پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
18. باب بيع الطعام مثلا بمثل:
باب: برابر برابر اناج کی بیع۔
ترقیم عبدالباقی: 1592 ترقیم شاملہ: -- 4080
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ " أَنَّهُ أَرْسَلَ غُلَامَهُ بِصَاعِ قَمْحٍ، فَقَالَ: بِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ شَعِيرًا، فَذَهَبَ الْغُلَامُ، فَأَخَذَ صَاعًا وَزِيَادَةَ بَعْضِ صَاعٍ، فَلَمَّا جَاءَ مَعْمَرًا أَخْبَرَهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ مَعْمَرٌ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ انْطَلِقْ فَرُدَّهُ وَلَا تَأْخُذَنَّ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: الطَّعَامُ بِالطَّعَامِ مِثْلًا بِمِثْلٍ، قَالَ: وَكَانَ طَعَامُنَا يَوْمَئِذٍ الشَّعِيرَ، قِيلَ لَهُ: فَإِنَّهُ لَيْسَ بِمِثْلِهِ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يُضَارِعَ ".
بُسر بن سعید نے معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے گندم کا ایک صاع دے کر اپنا غلام بھیجا اور کہا: اسے بیچ دو، پھر اس (کی قیمت) سے جو خرید لاؤ۔ غلام گیا اور (گندم کے صاع کے عوض) ایک صاع اور صاع سے کچھ زیادہ (جو) لے آیا، جب وہ معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں یہ بات بتائی، تو حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے یہ کام کیوں کیا؟ جاؤ اور اسے واپس کرو اور مثل بمثل کے سوا کچھ نہ لو، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتے تھا، آپ فرماتے تھے: ”غلے کے عوض غلے کی بیع مثل بمثل ہے۔“ کہا: ان دنوں ہماری خوراک جَو کی تھی۔ ان سے کہا گیا: وہ تو اس (گندم) کی مثل نہیں ہے۔ (یعنی دو الگ جنسیں ہیں، اس لیے تفاضل جائز ہے۔) انہوں نے کہا: مجھے خدشہ ہے کہ وہ اس کے مشابہ ہو گی۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4080]
معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے اپنے غلام کو گندم کا ایک صاع دے کر بھیجا اور اسے کہا: اسے بیچ کر اس کے عوض جو خرید لاؤ، تو غلام گیا اور اس کے عوض صاع سے کچھ زائد جو خرید لایا، اور جب معمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہیں اس کی اطلاع دی، تو معمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: تو نے باہمی تبادلہ کیوں کیا؟ جاؤ، اس کو واپس کر دو، اور برابر برابر کے سوا نہ لو، کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنتا رہا ہوں: ”طعام، طعام کے بدلے برابر برابر ہو گا۔“ اور ان دنوں ہمارا طعام (کھانا) جو تھے، ان سے کہا گیا کہ ان دونوں کی جنس ایک نہیں ہے، انہوں نے جواب دیا: مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس کے مشابہ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب المساقاة/حدیث: 4080]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1592
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4080 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4080
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اگر جنس الگ الگ ہو تو کمی و بیشی کرنے میں صحیح احادیث کی رو سے کوئی حرج نہیں ہے،
لیکن چونکہ گندم اور جو کی جنس،
طعام ہونے کے اعتبار سے ملتی جلتی ہے،
اس لیے حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے تورع اور احتیاط کو ترجیح دی،
اگرچہ شرعی رو سے گندم اور جو الگ الگ جنس ہیں،
اور امام مالک رحمہ اللہ کا دونوں کو ایک جنس قرار دینا درست نہیں ہے،
وگرنہ طعام ہونے کے اعتبار سے تو گندم،
جو،
کھجور سب ایک جنس ہوں گے،
حالانکہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں،
تینوں کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے۔
فوائد ومسائل:
اگر جنس الگ الگ ہو تو کمی و بیشی کرنے میں صحیح احادیث کی رو سے کوئی حرج نہیں ہے،
لیکن چونکہ گندم اور جو کی جنس،
طعام ہونے کے اعتبار سے ملتی جلتی ہے،
اس لیے حضرت معمر رضی اللہ عنہ نے تورع اور احتیاط کو ترجیح دی،
اگرچہ شرعی رو سے گندم اور جو الگ الگ جنس ہیں،
اور امام مالک رحمہ اللہ کا دونوں کو ایک جنس قرار دینا درست نہیں ہے،
وگرنہ طعام ہونے کے اعتبار سے تو گندم،
جو،
کھجور سب ایک جنس ہوں گے،
حالانکہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں،
تینوں کو الگ الگ شمار کیا گیا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4080]
Sahih Muslim Hadith 4080 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← معمر بن أبي معمر القرشي