🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب:
باب:
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1493 ترقیم شاملہ: -- 3746
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ، أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ لِلْغُلَامِ: اسْتَأْذِنْ لِي، قَالَ: إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي، قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلَّا حَاجَةٌ، فَدَخَلْتُ، فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ، قُلْتُ: أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، نَعَمْ، إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ، كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يُجِبْهُ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ سورة النور آية 6، " فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا، وَأَخْبَرَهَا: " أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ "، قَالَتْ: لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ، فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ، فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ، إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ".
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبدالملک بن ابی سلیمان نے سعید بن جبیر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: حضرت معصب رضی اللہ عنہ کے دورِ امارت میں مجھ سے لعان کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا، کیا ان دونوں کو جدا کر دیا جائے گا؟ کہا: (اس وقت) مجھے معلوم نہ تھا کہ (جواب میں) کیا کہوں، چنانچہ میں مکہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر گیا، میں نے غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو۔ اس نے کہا: وہ دوپہر کی نیند لے رہے ہیں۔ (اسی دوران میں) انہوں نے میری آواز سن لی تو انہوں نے پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے جواب دیا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: اندر آ جاؤ، اللہ کی قسم! تمہیں اس گھڑی کوئی ضرورت ہی (یہاں) لائی ہے۔ میں اندر داخل ہوا تو وہ ایک گدے پر لیٹے ہوئے تھے اور کھجور کی چھال بھرے ہوئے ایک تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں نے عرض کی: ابوعبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں کو آپس میں جدا کر دیا جائے گا؟ انہوں نے کہا: سبحان اللہ! ہاں، اس کے بارے میں سب سے پہلے فلاں بن فلاں (عویمر بن حارث عجلانی) نے سوال کیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کی کیا رائے ہے اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری کرتے ہوئے پائے تو وہ کیا کرے؟ اگر وہ بات کرے تو ایک بہت بڑے معاملے (قذف) کی بات کرے گا اور اگر وہ خاموش رہے تو اسی جیسے (ناقابلِ برداشت) معاملے میں خاموشی اختیار کرے گا۔ کہا: اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سکوت اختیار فرمایا اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر جب وہ اس (دن) کے بعد آپ کے پاس آیا تو کہنے لگا: میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا تھا، اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ نور میں یہ آیات نازل کر دی تھیں: (وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! میں نے اس پر جھوٹ نہیں بولا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (عورت) کو بلوایا۔ اسے وعظ اور نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے! وہ (خاوند) جھوٹا ہے۔ اس پر آپ نے مرد سے (لعان کی) ابتدا کی، اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ سچوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ جھوٹوں میں سے ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر دوسری باری آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو دی۔ تو اس نے اللہ (کے نام) کی چار گواہیاں دیں کہ وہ (خاوند) جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار یہ (کہا) کہ اگر وہ (خاوند) سچوں میں سے ہے، تو اس (عورت) پر اللہ کا غضب ہو۔ پھر آپ نے ان دونوں کو الگ کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3746]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے مصعب بن زبیر کے دورِ حکومت میں لعان کرنے والوں کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی؟ تو مجھے پتہ نہ چلا کہ میں اس کا کیا جواب دوں، اس لیے میں مکہ مکرمہ میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے گھر کی طرف چلا اور (جا کر) غلام سے کہا: میرے لیے اجازت طلب کرو، اس نے کہا: وہ قیلولہ کر رہے ہیں، تو انہوں نے میری آواز سن لی، پوچھا: ابن جبیر ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: آ جاؤ، اللہ کی قسم! تم اس وقت کسی ضرورت کے تحت ہی آئے ہو۔ تو میں اندر داخل ہو گیا، وہ ایک آتھر (چٹائی) پر لیٹے ہوئے تھے اور ایک تکیے کا سہارا لیا ہوا تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ میں نے پوچھا: اے ابو عبدالرحمان! کیا لعان کرنے والوں میں تفریق کر دی جائے گی؟ انہوں نے (حیرت و استعجاب سے) کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» اللہ پاک ہے، ہاں، سب سے پہلے اس مسئلے کے بارے میں فلاں بن فلاں نے پوچھا تھا۔ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! بتائیے، ہم میں سے کوئی اگر اپنی بیوی کو بے حیائی کا کام کرتے ہوئے پائے تو کیا کرے؟ اگر وہ کسی سے کلام کرے گا تو انتہائی ناگوار بات کرے گا اور اگر خاموشی اختیار کرے گا تو بھی ایسی ہی صورت حال ہو گی۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور اسے کوئی جواب نہ دیا، پھر وہ اس کے بعد دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: جس مسئلے کے بارے میں میں نے آپ سے دریافت کیا تھا، میں اس میں مبتلا ہو چکا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی یہ آیات اتاریں: ﴿وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ اَزْوَاجَهُمْ﴾ [سورة النور: 6 تا 9] ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تلاوت فرمائی، اسے وعظ و نصیحت کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب (حدِ قذف، اسی کوڑے) آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت ہلکا ہے۔ اس نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا، میں نے اس پر جھوٹ نہیں باندھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو بلایا، اسے نصیحت و تذکیر کی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب (سنگسار کرنا) آخرت کے مقابلے میں ہلکا ہے۔ عورت نے کہا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے، وہ (خاوند) جھوٹا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد سے ابتدا فرمائی۔ اس نے چار مرتبہ گواہی دی: اللہ کی قسم! میں سچا ہوں، اور پانچویں بار گواہی دی: اگر میں جھوٹوں میں سے ہوں تو مجھ پر اللہ کی پھٹکار۔ پھر دوسری بار عورت کو بلایا، تو اس نے اللہ کی قسم اٹھا کر چار گواہیاں دیں: میرا خاوند جھوٹا ہے، اور پانچویں شہادت یہ دی: اگر وہ سچا ہو تو مجھ پر اللہ کا عذاب نازل ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کر دی۔ حضرت مصعب بن زبیر اپنے بھائی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے دور میں عراق کے گورنر تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللعان/حدیث: 3746]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1493
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن جبير الأسدي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newسعيد بن جبير الأسدي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الملك بن ميسرة الفزازى، أبو عبد الله، أبو سليمان
Newعبد الملك بن ميسرة الفزازى ← سعيد بن جبير الأسدي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← عبد الملك بن ميسرة الفزازى
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5306
أحلفهما النبي فرق بينهما
صحيح البخاري
5349
يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فرق بينهما
صحيح البخاري
5313
فرق بين رجل وامرأة قذفها وأحلفهما
صحيح البخاري
4748
تلاعنا كما قال الله قضى بالولد للمرأة فرق بين المتلاعنين
صحيح البخاري
6748
رجلا لاعن امرأته في زمن النبي انتفى من ولدها فرق النبي بينهما ألحق الولد بالمرأة
صحيح البخاري
5311
يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا وقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فقال الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب فأبيا فرق بينهما
صحيح البخاري
5314
لاعن النبي بين رجل وامرأة من الأنصار فرق بينهما
صحيح البخاري
5315
لاعن بين رجل وامرأته انتفى من ولدها فرق بينهما ألحق الولد بالمرأة
صحيح البخاري
5312
حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك
صحيح مسلم
3752
فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بأمه قال نعم
صحيح مسلم
3746
تلاهن عليه ووعظه وذكره وأخبره أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة قال لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها ثم دعاها فوعظها وذكرها وأخبرها أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة قالت لا والذي بعثك بالحق إنه لكاذب فبدأ بالرجل فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الص
صحيح مسلم
3753
لاعن رسول الله بين رجل من الأنصار وامرأته فرق بينهما
صحيح مسلم
3751
فرق نبي الله بين أخوي بني العجلان
صحيح مسلم
3749
الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب
صحيح مسلم
3748
حسابكما على الله أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها قال يا رسول الله مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك منها
جامع الترمذي
1202
لو أن أحدنا رأى امرأته على فاحشة كيف يصنع إن تكلم تكلم بأمر عظيم وإن سكت سكت على أمر عظيم قال فسكت النبي فلم يجبه فلما كان بعد ذلك أتى النبي فقال إن الذي سألتك عنه قد ابتليت به فأنزل الله هذه الآيات التي في سورة النور
جامع الترمذي
1203
فرق النبي بينهما ألحق الولد بالأم
جامع الترمذي
3178
ووعظها وذكرها وأخبرها أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة فقالت لا والذي بعثك بالحق ما صدق فبدأ بالرجل فشهد أربع شهادات بالله إنه لمن الصادقين والخامسة أن لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين ثم ثنى بالمرأة فشهدت أربع شهادات بالله إنه لمن الكاذبين والخامسة أن
سنن أبي داود
2259
فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بالمرأة
سنن أبي داود
2257
لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذلك أبعد لك
سنن أبي داود
2258
الله يعلم أن أحدكما كاذب فهل منكما تائب يرددها ثلاث مرات فأبيا فرق بينهما
سنن النسائى الصغرى
3507
لاعن رسول الله بين رجل وامرأته فرق بينهما وألحق الولد بالأم
سنن النسائى الصغرى
3506
حسابكما على الله أحدكما كاذب ولا سبيل لك عليها قال يا رسول الله مالي قال لا مال لك إن كنت صدقت عليها فهو بما استحللت من فرجها وإن كنت كذبت عليها فذاك أبعد لك
سنن النسائى الصغرى
3505
الله يعلم إن أحدكما كاذب فهل منكما تائب قال لهما ثلاثا فأبيا فرق بينهما
سنن النسائى الصغرى
3504
فرق رسول الله بين أخوي بني العجلان
سنن النسائى الصغرى
3503
الذي سألتك ابتليت به فأنزل الله هؤلاء الآيات في
سنن ابن ماجه
2069
فرق رسول الله بينهما ألحق الولد بالمرأة
موطا امام مالك رواية ابن القاسم
371
وانتفى من ولدها، ففرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينهما والحق الولد بالمراة
بلوغ المرام
937
حسابكما على الله ،‏‏‏‏ أحدكما كاذب ،‏‏‏‏ لا سبيل لك عليها
مسندالحميدي
687
حسابكما على الله، أحدكما كاذب لا سبيل لك عليها
مسندالحميدي
688
فرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أخوي بني عجلان
Sahih Muslim Hadith 3746 in Urdu