🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب بيان وجوه الإحرام وانه يجوز إفراد الحج والتمتع والقران وجواز إدخال الحج على العمرة ومتى يحل القارن من نسكه:
باب: احرام کی اقسام کابیان، اور حج افراد، تمتع، اور قران تینوں جائز ہیں، اور حج کا عمرہ پر داخل کرنا جائز ہے، اور حج قارن والا اپنے حج سے کب حلال ہو جائے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1211 ترقیم شاملہ: -- 2934
وحَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُجْزِئُ عَنْكِ طَوَافُكِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّكِ وَعُمْرَتِكِ ".
مجاہد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہیں مقام سرف سے ایام شروع ہوئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہوئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہاری طرف سے تمہارا صفا مروہ کا طواف تمہارے حج اور عمرے (دونوں) کے لیے کافی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2934]
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں حیض مقام سرف میں شروع ہوا اور وہ اس سے عرفہ کے دن پاک ہوئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: تیرا صفا اور مروہ کا طواف تمہیں تمہارے حج اور عمرہ کے لیے کفایت کرے گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 2934]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1211
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج
Newمجاهد بن جبر القرشي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة إمام في التفسير والعلم
👤←👥عبد الله بن أبي نجيح الثقفي، أبو يسار
Newعبد الله بن أبي نجيح الثقفي ← مجاهد بن جبر القرشي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن نافع المخزومي، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن نافع المخزومي ← عبد الله بن أبي نجيح الثقفي
ثقة حافظ
👤←👥زيد بن الحباب التميمي، أبو الحسين
Newزيد بن الحباب التميمي ← إبراهيم بن نافع المخزومي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← زيد بن الحباب التميمي
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
2933
يسعك طوافك لحجك وعمرتك
صحيح مسلم
2934
يجزئ عنك طوافك بالصفا والمروة عن حجك وعمرتك
سنن أبي داود
1897
طوافك بالبيت وبين الصفا و المروة يكفيك لحجتك وعمرتك
بلوغ المرام
639
طوافك بالبيت وسعيك بين الصفا والمروة يكفيك لحجك وعمرتك
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 2934 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2934
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو مقام سرف پر حیض شروع ہوا عرفات میں انتہا کو پہنچا اور دس ذوالحجہ کو انھوں نے غسل کر کے طواف افاضہ کیا اور اس کے بعد صفا مروہ کی سعی کی،
اس طواف اور سعی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کے لیے کافی قراردیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2934]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1897
قران کرنے والے کے طواف کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: بیت اللہ کا تمہارا طواف اور صفا و مروہ کی سعی حج و عمرہ دونوں کے لیے کافی ہے۔‏‏‏‏ شافعی کہتے ہیں: سفیان نے اس روایت کو کبھی عطاء سے اور انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، اور کبھی عطاء سے مرسلاً روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1897]
1897. اردو حاشیہ: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے شروع میں عمرے کا احرام باندھا تھا مگر حیض کے عارضے کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے عمرے کو چھوڑ کراب حج کی نیت کرلو اور حج کے اعمال ادا کرلو۔اس طرح وہ قارن ہوگئیں۔اور پھر انہوں نے دسویں زی الحجہ کو جو طواف افاضہ (زیارہ) اورسعی کی اسے ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرے اور حج دونوں کے لئے کافی قرار دے دیا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1897]

علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 639
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تیرا بیت اللہ کا طواف کر لینا صفا اور مروہ کے مابین سعی کر لینا حج اور عمرے کے لئے کافی ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/حدیث: 639]
639فوائد و مسائل:
➊ معلوم رہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے تلبیہ عمرے کا کہا تھا مگر وہ ایام ماہواری میں مبتلا ہو گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمرے کو چھوڑ دو اور انہیں حج کا احرام باندھنے کا حکم دیا۔
➋ بعض روایات میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ارفضي عمرتك» «الرفض» کے معنی ہیں: ترک کرنا، یعنی عمرے کے اعمال و افعال کو نظر انداز کر دے۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ عمرے سے نکل جا اور اسے باطل کر دے۔ یہ ابطال حج اور عمرے میں صحیح نہیں بجز اس صورت کے کہ احکام سے فراغت کے بعد حلال ہو جائے۔ جب انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا تو اب وہ «قارنه» بن گئیں۔
➌ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ «قارن» کے لیے حج اور عمرہ دونوں کی طرف ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کافی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 639]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 2933
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، وہ مکہ آئیں تو بیت اللہ کے طواف سے پہلے ہی حیض شروع ہو گیا، انہوں نے تمام احکام ادا کیے، کیونکہ انہوں نے حج کا احرام باندھ لیا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوچ کے دن فرمایا: تیرا یہ طواف تیرے حج اور عمرہ کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے اس پر اکتفاء کرنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ عبدالرحمٰن کو تنعیم بھیجا... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2933]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حج قِران کیا تھا اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا:
تیرا طواف تیرے حج اور عمرہ کے لیے کافی ہے اور اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ قِران کے لیے ایک ہی طواف اور سعی کافی ہے حج اور عمرہ کے لیے الگ الگ طواف اور سعی کی ضرورت نہیں ہے اور جمہور کا یہی موقف ہے،
جیسا کہ گزر چکا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2933]