🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب فضل المدينة ودعاء النبي صلى الله عليه وسلم فيها بالبركة وبيان تحريمها وتحريم صيدها وشجرها وبيان حدود حرمها:
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1363 ترقیم شاملہ: -- 3318
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔ اور آپ نے فرمایا: اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں حرم قرار دیتا ہوں، مدینہ کی دونوں حدوں کے درمیانی علاقہ کو، اس کے خار دار درخت نہ کاٹے جائیں اور اس کے شکار کو قتل نہ کیا جائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: مدینہ لوگوں کے لیے بہتر ہے، اگر وہ (اس کی خیر و برکت کو) جانتے ہوں، کوئی انسان اس کو بے نیازی اختیار کرتے ہوئے نہیں چھوڑے گا، مگر اللہ تعالیٰ اس کی جگہ، اس سے بہتر بندے کو بھیج دے گا، (جانے والا ہی خیر و برکت سے محروم ہو گا، اس کے جانے سے مدینہ میں کوئی کمی نہیں آئے گی) اور جو کوئی بندہ اس کی تنگیوں ترشیوں اور مشقتوں پر صبر کر کے وہاں پڑا رہے گا، تو میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا، اور اس کے حق میں شہادت دوں گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3318]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1363
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعد بن أبي وقاص الزهري، أبو إسحاقصحابي
👤←👥عامر بن سعد القرشي
Newعامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري
ثقة
👤←👥عثمان بن حكيم الأوسي، أبو سهل
Newعثمان بن حكيم الأوسي ← عامر بن سعد القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عثمان بن حكيم الأوسي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
3318
أحرم ما بين لابتي المدينة يقطع عضاهها يقتل صيدها المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه لا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة
سنن أبي داود
2038
من قطع منه شيئا فلمن أخذه سلبه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3318 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3318
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
عِضَاهٌ،
عِضَاهَةٌ اورعِضْهٰةٌ کی جمع ہے،
بڑا کانٹے دار درخت۔
(2)
لَاَوَاءٌ:
بھوک اورتنگدستی۔
(3)
جَهْدٌ:
مشقت وکلفت۔
فوائد ومسائل:

اس حدیث اور اس کے ہم معنی دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مدینہ طیبہ کا علاقہ بھی حرم ہے،
اور واجب الاحترام ہے،
اور اس میں ہر وہ عمل اور اقدام منع ہے جو اس کی عظمت اور حرمت کے خلاف ہو،
اس کے درختوں کا کاٹنا اور جانوروں کا شکار کرنا جائز نہیں ہے۔
ائمہ ثلاثہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مؤقف ہے،
لیکن ائمہ احناف کے نزدیک درختوں کا کاٹنا اور جانوروں کا شکار کرنا جائز ہے،
یہ محض اس کی زیبائش اور زینت کے خلاف ہے۔

مدینہ منورہ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ جو انسان وہاں کی دقتوں اور کلفتوں اور بھوک وشدت کو صبر وسکون سے برداشت کرے گا وہ وہاں کی خیرات وبرکات سے متمتع ہو گا اور اسے یہ شرف حاصل ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اس کی سفارش کریں گے،
کہ اس کے قصور اور اس کی خطائیں معاف کردی جائیں،
اور اس کو بخش دیا جائے اور اس کے اعمال صالحہ اورایمان اور اس کے صبر وشکیب کی شہادت دیں گے،
یا نیک اور اطاعت گزار لوگوں کے لیے شہادت دیں گے اور اہل معاصی کے لیے سفارش فرمائیں گے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3318]

Sahih Muslim Hadith 3318 in Urdu