یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
42. باب جواز الطواف على بعير وغيره واستلام الحجر بمحجن ونحوه للراكب:
باب: اونٹ وغیرہ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف اور (سوار کے لئے) چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کا استلام کرنے کا جواز۔
ترقیم عبدالباقی: 1273 ترقیم شاملہ: -- 3074
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: " طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ، يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ، لِأَنْ يَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ، فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ ".
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی، انہوں نے ابن جریج سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف فرمایا، آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے۔ (سواری پر طواف اس لیے کیا) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں، اور آپ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں، لوگ آپ سے سوال کر لیں کیونکہ لوگوں نے آپ کے ارد گرد ہجوم کر لیا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3074]
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں بیت اللہ کا طواف اپنی سواری پر کیا، حجر اسود کو اپنی چھڑی لگاتے تھے، تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند ہو سکیں اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کر سکیں، کیونکہ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیرا ہوا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3074]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1273
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3074
| طاف رسول الله بالبيت في حجة الوداع على راحلته يستلم الحجر بمحجنه يراه الناس وليشرف وليسألوه فإن الناس غشوه |
صحيح مسلم |
3075
| طاف النبي في حجة الوداع على راحلته بالبيت بالصفا والمروة ليراه الناس وليشرف وليسألوه فإن الناس غشوه |
سنن أبي داود |
1880
| طاف النبي في حجة الوداع على راحلته بالبيت بالصفا و المروة ليراه الناس وليشرف وليسألوه فإن الناس غشوه |
سنن النسائى الصغرى |
2978
| طاف النبي في حجة الوداع على راحلته بالبيت بين الصفا والمروة ليراه الناس وليشرف وليسألوه إن الناس غشوه |
سنن النسائى الصغرى |
2986
| نزل عن الصفا حتى إذا انصبت قدماه في الوادي رمل حتى إذا صعد مشى |
Sahih Muslim Hadith 3074 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري