علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب تحريم الصيد الماكول البري ، وما اصله ذٰلك علي المحرم بحج او عمرة او بهما
باب: حج یا عمرہ یا ان دونوں کا احرام باندھنے والے پر خشکی کا شکار کرنے کی حرمت کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1196 ترقیم شاملہ: -- 2851
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ فَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَمِنَّا غَيْرُ الْمُحْرِمِ، إِذْ بَصُرْتُ بِأَصْحَابِي يَتَرَاءَوْنَ شَيْئًا، فَنَظَرْتُ فَإِذَا حِمَارُ وَحْشٍ، فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي وَأَخَذْتُ رُمْحِي، ثُمَّ رَكِبْتُ فَسَقَطَ مِنِّي سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ: نَاوِلُونِي السَّوْطَ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، فَنَزَلْتُ فَتَنَاوَلْتُهُ، ثُمَّ رَكِبْتُ فَأَدْرَكْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ، وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ، فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: كُلُوهُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَأْكُلُوهُ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا، فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ، فَقَالَ: " هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ ".
صالح بن کیسان نے کہا: میں نے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے مولیٰ ابومحمد سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ جب ہم (مدینہ سے تین منزل دور وادی) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرام کی حالت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا۔ اچانک میری نگاہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے (فوراً) اپنے گھوڑے پر زین کسا اپنا نیزہ تھاما اور سوار ہو گیا۔ (جلدی میں) مجھ سے میرا کوڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرام باندھے ہوئے تھے کہا: مجھے کوڑا پکڑا دو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس (شکار) میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گے۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنایا اور اسے گرا لیا۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔ ان میں سے کچھ نے کہا: اسے کھا لو اور کچھ نے کہا: اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کچھ فاصلے پر) ہم سے آگے تھے۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا (اور اس کے بارے میں پوچھا) آپ نے فرمایا: ”وہ حلال ہے اسے کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2851]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، حتی کہ جب ہم قاحہ مقام پر پہنچے ہم میں سے بعض محرم تھے، بعض غیر محرم تھے، اچانک میں نے اپنے ساتھیوں کو دیکھا، وہ ایک دوسرے کو کوئی چیز دکھا رہے ہیں، میں نے دیکھا تو وہ جنگلی گدھا تھا، میں نے اپنے گھوڑے پر کاٹھی ڈالی اور اپنا نیزہ لے کر میں سوار ہو گیا تو مجھ سے میرا کوڑا گر گیا، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا اور وہ سب محرم تھے، مجھے میرا کوڑا پکڑا دو، انہوں نے جواب دیا، اللہ کی قسم! شکار کے سلسلہ میں ہم تمہاری کسی قسم کی مدد نہیں کریں گے تو اتر کر میں نے اپنا کوڑا اٹھایا اور پھر سوار ہو گیا اور میں نے پیچھے سے جنگلی گدھے کو جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا، میں نے اسے نیزے کا نشانہ بنایا اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں (اسے شکار کر لیا) اور اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آ گیا، بعض کہنے لگے اسے کھا لو اور بعض نے کہا نہ کھاؤ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ حلال ہے، اسے کھا لو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2851]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1196
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2854
| رأوا حمارا وحشيا قبل أن يراه فلما رأوه تركوه حتى رآه أبو قتادة فركب فرسا له يقال له الجرادة فسألهم أن يناولوه سوطه فأبوا فتناوله فحمل فعقره ثم أكل فأكلوا فندموا فلما أدركوه قال هل معكم منه شيء ق |
صحيح البخاري |
2914
| رأى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه فسأل أصحابه أن يناولوه سوطه فأبوا فسألهم رمحه فأبوا فأخذه ثم شد على الحمار فقتله فأكل منه بعض أصحاب النبي وأبى بعض فلما أدركوا رسول الله سألوه عن ذلك قال إنما هي طعمة أطعمكموها الله |
صحيح البخاري |
5407
| معكم منه شيء فناولته العضد فأكلها حتى تعرقها وهو محرم |
صحيح البخاري |
1823
| كلوه حلال |
صحيح البخاري |
1822
| اصدنا حمار وحش وإن عندنا فاضلة فقال رسول الله لأصحابه كلوا وهم محرمون |
صحيح مسلم |
2851
| نظرت فإذا حمار وحش فأسرجت فرسي وأخذت رمحي ثم ركبت فسقط مني سوطي فقلت لأصحابي وكانوا محرمين ناولوني السوط فقالوا والله لا نعينك عليه بشيء فنزلت فتناولته ثم ركبت فأدركت الحمار من خلفه وهو وراء أكمة فطعنته برمحي فعقرته فأتيت به أصحابي فقال بعضهم كلوه وقال بع |
صحيح مسلم |
2855
| خذوا ساحل البحر حتى تلقوني قال فأخذوا ساحل البحر فلما انصرفوا قبل رسول الله أحرموا كلهم إلا أبا قتادة فإنه لم يحرم فبينما هم يسيرون إذ رأوا حمر وحش فحمل عليها أبو قتادة فعقر منها أتانا فنزلوا فأكلوا من لحمها قال فقالوا أكلنا لحما |
سنن النسائى الصغرى |
4350
| هل معكم منه شيء قلنا نعم قال فاهدوا لنا فأتيناه منه فأكل منه وهو محرم |
سنن النسائى الصغرى |
2828
| كلوه وهم محرمون |
سنن النسائى الصغرى |
2827
| كلوا وهم محرمون |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
311
| إنما هي طعمة اطعمكموها الله |
بلوغ المرام |
599
| فكلوا ما بقي من لحمه |
Sahih Muslim Hadith 2851 in Urdu
نافع بن عياش ← الحارث بن ربعي السلمي