صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
74. باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 166 ترقیم شاملہ: -- 420
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَسُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِوَادِي الأَزْرَقِ، فَقَالَ: أَيُّ وَادٍ هَذَا؟ فَقَالُوا: هَذَا وَادِي الأَزْرَقِ، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام هَابِطًا مِنَ الثَّنِيَّةِ، وَلَهُ جُؤَارٌ إِلَى اللَّهِ بِالتَّلْبِيَةِ، ثُمَّ أَتَى عَلَى ثَنِيَّةِ هَرْشَى، فَقَالَ: أَيُّ ثَنِيَّةٍ هَذِهِ؟ قَالُوا: ثَنِيَّةُ هَرْشَى، قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يُونُسَ بْنِ مَتَّى عَلَيْهِ السَّلَام، عَلَى نَاقَةٍ حَمْرَاءَ، جَعْدَةٍ عَلَيْهِ جُبَّةٌ مِنْ صُوفٍ خِطَامُ، نَاقَتِهِ خُلْبَةٌ، وَهُوَ يُلَبِّي "، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ هُشَيْمٌ: يَعْنِي لِيفًا.
احمد بن حنبل اور سریج بن یونس نے کہا: ہمیں ہشیم نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں داؤد بن ابی ہند نے ابوعالیہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وادی ازرق سے گزرے تو آپ نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ وادی ازرق ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو وادی کے موڑ سے اترتے دیکھ رہا ہوں اور وہ بلند آواز سے تلبیہ کہتے ہوئے اللہ کے سامنے زاری کر رہے ہیں۔“ پھر آپ ہرشیٰ کی گھاٹی پر پہنچے تو پوچھا: ”یہ کون سی گھاٹی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ ہرشیٰ کی گھاٹی ہے۔ آپ نے فرمایا: ”جیسے میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ رنگ کی مضبوط بدن اونٹنی پر سوار ہیں، ان کے جسم پر اونی جبہ ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔“ ابن حنبل نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہشیم نے کہا: خلبۃ سے لیف، یعنی کھجور کی چھال مراد ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 420]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ازرق وادی میں سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ وادی ازرق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں موسیٰ علیہ السلام کو چوٹی سے اترتے دیکھ رہا ہوں، اور وہ بلند آواز سے اللہ کے حضور تلبیہ کہہ رہے ہیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہرشیٰ کی چوٹی پر پہنچے تو پوچھا: ”یہ کون سی چوٹی ہے؟“ لوگوں نے کہا: یہ ہرشیٰ کی چوٹی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا کہ میں یونس بن متیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، سرخ رنگ کی گھٹی ہوئی اونٹنی پر سوار ہیں، اونی جبہ پہنا ہوا ہے، ان کی اونٹنی کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے اور وہ لبیک کہہ رہے ہیں۔“ ابن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں بیان کیا کہ ہشیم رحمہ اللہ نے کہا: «خُلْبَةٌ» سے مراد «لِيفٌ» ہے، یعنی کھجور کی چھال۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 166
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابن ماجه في ((سننه)) في المناسك، باب: الحج علی الرحل برقم (2891) انظر ((التحفة)) برقم (5424)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
421
| كأني أنظر إلى موسى فذكر من لونه وشعره شيئا لم يحفظه داود واضعا إصبعيه في أذنيه له جؤار إلى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي قال ثم سرنا حتى أتينا على ثنية فقال أي ثنية هذه قالوا هرشى أو لفت فقال كأني أنظر إلى يونس على ناقة حمراء عليه جبة صوف خطام ناقته ليف |
صحيح مسلم |
420
| كأني أنظر إلى موسى هابطا من الثنية وله جؤار إلى الله بالتلبية ثم أتى على ثنية هرشى فقال أي ثنية هذه قالوا ثنية هرشى قال كأني أنظر إلى يونس بن متى على ناقة حمراء جعدة عليه جبة من صوف خطام ناقته خلبة وهو يلبي |
سنن ابن ماجه |
2891
| كأني أنظر إلى موسى فذكر من طول شعره شيئا لا يحفظه داود واضعا إصبعيه في أذنيه له جؤار إلى الله بالتلبية مارا بهذا الوادي قال ثم سرنا حتى أتينا على ثنية فقال أي ثنية هذه قالوا ثنية هرشى أو لفت قال كأني أنظر إلى يونس على ناقة حمراء عليه جبة صوف وخطام ناقته خ |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 420 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 420
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
ثَنِيَّةٌ جمع ثَنَايَا:
دره،
گھاٹی،
پہاڑی راستہ۔
(2)
جُؤَارٌ:
بلند آواز سے دعا کرنا،
گڑگڑانا،
بیل کا ڈکارنا۔
(3)
تَلْبِيَةٌ:
اللهم لبيك کہنا۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج،
بعض انبیاء کی زندگی کا حال دکھایا گیا کہ ان کا حج کیسا تھا،
سواری کس قسم کی تھی،
لبیک کس طرح کہا،
آج انسان مختلف قسم کے پروگراموں کی وڈیوز تیار کر لیتے ہیں،
