقی چار حصے تو برابر سب مجاہدین میں تقسیم ہوتے ہیں۔
مگر اس کا اعتراض غلط تھا کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بابت ایسا گمان کیا۔
جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر بنی نوع انسان میں کوئی عادل منصف پیدا نہیں ہوا، نہ ہوگا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3138]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3138
3138. حضرت جابر بن عبداللہ ؓ ہی سے روایت ہے، انھوں نے کہا: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں مال غنیمت تقسیم کررہے تھے کہ اس دوران میں ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: آپ ذرا انصاف سے کام لیں۔ آپ نے فرمایا: اگر میں عدل سے تقسیم نہ کروں تو بدبخت ہوجاؤں۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3138]
حدیث حاشیہ:

حدیث کے آخری حصے کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بدبخت!اگر میں عدل نہ کروں تو اور کون عدل کرے گا۔
امام نووی ؒنے اس معنی کو راجح قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 291/6)
چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی صوابدید کے مطابق مال خمس تقسیم کرنے کا اختیار تھا اور آپ نے کسی کو اس کی نمایاں خدمات کی وجہ سے زیادہ دیا ہو گا تبھی تو اعتراض کرنے والے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بے انصافی کا الزام لگایا جو مبنی برحقیقت نہیں تھا۔

بہرحال امام بخاری ؒ کا موقف ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد آنے والے حکمرانوں کو غنیمت فے جزیے اور مال خمس وغیرہ میں صوابدیدی اختیارات حاصل ہیں۔
آپ جنھیں چاہیں دیں اور جنھیں چاہیں نہ دیں۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3138]