🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. باب اجر المفطر في السفر إذا تولى العمل:
باب: سفر میں روزہ چھوڑنے والے کے اجر کا بیان جبکہ وہ خدمت والے کام میں لگا رہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1119 ترقیم شاملہ: -- 2623
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَصَامَ بَعْضٌ وَأَفْطَرَ بَعْضٌ، فَتَحَزَّمَ الْمُفْطِرُونَ وَعَمِلُوا، وَضَعُفَ الصُّوَّامُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ، قَالَ: فَقَالَ فِي ذَلِكَ: " ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ ".
ابوکریب، حفص، عاصم، مورق، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے کچھ نے روزہ رکھا اور کچھ نے روزہ چھوڑ دیا روزہ نہ رکھنے والے تو خدمت کے کام پر لگ گئے اور روزہ رکھنے والے خدمت کے کام میں کمزور پڑ گئے راوی نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا: روزہ افطار کرنے والے اجر پا گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2623]
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفرمیں تھے تو بعض نے روزہ رکھا اور بعض نےنہ رکھا تو بے روزہ خدمت کمر بستہ ہو گئےیا انھوں نے کمر بند باندھ لیے اور کام کرنے لگے اور روزے دار کام نہ کر سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو اجر بےروز لے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2623]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥مورق العجلي، أبو المعتمر
Newمورق العجلي ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥عاصم الأحول، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعاصم الأحول ← مورق العجلي
ثقة
👤←👥حفص بن غياث النخعي، أبو عمر
Newحفص بن غياث النخعي ← عاصم الأحول
ثقة
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← حفص بن غياث النخعي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2890
ذهب المفطرون اليوم بالأجر
صحيح مسلم
2622
ذهب المفطرون اليوم بالأجر
صحيح مسلم
2623
ذهب المفطرون اليوم بالأجر
سنن النسائى الصغرى
2285
ذهب المفطرون اليوم بالأجر
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2623 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2623
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(الف)
تحزم المفطرون:
روزہ نہ رکھنے والوں نے کمر بند کس لیے۔
(ب)
وہ خدمت کے لیے کمربستہ اور چوکس ہو گئے۔
(ج)
انہوں نے حزم و احتیاط کو اختیار کیا۔
فوائد ومسائل:
روزہ دار اپنی کمزوری اور ضعف کی وجہ سے اپنا کام بھی نہ کرسکے اور روزہ نہ رکھنے والوں نے اپنا کام بھی کیا اور روزہ داروں کا کام بھی کیا اس طرح انھوں نے روزہ داروں کی خدمت کر کے ثواب زیادہ کما لیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2623]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2285
سفر میں روزہ نہ رکھنا رکھنے سے بہتر ہے۔
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گر پڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2285]
اردو حاشہ:
(1) اتنی مشقت کے ساتھ نفل روزے سفر میں رکھنا کہ روزے دار اپنا کام بھی خود نہ کر سکے بلکہ دوسروں کو اس کا کام کرنا پڑے، بہتر نہیں۔ روزہ رکھنا سفر میں اس وقت بہتر ہے جب انسان عاجز نہ آئے اور لوگوں پر بوجھ نہ بنے۔
(2) ثواب لے گئے۔ یعنی خدمت کا ثواب۔ ویسے یہ جملہ ترجیح کے موقع پر بولا جاتا ہے، گویا اس دن روزہ نہ رکھنے والے روزہ رکھنے والوں سے بڑھ گئے۔ واللہ أعلم
(3) جہاد میں ایک دوسرے کا تعاون کرنا بہت اجر والا کام ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2285]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2890
2890. حضرت انس ؓہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ ہم میں سے زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ جو لوگ روزے سے تھے وہ تو کوئی کام نہ کرسکے اور جن حضرات نے روزہ نہیں ر کھا تھا انہوں نے سواریوں کو اٹھایا اور دوسروں کی خوب خوب خدمت کی اور دوسرے تمام کام کیے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو روزہ نہ رکھنے والوں نے اجروثواب لوٹ لیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2890]
حدیث حاشیہ:
یعنی روزہ داروں سے زیادہ ان کو ثواب ملا‘ معلوم ہوا کہ جہاد میں مجاہدین کی خدمت کرنا روزے سے زیادہ اجر رکھتا ہے۔
روزہ ایک انفرادی نیکی ہے مگر مجاہدین کی خدمت پوری ملت کی خدمت ہے‘ اس لئے اس کو بہرحال فوقیت حاصل ہے حدیث کا مفہوم یہ بھی ہے کہ روزہ اگرچہ خیر محض ہے اور مخصوص و مقبول عبادت ہے پھر بھی سفر وغیرہ میں ایسے مواقع پر جبکہ اس کی وجہ سے دوسرے اہم کام رک جانے کا خطرہ ہو تو روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
جو واقعہ حدیث میں ہے اس میں بھی یہی صورت پیش آئی تھی کہ جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام تھکن وغیرہ کی وجہ سے نہ کرسکے لیکن بے روزہ داروں نے پوری توجہ سے تمام خدمات انجام دیں‘ اس لئے ان کا ثواب روزہ رکھنے والوں سے بھی بڑھ گیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2890]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2890
2890. حضرت انس ؓہی سے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں تھے۔ ہم میں سے زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ جو لوگ روزے سے تھے وہ تو کوئی کام نہ کرسکے اور جن حضرات نے روزہ نہیں ر کھا تھا انہوں نے سواریوں کو اٹھایا اور دوسروں کی خوب خوب خدمت کی اور دوسرے تمام کام کیے۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو روزہ نہ رکھنے والوں نے اجروثواب لوٹ لیا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2890]
حدیث حاشیہ:

امام بخاری ؒنے اس عنوان کے تحت تین احادیث ذکر کی ہیں:
پہلی حدیث میں بڑے کا چھوٹے کی خدمت کرنا، دوسری حدیث میں چھوٹے کا بڑے کی اورتیسری حدیث میں ہم عمر کی خدمت کرنامذکور ہے۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جہاد کے موقع پر مجاہدین کی خدمت کرناروزے سے زیادہ اجروثواب کا باعث ہے کیونکہ افطار کرنے والوں کو اپنے عمل کا ثواب ملا اور روزے داروں کے ثواب کا مثل بھی ان کو ثواب ملا۔
چونکہ انھوں نے روزے داروں کی خدمت کی تھی اور ان کی سواریوں کو پانی پلایا اور چارہ ڈالا تھا، اس لیے وہ روزے داروں سے زیادہ ثواب کے حق دار ٹھہرے۔

ان احادیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے ہم عمر کی خدمت کرنا جائز ہے بلکہ اپنے سے چھوٹے کی بھی۔
بڑے کی خدمت کرنا تو اخلاق فاضلہ کی علامت ہے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2890]