اور پھر جب چاہتے ہیں،
ان پروگراموں کو دیکھ لیتے ہیں،
تو کیا اللہ تعالیٰ انسانوں کی زندگی،
ان کے افعال واعما ل کی وڈیوز تیار نہیں کر سکتا،
کہ جب چاہے وہ کسی کو دکھا دے۔
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "كَأَنِّي أَنْظُرُ" ”گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔
“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
اسی طرح ودجال اورمالک خازن ناز کی تصویر دکھائی گئی،
جس طرح آپ کو جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی تھی۔
یہاں تک کہ آپ دوزخ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے اور جنت کو دیکھ کر اس کے میوے توڑنےکے لیے آگے بڑھے،
یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو جہنم میں سزا پاتے دیکھا۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
ثَنِيَّةٌ جمع ثَنَايَا:
دره،
گھاٹی،
پہاڑی راستہ۔
(2)
جُؤَارٌ:
بلند آواز سے دعا کرنا،
گڑگڑانا،
بیل کا ڈکارنا۔
(3)
تَلْبِيَةٌ:
اللهم لبيك کہنا۔
فوائد ومسائل:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج،
بعض انبیاء کی زندگی کا حال دکھایا گیا کہ ان کا حج کیسا تھا،
سواری کس قسم کی تھی،
لبیک کس طرح کہا،
آج انسان مختلف قسم کے پروگراموں کی وڈیوز تیار کر لیتے ہیں،
اور پھر جب چاہتے ہیں،
ان پروگراموں کو دیکھ لیتے ہیں،
تو کیا اللہ تعالیٰ انسانوں کی زندگی،
ان کے افعال واعما ل کی وڈیوز تیار نہیں کر سکتا،
کہ جب چاہے وہ کسی کو دکھا دے۔
اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "كَأَنِّي أَنْظُرُ" ”گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں۔
“ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔
اسی طرح ودجال اورمالک خازن ناز کی تصویر دکھائی گئی،
جس طرح آپ کو جنت اور دوزخ کی تصویر دکھائی گئی تھی۔
یہاں تک کہ آپ دوزخ کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے اور جنت کو دیکھ کر اس کے میوے توڑنےکے لیے آگے بڑھے،
یہاں تک کہ آپ نے لوگوں کو جہنم میں سزا پاتے دیکھا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 420]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2891
سواری پر حج کرنے کا بیان۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے۔“ عبداللہ بن عب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2891]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے، ہمارا گزر ایک وادی سے ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون سی وادی ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: وادی ازرق ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گویا میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ رہا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موسیٰ علیہ السلام کے بالوں کی لمبائی کا تذکرہ کیا (جو راوی داود کو یاد نہیں رہا) اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں میں ڈالے ہوئے بلند آواز سے، لبیک کہتے ہوئے، اللہ سے فریاد کرتے ہوئے اس وادی سے گزرے۔“ عبداللہ بن عب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2891]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام بھی کعبہ شریف کا حج کرتے تھے اگرچہ ان کا قبلہ بیت المقدس تھا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ گزشتہ واقعات آپ کو اس انداز سے دکھا دیے جاتےتھے گویا کہ وہ ابھی واقع ہو رہے ہیں اس طرح ماضی کے واقعات یا جنت اور جہنم کے حالات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح واقف ہو جاتے تھے جس طرح کوئی چشم دید واقعات کو جانتا اور یاد رکھتا ہے۔
(3)
لبیک بلند آواز سے پکارنا مستحب ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2922 تا 2924)
(4)
مرد کو احرام کی حالت میں سلا ہوا لباس پہننا منع ہے۔ (سنن ابن ماجة حدیث: 2929)
ممکن ہے حضرت یونس علیہ السلام کی شریعت میں اس کی اجازت ہو اس لیے انھوں نےاونی جبہ پہنا ہوا ہو۔
فوائد و مسائل:
(1)
بنی اسرائیل کے انبیاء کرام علیہم السلام بھی کعبہ شریف کا حج کرتے تھے اگرچہ ان کا قبلہ بیت المقدس تھا۔
(2)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ گزشتہ واقعات آپ کو اس انداز سے دکھا دیے جاتےتھے گویا کہ وہ ابھی واقع ہو رہے ہیں اس طرح ماضی کے واقعات یا جنت اور جہنم کے حالات سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح واقف ہو جاتے تھے جس طرح کوئی چشم دید واقعات کو جانتا اور یاد رکھتا ہے۔
(3)
لبیک بلند آواز سے پکارنا مستحب ہے۔ (سنن ابن ماجة، حدیث: 2922 تا 2924)
(4)
مرد کو احرام کی حالت میں سلا ہوا لباس پہننا منع ہے۔ (سنن ابن ماجة حدیث: 2929)
ممکن ہے حضرت یونس علیہ السلام کی شریعت میں اس کی اجازت ہو اس لیے انھوں نےاونی جبہ پہنا ہوا ہو۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2891]
Sahih Muslim Hadith 420 in Urdu
أبو العالية الرياحي ← عبد الله بن العباس القرشي