صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب بيان وجوه الإحرام وانه يجوز إفراد الحج والتمتع والقران وجواز إدخال الحج على العمرة ومتى يحل القارن من نسكه:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2935
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، قَالَتْ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: " يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ؟ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَى التَّنْعِيمِ، قَالَتْ: فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي، فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ، قُلْتُ: لَهُ وَهَلْ تَرَى مِنْ أَحَدٍ؟، قَالَتْ: فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ ".
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! لوگ تو وہ (عملوں کا) ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں (صرف) ایک (عمل کا) ثواب لے کر لوٹوں؟ تو (عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات سن کر) آپ نے عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انہیں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو) تنعیم تک لے جائے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) چنانچہ عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا (راستے میں) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر ڈھانپنے کے لیے (بار بار) اسے اوپر اٹھاتی تو (عبدالرحمان رضی اللہ عنہ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے (کہا اوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟) میں ان سے کہتی: آپ یہاں کسی (اجنبی) کو دیکھ رہے ہیں؟ (جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا) فرماتی ہیں: میں نے (وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر) تلبیہ پکارا (اور عمرہ کیا) پھر ہم (واپس آئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔ آپ (اس وقت) مقام حصبہ پر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2935]
حضرت عائشہ رضی الله تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا لوگ دو ثواب لے کر لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر واپس جاؤں گی؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ اس کو لے کر تنعیم جاؤ، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں، تو اس نے مجھے اپنے اونٹ پر پیچھے سوار کر لیا تو میں اپنی گردن کو ننگی کرنے کے لیے اپنے دوپٹے کو اٹھانے لگی تو وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے (کہ پردہ کیوں نہیں کرتی ہو) میں نے اس سے کہا، تجھے کوئی نظر آ رہا ہے (جس سے پردہ کروں) میں نے عمرہ کا احرام باندھا، پھر ہم آ گے بڑھے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مَحصَب میں پہنچ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2935]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صفية بنت شيبة القرشية ← عائشة بنت أبي بكر الصديق