صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب صحبة المماليك وكفارة من لطم عبده:
باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1657 ترقیم شاملہ: -- 4300
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ، وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ، فَذَكَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَكِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْحَدَّ.
وکیع اور عبدالرحمان (بن مہدی) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابوعوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے: ”جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا۔“ انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4300]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ کی سندوں سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، ابن مہدی کی روایت میں تو یہ ہے، ”ایسی سزا دی جس کا وہ مستحق نہیں تھا“ اور وکیع کی روایت میں، ”جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا،“ کا ذکر ہے، سزا اور عقوبت کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1657
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥فراس بن يحيى الهمداني، أبو يحيى | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← فراس بن يحيى الهمداني | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4300 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4300
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو تادیب و توبیخ کی خاطر سزا دی،
لیکن وہ سزا تادیب و سرزنش سے زائد ہو گئی،
اور غلام کی پشت پر مار کا نشان پڑ گیا،
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تقویٰ اور احتیاط کی بنا پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کا کفارہ اب یہی ہے کہ اس کو آزاد کر دیا جائے،
کیونکہ ان میں اس قدر دینداری تھی کہ جب وہ اپنے کسی غلام کو دیکھتے،
وہ مسجد میں بہت بیٹھتا ہے،
چاہے محض وہ ان کے دکھاوے کے لیے یہ کام کرتا،
تو وہ اس کو آزاد کر دیتے تھے۔
فوائد ومسائل:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو تادیب و توبیخ کی خاطر سزا دی،
لیکن وہ سزا تادیب و سرزنش سے زائد ہو گئی،
اور غلام کی پشت پر مار کا نشان پڑ گیا،
اس لیے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے تقویٰ اور احتیاط کی بنا پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کا کفارہ اب یہی ہے کہ اس کو آزاد کر دیا جائے،
کیونکہ ان میں اس قدر دینداری تھی کہ جب وہ اپنے کسی غلام کو دیکھتے،
وہ مسجد میں بہت بیٹھتا ہے،
چاہے محض وہ ان کے دکھاوے کے لیے یہ کام کرتا،
تو وہ اس کو آزاد کر دیتے تھے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4300]
سفيان الثوري ← فراس بن يحيى الهمداني