صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
74. باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 165 ترقیم شاملہ: -- 418
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْعَالِيَةِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِهِ، فَقَالَ مُوسَى: آدَمُ طُوَالٌ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَقَالَ عِيسَى: جَعْدٌ مَرْبُوعٌ، وَذَكَرَ مَالِكًا خَازِنَ جَهَنَّمَ، وَذَكَرَ الدَّجَّالَ ".
شعبہ نے ابوقتادہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے ابوعالیہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: مجھے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے بیٹے، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث سنائی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ کے، اونچے لمبے تھے جیسے وہ قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ہوں اور عیسیٰ علیہ السلام گٹھے ہوئے جسم کے میانہ قامت تھے۔“ اور آپ نے دوزخ کے داروغے مالک اور دجال کا بھی ذکر فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 418]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسراء کا واقعہ بیان کیا اور فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام گندمی رنگ اور لمبے قد کے تھے، گویا کہ وہ شنوءہ قبیلہ کے لوگوں میں سے ہیں۔ اور فرمایا: عیسیٰ علیہ السلام گٹھے ہوئے جسم کے متوسط قد والے تھے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کے داروغہ مالک اور دجال کا تذکرہ بھی فرمایا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 418]
ترقیم فوادعبدالباقی: 165
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في بدء الخلق، باب: اذا قال احدكم: آمين والملائكة في السماء فوافقت احداهما الاخرى غفر له ما تقدم من ذنبه برقم (3239) وفي احادیث الانبياء، باب قول الله تعالى: ﴿ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَىٰ ﴾، ﴿ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ﴾ برقم (3396) انظر ((التحفة)) برقم (5423)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 418 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 418
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
طُوَالٌ:
طویل القامت۔
(2)
آدَمُ:
گندمی رنگ والے۔
(3)
جَعْدٌ:
گھنگریالے بالوں کو کہتے ہیں۔
لیکن یہاں بالوں کی بجائے جسم کی صفت ہے،
اس لیے گھٹا ہوا جسم مراد ہے۔
(4)
مَرْبُوعٌ:
درمیانہ قد،
نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا۔
(5)
شَنُوءَةَ:
گندگی سے بعد اور دوری کو کہتے ہیں،
یہاں ایک قبیلہ کا نام ہے۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
طُوَالٌ:
طویل القامت۔
(2)
آدَمُ:
گندمی رنگ والے۔
(3)
جَعْدٌ:
گھنگریالے بالوں کو کہتے ہیں۔
لیکن یہاں بالوں کی بجائے جسم کی صفت ہے،
اس لیے گھٹا ہوا جسم مراد ہے۔
(4)
مَرْبُوعٌ:
درمیانہ قد،
نہ بہت لمبا اور نہ بہت چھوٹا۔
(5)
شَنُوءَةَ:
گندگی سے بعد اور دوری کو کہتے ہیں،
یہاں ایک قبیلہ کا نام ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 418]
أبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي