صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب بيان نسخ قوله تعالى: {وعلى الذين يطيقونه فدية} بقوله: {فمن شهد منكم الشهر فليصمه}:
باب: آیت «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ» کے منسوخ ہونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1145 ترقیم شاملہ: -- 2686
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: " كُنَّا فِي رَمَضَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ فَافْتَدَى بِطَعَامِ مِسْكِينٍ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ سورة البقرة آية 185 ".
عمرو بن سواد عامری، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشجع، یزید مولیٰ سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رمضان کے مہینے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ہم سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور ایک مسکین کو کھانا کھلا کر ایک روزے کا فدیہ دے دیتا، یہاں تک کہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ» تو جو تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو تو اسے چاہیے کہ وہ روزہ رکھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2686]
حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ہم میں سے جو چاہتا روزہ رکھ لیتا اور جو چاہتا روزہ نہ رکھتا، اور ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے دیتا حتی کہ یہ آیت اتری: ﴿فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [سورة البقرة: 185] ”جو شخص تم میں سے اس ماہ (رمضان) کو پا لے (اس میں مقیم ہو) وہ روزے رکھے۔““ [صحيح مسلم/كتاب الصيام/حدیث: 2686]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1145
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2686 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2686
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
آیت مبارکہ:
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کے محکم اورمنسوخ ہونے میں اختلاف ہے،
کیونکہ:
﴿الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کے معنی ومفہوم میں اختلاف ہے لیکن آیت کا سیاق وسباق اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ آغاز اسلام میں جب لوگ روزہ رکھنے کے عادی نہیں تھے توعارضی طور پر روزہ نہ رکھنے کی صورت میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ مقرر کیا گیا،
لیکن فرمایا یہی گیا:
﴿وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ اور تمہارے حق میں روزہ رکھنا ہی بہتر ہے نیز اس فقروفاقہ کے دور میں کتنے لوگ فدیہ ادا کرنے کی سکت رکھتے تھے بعد میں یہ عارضی رخصت بھی منسوخ ہو گئی،
ہاں بوڑھا اورعورت اور دائمی مریض،
جن کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے،
وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں یا جمہور کے نزدیک ایک مدغلہ دے دیں اور احناف کے نزدیک نصف صاع اور ان کے نزدیک صاع بھی ساڑھے چار سیر کا ہے،
لہٰذا سوا دو سیر گندم فدیہ دینا ہو گا۔
فوائد ومسائل:
آیت مبارکہ:
﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کے محکم اورمنسوخ ہونے میں اختلاف ہے،
کیونکہ:
﴿الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ﴾ کے معنی ومفہوم میں اختلاف ہے لیکن آیت کا سیاق وسباق اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کا تقاضا یہی ہے کہ آغاز اسلام میں جب لوگ روزہ رکھنے کے عادی نہیں تھے توعارضی طور پر روزہ نہ رکھنے کی صورت میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ مقرر کیا گیا،
لیکن فرمایا یہی گیا:
﴿وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ اور تمہارے حق میں روزہ رکھنا ہی بہتر ہے نیز اس فقروفاقہ کے دور میں کتنے لوگ فدیہ ادا کرنے کی سکت رکھتے تھے بعد میں یہ عارضی رخصت بھی منسوخ ہو گئی،
ہاں بوڑھا اورعورت اور دائمی مریض،
جن کے لیے روزہ رکھنا ممکن نہیں ہے،
وہ ایک مسکین کو کھانا کھلائیں یا جمہور کے نزدیک ایک مدغلہ دے دیں اور احناف کے نزدیک نصف صاع اور ان کے نزدیک صاع بھی ساڑھے چار سیر کا ہے،
لہٰذا سوا دو سیر گندم فدیہ دینا ہو گا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2686]
Sahih Muslim Hadith 2686 in Urdu
يزيد بن أبي عبيد الأسلمي ← سلمة بن الأكوع الأسلمي