🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
86. باب الترغيب في سكنى المدينة والصبر على لاوائها:
باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1378 ترقیم شاملہ: -- 3349
وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ "، بِمِثْلِهِ.
صالح بن ابوصالح نے اپنے والد سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پر صبر نہیں کرتا۔ (آگے) اسی کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3349]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی بندہ مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا، آ گے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الحج/حدیث: 3349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1378
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥صالح بن أبي صالح السمان، أبو عبد الرحمن
Newصالح بن أبي صالح السمان ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥هشام بن عروة الأسدي، أبو المنذر، أبو عبد الله، أبو بكر
Newهشام بن عروة الأسدي ← صالح بن أبي صالح السمان
ثقة إمام في الحديث
👤←👥الفضل بن موسى السيناني، أبو عبد الله
Newالفضل بن موسى السيناني ← هشام بن عروة الأسدي
ثقة ثبت ربما أغرب
👤←👥يوسف بن عيسى الزهري، أبو يعقوب
Newيوسف بن عيسى الزهري ← الفضل بن موسى السيناني
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 3349 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 3349
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اہل مدینہ کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصی سفارش ہو گی،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسری روایت میں فرمایا:
جو اس کی کوشش کرسکے کہ اس کی موت مدینہ میں واقع ہو تو وہ مدینہ میں مرے،
کیونکہ میں مدینہ میں مرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔
(احمد۔
ترمذی)
اور اس شفاعت کا مقصد یہ ہو گا کہ ان کے درجات زیادہ بلند ہوں یا ان کے لیے حساب وکتاب آسان ہو،
یا اللہ تعالیٰ ان کو عرش کا سایہ فراہم کر کے ان کی عزت افزائی کرے ان کو نورانی منبر ملیں اور یہ لوگ جلد جنت میں داخل ہو جائیں،
اس لیے بعض علماء کا خیال ہے کہ اگر مدینہ منورہ میں رہائش کا موقع ملے تو وہاں رہائش اختیار کرلینا چاہیے کیونکہ عام طور پر موت وہیں آتی ہے جہاں پر انسان رہتا ہے تا ہم بندہ دوسری جگہ فوت ہونے کی دعا اور آرزو ضرور کر سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس سعادت سے مشرف فرمائے،
جو ذات حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بظاہر نا ممکن بات یعنی مدینہ میں شہادت دے سکتی ہے،
وہ ہمیں مدینہ میں موت بھی دے سکتی ہے۔
(آمین)
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3349]