🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
71. باب نزول عيسى ابن مريم حاكما بشريعة نبينا محمد صلى الله عليه وسلم:
باب: عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے اور ان کے شریعت محمدی کے موافق چلنے اور اللہ تعالیٰ کا اس امت کو عزت اور شرف عطا فرمانا اور اس بات کی دلیل کہ اسلام سابقہ ادیان کا ناسخ ہے اور قیامت تک ایک جماعت اسلام کی حفاظت میں کھڑی رہے گی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 155 ترقیم شاملہ: -- 390
وحَدَّثَنَاه عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ . ح وحَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ كُلُّهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ: إِمَامًا مُقْسِطًا وَحَكَمًا عَدْلًا، وَفِي رِوَايَةِ يُونُسَ: حَكَمًا عَادِلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ: إِمَامًا مُقْسِطًا، وَفِي حَدِيثِ صَالِحٍ: حَكَمًا مُقْسِطًا، كَمَا قَالَ اللَّيْثُ وَفِي حَدِيثِهِ مِنَ الزِّيَادَةِ: وَحَتَّى تَكُونَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا، يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ سورة النساء آية 159 الآيَةَ.
سفیان بن عیینہ، یونس اور صالح نے (ابن شہاب) زہری سے (ان کی) اسی سند کے ساتھ روایت نقل کی۔ ابن عیینہ کی روایت میں ہے: انصاف کرنے والے پیشوا، عادل حاکم اور یونس کی روایت میں: عادل حاکم ہے، انہوں نے انصاف کرنے والے پیشوا کا تذکرہ نہیں کیا۔ اور صالح کی روایت میں لیث کی طرح ہے: انصاف کرنے والے حاکم اور یہ اضافہ بھی ہے: حتی کہ ایک سجدہ دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہتر ہو گا۔ (کیونکہ باقی انبیاء کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ایمان ہو گا، اور اولو العزم نبی جو صاحب کتاب و شریعت تھا، آپ کی امت میں شامل ہو گا اور اسی کے مطابق فیصلے فرما رہا ہو گا۔) پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (آخر میں) کہتے ہیں: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ» اہل کتاب میں سے کوئی نہ ہو گا مگر عیسیٰ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا (اور انہی کے ساتھ امت محمدیہ میں شامل ہو گا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 390]
سفیان رحمہ اللہ، یونس رحمہ اللہ اور ابو صالح رحمہ اللہ، زہری رحمہ اللہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ ابن عینیہ رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: «إِمَامًا مُقْسِطًا، وَحَكَمًا عَدْلًا» منصف امام، عادل حکمران۔ اور یونس رحمہ اللہ کی روایت میں صرف «حَكَمًا عَادِلًا» ہے، «إِمَامًا مُقْسِطًا» نہیں۔ اور جیسا کہ لیث رحمہ اللہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے: حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا وما فیہا سے بہتر ہو گا۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آخر میں فرماتے: چاہو تو یہ آیت پڑھ لو! اہلِ کتاب میں سے ہر شخص عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے ان پر ایمان لائے گا۔ ﴿وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا﴾ (النساء: 159) اور قیامت کے دن وہ انھی پر گواہ ہوں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 390]
ترقیم فوادعبدالباقی: 155
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في احاديث الانبياء، باب: نزول عيسی ابن مريم عليهما السلام برقم (3448) انظر ((التحفة)) برقم (13178)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاقثقة حجة
👤←👥صالح بن كيسان الدوسي، أبو محمد، أبو الحارث
Newصالح بن كيسان الدوسي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة ثبت
👤←👥إبراهيم بن سعد الزهري، أبو إسحاق
Newإبراهيم بن سعد الزهري ← صالح بن كيسان الدوسي
ثقة حجة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم القرشي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم القرشي ← إبراهيم بن سعد الزهري
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← يعقوب بن إبراهيم القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد بن حميد الكشي
ثقة حافظ له تصانيف
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← الحسن بن علي الهذلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥حرملة بن يحيى التجيبي، أبو حفص
Newحرملة بن يحيى التجيبي ← عبد الله بن وهب القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد
Newسفيان بن عيينة الهلالي ← حرملة بن يحيى التجيبي
ثقة حافظ حجة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← سفيان بن عيينة الهلالي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
👤←👥عبد الأعلى بن حماد الباهلي، أبو يحيى
Newعبد الأعلى بن حماد الباهلي ← ابن أبي شيبة العبسي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 390 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 390
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضر ت ابوہریرہ ؓحضرت عیسی علیہ السلام کے نزول کی تائید میں سورہ نساء کی اس آیت کی تلاوت فرماتے تھے جس سے ثابت ہوا کہ "قَبْلَ مَوْتِهِ" میں ضمیر مجرور عیسی ٰ علیہ السلام کی طرف راجع ہے،
کہ ان کے نزول کے وقت تمام یہود ونصاریٰ ان پر ایمان لے آئیں گے۔
ان کی عبدیت کہ بندہ ہیں،
الہٰ نہیں،
اور ابنیت کہ مریم کے بیٹے ہیں،
ابن اللہ نہیں کا اقرار کریں گے،
اور اسلام کو قبول کر لیں گے،
کیونکہ آج تو اہل کتاب سے جزیہ لے کر ان کو،
ان کے دین پر رہنے دیا جاتا ہے،
اس وقت وہ جزیہ کو قبول نہیں کریں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جزیہ کے قبول کرنے کے وقت کی تعیین فرما دی ہے،
کہ عیسی علیہ السلام کی آمد تک قبول ہے۔
عیسی علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے تابع ہوں گے،
اوراس کے مطابق عمل کریں گے۔
قادیان کا متبنی نعوذ باللہ اگر مسیح موعود تھا،
تو اس کی ماں کا نام مریم کیوں نہیں تھا۔
اہل کتاب اس پر ایمان کیوں نہیں لائے،
صلیب کیوں توڑی نہیں جا سکی؟ اور خنزیر کی فراوانی کیوں ہے؟۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 390]