صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
74. باب الإسراء برسول الله صلى الله عليه وسلم إلى السموات وفرض الصلوات:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا (یعنی معراج) اور نمازوں کا فرض ہونا۔
ترقیم عبدالباقی: 167 ترقیم شاملہ: -- 423
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَ عَلَيَّ الأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ، رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ: دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے۔ موسیٰ علیہ السلام پھر پتلے بدن کے آدمی تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں اور میں نے عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ میں نظر آتی ہے، میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب (نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) میں نظر آئی، یعنی خود آپ۔ اور میں نے جبریل کو (انسانی شکل میں) دیکھا، میں نے ان کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت دحیہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔“ ابن رمح کی روایت میں ”دحیہ بن خلیفہ“ ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 423]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر انبیاء علیہم السلام پیش کیے گئے۔ میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا، وہ ہلکے بدن کے آدمی تھے، گویا کہ وہ قبیلہ شنوءہ کے لوگوں سے ہیں۔ اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا، میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں۔ اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، تو میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے ساتھی (رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں) کو دیکھتا ہوں۔ یعنی: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود مراد ہیں۔ اور میں نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا، میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ دحیہ رضی اللہ عنہ کو دیکھتا ہوں۔ ابن رمح رحمہ اللہ کی روایت میں ہے دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 423]
ترقیم فوادعبدالباقی: 167
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في المناقب، باب: في صفة النبي صلی اللہ علیہ وسلم برقم (3649) وقال: حديث حسن صحيح غريب انظر ((التحفة)) برقم (2920)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥جابر بن عبد الله الأنصاري، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥محمد بن مسلم القرشي، أبو الزبير محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري | صدوق إلا أنه يدلس | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← محمد بن مسلم القرشي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥محمد بن رمح التجيبي، أبو عبد الله محمد بن رمح التجيبي ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← محمد بن رمح التجيبي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
423
| عرض علي الأنبياء فإذا موسى ضرب من الرجال كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى ابن مريم فإذا أقرب من رأيت به شبها عروة بن مسعود ورأيت إبراهيم صلوات الله عليه فإذا أقرب من رأيت به شبها صاحبكم يعني نفسه ورأيت جبريل فإذا أقرب من رأيت به شبها |
جامع الترمذي |
3649
| عرض علي الأنبياء فإذا موسى ضرب من الرجال كأنه من رجال شنوءة ورأيت عيسى ابن مريم فإذا أقرب الناس من رأيت به شبها عروة بن مسعود ورأيت إبراهيم فإذا أقرب من رأيت به شبها صاحبكم يعني نفسه ورأيت جبريل فإذا أقرب من رأيت به شبها دحية هو ابن خليفة الكلبي |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 423 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 423
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
ضَرْبٌ:
کم گوشت،
ہلکا پھلکا،
اس سے مضطرب ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابراہیمؑ کی شکل وصورت آپ جیسی تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ابراہیمؑ کو دیکھنا ہو،
تو اپنے ساتھی کو یعنی مجھے دیکھ لو۔
“
مفردات الحدیث:
:
ضَرْبٌ:
کم گوشت،
ہلکا پھلکا،
اس سے مضطرب ہے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابراہیمؑ کی شکل وصورت آپ جیسی تھی،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”ابراہیمؑ کو دیکھنا ہو،
تو اپنے ساتھی کو یعنی مجھے دیکھ لو۔
“
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 423]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3649
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے حلیہ مبارک کا بیان
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3649]
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ علیہ السلام ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود رضی الله عنہ ہیں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ۱؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تو جن لوگوں کو م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3649]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،
اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شکل وصورت سے ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ ہیں۔
وضاحت:
1؎:
یعنی خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ،
اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شکل وصورت سے ابراہیم علیہ السلام سے مشابہ ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3649]
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري