الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب ندب من حلف يمينا فراى غيرها خيرا منها ان ياتي الذي هو خير ويكفر عن يمينه:
باب: جو شخص قسم کھائے کسی کام پر پھر اس کے خلاف کو بہتر سمجھے تو اس کو کرے اور قسم کا کفارہ دے۔
ترقیم عبدالباقی: 1651 ترقیم شاملہ: -- 4279
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ " وَأَتَاهُ رَجُلٌ يَسْأَلُهُ مِائَةَ دِرْهَمٍ، فَقَالَ: تَسْأَلُنِي مِائَةَ دِرْهَمٍ وَأَنَا ابْنُ حَاتِمٍ وَاللَّهِ لَا أُعْطِيكَ، قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ ثُمَّ رَأَى خَيْرًا مِنْهَا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ "،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے پاس ایک آدمی ایک سو درہم مانگنے کے لیے آیا تھا، (غلام کی قیمت میں سے سو درہم کم تھے) انہوں نے کہا: تو مجھ سے (سرف) سو درہم مانگ رہا جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں (کچھ) نہیں دوں گا، پھر انہوں نے کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا: ”جس نے کوئی قسم کھائی، پھر اس سے بہتر کام دیکھا تو وہ وہی کرے جو بہتر ہے۔“ (تو میں تمہیں کچھ نہ دیتا۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4279]
تمیم بن طرفہ بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالی عنہ سے سنا، جبکہ ان کے پاس ایک آدمی سو درہم (100) مانگنے کے لیے آیا، تو انہوں نے کہا، تو مجھ سے سو (100) درہم مانگ رہا ہے، حالانکہ میں حاتم کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں دوں گا، پھر کہنے لگے، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا، ”جس نے کسی کام کے لیے قسم اٹھائی، پھر اس کے سامنے بہتر سوچ آئی، تو وہ کام کرے جو بہتر ہے۔“ (تو میں تمہیں نہ دیتا، یہ جواب محذوف ہے۔) [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4279]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1651
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عدي بن حاتم الطائي، أبو طريف، أبو وهب | صحابي | |
👤←👥تميم بن طرفة الطائي، أبو سليط تميم بن طرفة الطائي ← عدي بن حاتم الطائي | ثقة | |
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة سماك بن حرب الذهلي ← تميم بن طرفة الطائي | صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة | |
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام شعبة بن الحجاج العتكي ← سماك بن حرب الذهلي | ثقة حافظ متقن عابد | |
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر محمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي | ثقة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي | ثقة حافظ | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن بشار العبدي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
3816
| من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه |
سنن النسائى الصغرى |
3817
| من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليدع يمينه وليأت الذي هو خير وليكفرها |
سنن النسائى الصغرى |
3818
| من حلف على يمين فرأى خيرا منها فليأت الذي هو خير وليترك يمينه |
صحيح مسلم |
4275
| من حلف على يمين ثم رأى أتقى لله منها فليأت التقوى ما حنثت يميني |
صحيح مسلم |
4276
| من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليترك يمينه |
صحيح مسلم |
4277
| إذا حلف أحدكم على اليمين فرأى خيرا منها فليكفرها وليأت الذي هو خير |
صحيح مسلم |
4279
| من حلف على يمين ثم رأى خيرا منها فليأت الذي هو خير |
سنن ابن ماجه |
2108
| من حلف على يمين فرأى غيرها خيرا منها فليأت الذي هو خير وليكفر عن يمينه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4279 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4279
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
تسئلني مائة درهم؟ وانا ابن حاتم کا مقصد بقول امام قرطبی یہ ہے،
کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں،
جو جودو سخاورت کی کثرت میں معروف و مشہور ہے،
اور تم مجھ سے اس قدر کم رقم کا مطالبہ کررہے ہو،
اور بقول قاضی عیاض،
سائل نے حضرت عدی سے اس وقت سوال کیا،
جبکہ اسے پتہ تھا کہ فی الحال ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے،
اور سائل کا مقصد حضرت عدی کے بخل اور کچھ دینے سے انکار کرنے کا اظہار تھا،
اس لیے حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ناراضی کی حالت میں یہ کہا،
کہ تم جان بوجھ کر مجھے رسوا کرنے کے لیے کہ حاتم کا بیٹا بخیل و کنجوس ہے،
یہ سوال کر رہےہو،
حالانکہ تمہیں پتہ اس وقت میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے،
جاؤ میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں،
وہ تمہارا سوال پورا کر دیں،
لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوا،
اس لیے انہوں نے کچھ نہ دینے کی قسم اٹھائی۔
فوائد ومسائل:
تسئلني مائة درهم؟ وانا ابن حاتم کا مقصد بقول امام قرطبی یہ ہے،
کہ میں حاتم کا بیٹا ہوں،
جو جودو سخاورت کی کثرت میں معروف و مشہور ہے،
اور تم مجھ سے اس قدر کم رقم کا مطالبہ کررہے ہو،
اور بقول قاضی عیاض،
سائل نے حضرت عدی سے اس وقت سوال کیا،
جبکہ اسے پتہ تھا کہ فی الحال ان کے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے،
اور سائل کا مقصد حضرت عدی کے بخل اور کچھ دینے سے انکار کرنے کا اظہار تھا،
اس لیے حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے ناراضی کی حالت میں یہ کہا،
کہ تم جان بوجھ کر مجھے رسوا کرنے کے لیے کہ حاتم کا بیٹا بخیل و کنجوس ہے،
یہ سوال کر رہےہو،
حالانکہ تمہیں پتہ اس وقت میرے پاس دینے کے لیے کچھ نہیں ہے،
جاؤ میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں،
وہ تمہارا سوال پورا کر دیں،
لیکن وہ اس پر راضی نہ ہوا،
اس لیے انہوں نے کچھ نہ دینے کی قسم اٹھائی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4279]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3816
قسم توڑنے کے بعد کفارہ دینے کا بیان۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3816]
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کسی بات کی قسم کھائے پھر اس کے علاوہ کو اس سے بہتر پائے تو وہی کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3816]
اردو حاشہ:
سابقہ احادیث میں کفارے کا ذکر قسم توڑنے سے پہلے تھا اور اس حدیث (اور آئندہ احادیث) میں قسم توڑنے کا ذکر پہلے ہے اور کفارے کا بعد میں۔ گویا دونوں جائز ہیں۔ کسی ایک کے ضروری ہونے کی صراحت نہیں۔ اگر کوئی ایک صورت ضروری ہوتی تو آپ صراحتاً اسے اختیار کرنے کی تلقین فرما دیتے‘ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ بہر حال یہ مسلک جمہور اہل علم کا ہے اور یہی درست ہے۔ احادیث صحیحہ پر عمل کرنا قیاسات پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
سابقہ احادیث میں کفارے کا ذکر قسم توڑنے سے پہلے تھا اور اس حدیث (اور آئندہ احادیث) میں قسم توڑنے کا ذکر پہلے ہے اور کفارے کا بعد میں۔ گویا دونوں جائز ہیں۔ کسی ایک کے ضروری ہونے کی صراحت نہیں۔ اگر کوئی ایک صورت ضروری ہوتی تو آپ صراحتاً اسے اختیار کرنے کی تلقین فرما دیتے‘ لیکن آپ نے ایسا نہیں کیا۔ بہر حال یہ مسلک جمہور اہل علم کا ہے اور یہی درست ہے۔ احادیث صحیحہ پر عمل کرنا قیاسات پر عمل کرنے سے کہیں بہتر ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3816]
تميم بن طرفة الطائي ← عدي بن حاتم الطائي