صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
8. باب صحبة المماليك وكفارة من لطم عبده:
باب: غلام، لونڈی سے کیونکر سلوک کرنا چاہیئے۔
ترقیم عبدالباقی: 1658 ترقیم شاملہ: -- 4301
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: " لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي، ثُمَّ قَالَ: امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا، ثُمَّ قَالَ: كُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَعْتِقُوهَا، قَالُوا: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ: "، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا ".
معاویہ بن سوید (بن مُقرن) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور وہ بھاگ گیا، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا، پھر (غلام سے) کہا: اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا۔ پھر انہوں (میرے والد) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسے آزاد کر دو۔ لوگوں نے کہا: ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ (فی الحال) اس سے خدمت لیں، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں (دوسرا انتظام ہو جائے) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں (اسے آزاد کر دیں۔)“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4301]
حضرت معاویہ بن سوید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے ایک مولیٰ کو تھپڑ مارا تو میں بھاگ گیا، پھر ظہر سے پہلے واپس آ گیا اور اپنے والد کی اقتدا میں نماز پڑھی، تو میرے والد نے غلام کو اور مجھے طلب کیا، پھر غلام سے کہا: اس سے بدلہ لو، تو اس نے معاف کر دیا، پھر میرے والد نے بتایا کہ ہم مقرن کی اولاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں صرف ایک خادمہ کے مالک تھے، تو ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک بات پہنچ گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے آزاد کر دو۔“ بنو مقرن نے کہا کہ ان کے پاس اس کے سوا کوئی خادمہ نہیں ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اس سے خدمت لو، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں تو اس کو آزاد کر دیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 4301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1658
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥سويد بن مقرن المزني، أبو عدي، أبو عمر | صحابي | |
👤←👥معاوية بن سويد المزني، أبو سويد معاوية بن سويد المزني ← سويد بن مقرن المزني | ثقة | |
👤←👥سلمة بن كهيل الحضرمي، أبو يحيى سلمة بن كهيل الحضرمي ← معاوية بن سويد المزني | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← سلمة بن كهيل الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← سفيان الثوري | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن محمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ | |
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام عبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن نمير الهمداني | ثقة صاحب حديث من أهل السنة | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← عبد الله بن نمير الهمداني | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
4304
| أمرنا رسول الله أن نعتقه |
صحيح مسلم |
4302
| أمرنا رسول الله أن نعتقها |
صحيح مسلم |
4301
| أعتقوها قالوا ليس لهم خادم غيرها قال فليستخدموها فإذا استغنوا عنها فليخلوا سبيلها |
جامع الترمذي |
1542
| أمرنا النبي أن نعتقها |
سنن أبي داود |
5166
| أمرنا النبي بعتقها |
سنن أبي داود |
5167
| أعتقوها قالوا إنه ليس لنا خادم غيرها قال فلتخدمهم حتى يستغنوا فإذا استغنوا فليعتقوها |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4301 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4301
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر،
اپنے غلام کو کہا،
اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے،
حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا،
کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں،
اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں،
اور اگر ایسا کر بیٹھیں،
تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
فوائد ومسائل:
یہ صحابہ کرام کا کریمانہ اخلاق تھا کہ محض ایک تھپڑ مارنے پر،
اپنے غلام کو کہا،
اس سے وہی سلوک کرو جو اس نے تیرے ساتھ کیا ہے،
حالانکہ ایسے مواقع پر محض سرزنش و توبیخ کافی ہوتی ہے،
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کرام کو سبق سکھایا،
کہ وہ ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش نہ آئیں،
اور بلاوجہ مار پیٹ سے کام نہ لیں،
اور اگر ایسا کر بیٹھیں،
تو غلام آزاد کر دیں تاکہ کسی اور غلام کے ساتھ اس کام کا اعادہ نہ ہو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4301]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5166
غلام اور لونڈی کے حقوق کا بیان۔
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
ہلال بن یساف کہتے ہیں کہ ہم سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر اترے، ہمارے ساتھ ایک تیز مزاج بوڑھا تھا اور اس کے ساتھ اس کی ایک لونڈی تھی، اس نے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا تو میں نے سوید کو جتنا سخت غصہ ہوتے ہوئے دیکھا اتنا کبھی نہیں دیکھا تھا، انہوں نے کہا: تیرے پاس اسے آزاد کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں، تو نے ہمیں دیکھا ہے کہ ہم مقرن کے سات بیٹوں میں سے ساتویں ہیں، ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا، سب سے چھوٹے بھائی نے (ایک بار) اس کے منہ پر طمانچہ مار دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کے آزاد کر دینے کا حکم دیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5166]
فوائد ومسائل:
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔
چہرے پرمارنا سخت منع ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے۔
(إذا قَاتَلَ أحدُكُم أخاه فليجتنبِ الوجهَ) (صحيح مسلم، البر والصلة، حديث: 2612) جب تم سے کسی کی اپنے (مسلمان) بھائی کے ساتھ لڑائی ہوجائے تو چاہیے کہ اس کے چہرے (پرمارنے) سے بچے۔
حتیٰ کہ حیوان کے چہرے پر بھی نہین مارنا چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5166]
Sahih Muslim Hadith 4301 in Urdu
معاوية بن سويد المزني ← سويد بن مقرن المزني