صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
1. باب:
باب:
ترقیم عبدالباقی: 1493 ترقیم شاملہ: -- 3746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِي، قَالَ: إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا، کیا ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا؟ کہا: (اس وقت) مجھے معلوم نہ تھا کہ (جواب میں) کیا کہوں، چنانچہ میں مکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا، میں نے غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا: وہ دوپہر کی نیند لے رہے ہیں۔ (اسی دوران میں) انہوں نے میری آواز سن لی تو انہوں نے پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تمہیں اس گھڑی کوئی ضرورت ہی (یہاں) لائی ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ ایک گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور کھجور کی چھال بھرے ہوئے ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کو آپس میں جدا کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہاں، اس کے بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں (عویمر بن حارث عجلانی) نے سوال کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو ایک بہت بڑے معاملے (قذف) کی بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو اسی جیسے (ناقابلِ برداشت) معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا۔ کہا: اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر جب وہ اس (دن) کے بعد آپ کے پاس آیا تو کہنے لگا: میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا تھا، اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات نازل کر دی تھیں: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو بلوایا۔ اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔ اس پر آپ نے مرد سے (لعان کی) ابتدا کی، اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوسری باری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو دی۔ تو اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ (خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ (خاوند) سچوں میں سے ہے، تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3746]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے مصعب بن زبیر کے دورِ حکومت میں لعان کرنے والوں کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ تو مجھے پتہ نہ چلا کہ میں اس کا کیا جواب دوں، اس لیے میں مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کی طرف چلا اور (جا کر) غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو، اس نے کہا: وہ قیلولہ کر رہے ہیں، تو انہوں نے میری آواز سن لی، پوچھا: ”ابن جبیر ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ”آ جاؤ، اللہ کی قسم! تم اس وقت کسی ضرورت کے تحت ہی آئے ہو۔“ تو میں اندر داخل ہو گیا، وہ ایک آتھر (چٹائی) پر لیٹے ہوئے تھے اور ایک تکیے کا سہارا لیا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں میں تفریق کر دی جائے گی؟ انہوں نے (حیرت و استعجاب سے) کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، ہاں، سب سے پہلے اس مسئلے کے بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا تھا۔ اس نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! بتائیے، ہم میں سے کوئی اگر اپنی بیوی کو بے حیائی کا کام کرتے ہوئے پائے تو کیا کرے؟ اگر وہ کسی سے کلام کرے گا تو انتہائی ناگوار بات کرے گا اور اگر خاموشی اختیار کرے گا تو بھی ایسی ہی صورت حال ہو گی۔“ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر وہ اس کے بعد دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: ”جس مسئلے کے بارے میں میں نے آپ سے دریافت کیا تھا، میں اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔“ تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیات اتاریں: ﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6 تا 9] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ ”دنیا کا عذاب (حدِ قذف، اسی کوڑے) آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے۔“ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو بلایا، اسے نصیحت و تذکیر کی اور اسے بتایا کہ ”دنیا کا عذاب (سنگسار کرنا) آخرت کے مقابلے میں ہلکا ہے۔“ عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، وہ (خاوند) جھوٹا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے ابتدا فرمائی۔ اس نے چار مرتبہ گواہی دی: ”اللہ کی قسم! میں سچا ہوں“، اور پانچویں بار گواہی دی: ”اگر میں جھوٹوں میں سے ہوں تو مجھ پر اللہ کی پھٹکار۔“ پھر دوسری بار عورت کو بلایا، تو اس نے اللہ کی قسم اٹھا کر چار گواہیاں دیں: ”میرا خاوند جھوٹا ہے“، اور پانچویں شہادت یہ دی: ”اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا عذاب نازل ہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کر دی۔ حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے دور میں عراق کے گورنر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1493
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5306
| أحلفهما النبي فرق بينهما |
صحيح البخاري |
5349
| يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فرق بينهما |
صحيح البخاري |
5313
| فرق بين رجل وامرأة قذفها وأحلفهما |
صحيح البخاري |
4748
| تلاعنا كما قال الله قضى بالولد للمرأة فرق بين المتلاعنين |
صحيح البخاري |
6748
| رجلا لاعن امرأته في زمن النبي انتفى من ولدها فرق النبي بينهما ألحق الولد بالمرأة |
صحيح البخاري |
5311
| يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا وقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فرق بينهما |
صحيح البخاري |
5314
| لاعن النبي بين رجل وامرأة من الأنصار فرق بينهما |
صحيح البخاري |
5315
| لاعن بين رجل وامرأته انتفى من ولدها فرق بينهما ألحق الولد بالمرأة |
صحيح البخاري |
5312
| حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك |
صحيح مسلم |
3752
| فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بأمه قال نعم |
صحيح مسلم |
3746
| تلاهن عليه ووعظه وذكره وأخبره أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة قال لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها ثم دعاها فوعظها وذكرها وأخبرها أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة قالت لا والذي بعثك بالحق إنه لكاذب فبدأ بالرجل فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الص |
صحيح مسلم |
3753
| لاعن رسول الله بين رجل من الأنصار وامرأته فرق بينهما |
صحيح مسلم |
3751
| فرق نبي الله بين أخوي بني العجلان |
صحيح مسلم |
3749
| الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب |
صحيح مسلم |
3748
| حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال يا رسول الله مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك منها |
جامع الترمذي |
1202
| لو أن أحدنا رأى امرأته على فاحشة كيف يصنع إن تكلم تكلم بأمر عظيم وإن سكت سكت على أمر عظيم قال فسكت النبي فلم يجبه فلما كان بعد ذلك أتى النبي فقال إن الذي سألتك عنه قد ابتليت به فأنزل الله هذه الآيات التي في سورة النور |
جامع الترمذي |
1203
| فرق النبي بينهما ألحق الولد بالأم |
جامع الترمذي |
3178
| ووعظها وذكرها وأخبرها أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة فقالت لا والذي بعثك بالحق ما صدق فبدأ بالرجل فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين والخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين ثم ثنى بالمرأة فشهدت أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين والخامسة أن |
سنن أبي داود |
2259
| فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بالمرأة |
سنن أبي داود |
2257
| لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذلك أبعد لك |
سنن أبي داود |
2258
| الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب يرددها ثلاث مرات فأبيا فرق بينهما |
سنن النسائى الصغرى |
3507
| لاعن رسول الله بين رجل وامرأته فرق بينهما وألحق الولد بالأم |
سنن النسائى الصغرى |
3506
| حسابكما على الله أحدكما كاذب ولا سبيل لك عليها قال يا رسول الله مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك |
سنن النسائى الصغرى |
3505
| الله يعلم إن أحدكما كاذب فهل منكما تائب قال لهما ثلاثا فأبيا فرق بينهما |
سنن النسائى الصغرى |
3504
| فرق رسول الله بين أخوي بني العجلان |
سنن النسائى الصغرى |
3503
| الذي سألتك ابتليت به فأنزل الله هؤلاء الآيات في |
سنن ابن ماجه |
2069
| فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بالمرأة |
موطا امام مالك رواية ابن القاسم |
371
| وانتفى من ولدها، ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما والحق الولد بالمراة |
بلوغ المرام |
937
| حسابكما على الله ، أحدكما كاذب ، لا سبيل لك عليها |
مسندالحميدي |
687
| حسابكما على الله، أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها |
مسندالحميدي |
688
| فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أخوي بني عجلان |
Sahih Muslim Hadith 3746 in Urdu
سعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي