علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
63. باب استحقاق الوالي الغاش لرعيته النار:
باب: رعایا کے ساتھ خیانت کرنے والے حاکم کے لیے جہنم کی وعید۔
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 364
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: دَخَلَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ عَلَى مَعْقَلِ بْنِ يَسَارٍ ، وَهُوَ وَجِعٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَمْ أَكُنْ حَدَّثْتُكَهُ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً يَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لَهَا، إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، قَالَ: أَلَّا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ؟ قَالَ: مَا حَدَّثْتُكَ أَوْ لَمْ أَكُنْ لَأُحَدِّثَكَ.
(ابواشہب کے بجائے) یونس نے حسن سے روایت کی، انہوں نے کہا: عبید اللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ اس وقت بیمار تھے اور ان کا حال پوچھا، تو وہ کہنے لگے: میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں جو میں نے پہلے تمہیں نہیں سنائی تھی، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندے کو کسی رعیت کا نگران بناتا ہے اور موت کے دن وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ رعیت کے حقوق میں دھوکے بازی کرنے والا ہے تو اللہ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ عبیداللہ نے کہا: کیا آپ نے پہلے مجھے یہ حدیث نہیں سنائی؟ معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہیں نہیں سنائی یا میں تمہیں نہیں سنا سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 364]
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو عبید اللہ بن زیاد (ان کی بیمار پرسی کے لیے) ان کے پاس آیا اور ان کا حال پوچھا تو وہ کہنے لگے: میں تمھیں ایسی حدیث سنانے لگا ہوں، جو میں نے پہلے تمھیں نہیں سنائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو کسی رعیت کا محافظ بناتا ہے، اور وہ اس حالت میں مرتا ہے کہ وہ اس (رعیت) کے ساتھ دھوکا کرنے والا ہوتا ہے، تو اللہ اس کے لیے جنت ممنوع قرار دے دیتا ہے۔“ عبید اللہ نے کہا: آپ نے آج سے پہلے مجھے یہ حدیث کیوں نہیں سنائی؟ تو انھوں نے جواب دیا: میں نے تجھے نہیں سنائی یا میں بیان نہیں کر سکتا تھا۔ (کیونکہ زندگی میں بیان کرنے کی صورت میں خطرہ تھا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (361)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥معقل بن يسار المزني، أبو علي، أبو يسار، أبو عبد الله | صحابي | |
👤←👥الحسن البصري، أبو سعيد الحسن البصري ← معقل بن يسار المزني | ثقة يرسل كثيرا ويدلس | |
👤←👥يونس بن عبيد العبدي، أبو عبد الله، أبو عبيد يونس بن عبيد العبدي ← الحسن البصري | ثقة ثبت فاضل ورع | |
👤←👥يزيد بن زريع العيشي، أبو معاوية يزيد بن زريع العيشي ← يونس بن عبيد العبدي | ثقة ثبت | |
👤←👥يحيى بن يحيى النيسابوري، أبو زكريا يحيى بن يحيى النيسابوري ← يزيد بن زريع العيشي | ثقة ثبت إمام |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7151
| ما من وال يلي رعية من المسلمين فيموت وهو غاش لهم إلا حرم الله عليه الجنة |
صحيح البخاري |
7150
| ما من عبد استرعاه الله رعية فلم يحطها بنصيحة إلا لم يجد رائحة الجنة |
صحيح مسلم |
364
| لا يسترعي الله عبدا رعية يموت حين يموت وهو غاش لها إلا حرم الله عليه الجنة قال ألا كنت حدثتني هذا قبل اليوم قال ما حدثتك أو لم أكن لأحدثك |
صحيح مسلم |
4729
| ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة |
صحيح مسلم |
363
| ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة |
بلوغ المرام |
1285
| ما من عبد يسترعيه الله رعية يموت يوم يموت وهو غاش لرعيته إلا حرم الله عليه الجنة |
Sahih Muslim Hadith 364 in Urdu
الحسن البصري ← معقل بن يسار المزني