صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
64. باب استحباب بعث الهدي إلى الحرم لمن لا يريد الذهاب بنفسه واستحباب تقليده وفتل القلائد وان باعثه لا يصير محرما ولا يحرم عليه شيء بذلك:
باب: بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کا استحباب، اور بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا، اور نہ اس پر کوئی چیز حرام ہو گی۔
ترقیم عبدالباقی: 1321 ترقیم شاملہ: -- 3207
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حدثنا دَاوُدُ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا زَكَرِيَّاءُ ، كِلَاهُمَا عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، بِمِثْلِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
داود اور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انہوں نے مسروق سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے اسی سند (حدیث) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3207]
امام صاحب اپنے دو اور اساتذہ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3207]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1321
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3207 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3207
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایات سے ثابت ہوتا ہے اپنے علاقہ میں رہتے ہوئے قربانی بھیجنا مسنون ہے،
اور قربانی روانہ کرتے وقت اس کے امتیاز اور شناخت کے لیے تاکہ کوئی اس پر دست درازی نہ کرے گلے میں اون وغیرہ کو بٹ کر ہار ڈال دیا جائے گا،
اونٹ ہوں تو ان میں پرانی جوتیوں کو پرویا جائے گا،
قربانی اگر اونٹ ہو تو اس کو کوہان پر چیرا دیا جائے گا،
گائے یا بکری ہو تو صرف ہار ڈالیں گے،
جمہور کا نظریہ یہی ہے،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بکری کے گلے میں ہار نہیں ڈالا جائے گا،
اور آئمہ اربعہ کے نزدیک قربانی بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا،
اس لیے اس کے لیے کوئی چیزممنوع نہیں ہو گی۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں مجاہد اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ محرم ہوگا،
اور جب تک بیت اللہ میں ہدی ذبح نہیں کی جاتی اس پر ان تمام چیزوں سے اجتناب لازم ہو گا،
جن سے محرم اجنتاب کرتا ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایات سے ثابت ہوتا ہے اپنے علاقہ میں رہتے ہوئے قربانی بھیجنا مسنون ہے،
اور قربانی روانہ کرتے وقت اس کے امتیاز اور شناخت کے لیے تاکہ کوئی اس پر دست درازی نہ کرے گلے میں اون وغیرہ کو بٹ کر ہار ڈال دیا جائے گا،
اونٹ ہوں تو ان میں پرانی جوتیوں کو پرویا جائے گا،
قربانی اگر اونٹ ہو تو اس کو کوہان پر چیرا دیا جائے گا،
گائے یا بکری ہو تو صرف ہار ڈالیں گے،
جمہور کا نظریہ یہی ہے،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بکری کے گلے میں ہار نہیں ڈالا جائے گا،
اور آئمہ اربعہ کے نزدیک قربانی بھیجنے والا محرم نہیں ہو گا،
اس لیے اس کے لیے کوئی چیزممنوع نہیں ہو گی۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اقتداء میں مجاہد اور ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ محرم ہوگا،
اور جب تک بیت اللہ میں ہدی ذبح نہیں کی جاتی اس پر ان تمام چیزوں سے اجتناب لازم ہو گا،
جن سے محرم اجنتاب کرتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3207]
Sahih Muslim Hadith 3207 in Urdu
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق