🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. باب في ذكر سدرة المنتهى:
باب: سدرۃ المنتہیٰ کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 173 ترقیم شاملہ: -- 431
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَال ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ طَلْحَةَ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْتُهِيَ بِهِ إِلَى سِدْرَةِ الْمُنْتَهَى، وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا، يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الأَرْضِ، فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا، فَيُقْبَضُ مِنْهَا، قَالَ: إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى سورة النجم آية 16، قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ؟ قَالَ: فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا، أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ، وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ ".
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، وہ چھٹے آسمان پر ہے، (جبکہ اس کی شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں) وہ سب چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے، اس تک پہنچتی ہیں اور وہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے اور وہ چیزیں جنہیں اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے، وہاں پہنچتی ہیں اور وہیں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ» جب ڈھانپ لیا سدرہ (بیری کے درخت) کو جس چیز نے ڈھانپا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے کے پتنگوں نے۔ اور کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں: پانچ نمازیں عطا کی گئیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں اور آپ کی امت کے (ایسے) لوگوں کے (جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا) جہنم میں پہنچانے والے (بڑے بڑے) گناہ معاف کر دیے گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 431]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسراء کروایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا، وہ چھٹے آسمان پر ہے، اس کے پاس جا کر وہ چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے، رک جاتی ہیں اور وہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے، اور اس کے پاس آ کر رک جاتی ہیں وہ چیزیں جنہیں اس کے اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے، اور وہاں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے، (اس کے بارے میں) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿إِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشَى﴾ [سورة النجم: 16] ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سونے کے پروانے تھے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزیں عطا کی گئیں: پانچ نمازیں، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور آپ کی امت کے ان تمام لوگوں کے بڑے بڑے گناہ معاف کر دیے گئے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 431]
ترقیم فوادعبدالباقی: 173
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه الترمذي في ((جامعه)) في تفسير القرآن، باب: ومن سورة النجم، وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (3276) والنسائي في ((المجتبي)) 226/1 في الصلاة، باب: فرض الصلاة وذكر اختلاف الناقلين في اسناد حديث انس بن مالك رضي الله عنه ...... انظر ((التحفة)) برقم (9548)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥مرة الطيب، أبو إسماعيل
Newمرة الطيب ← عبد الله بن مسعود
ثقة
👤←👥طلحة بن مصرف الإيامي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newطلحة بن مصرف الإيامي ← مرة الطيب
ثقة
👤←👥الزبير بن عدي الهمداني، أبو عبد الله، أبو عدي
Newالزبير بن عدي الهمداني ← طلحة بن مصرف الإيامي
ثقة
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله
Newمالك بن مغول البجلي ← الزبير بن عدي الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← مالك بن مغول البجلي
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة حافظ
👤←👥عبد الله بن نمير الهمداني، أبو هشام
Newعبد الله بن نمير الهمداني ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة صاحب حديث من أهل السنة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← عبد الله بن نمير الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة حافظ
👤←👥مالك بن مغول البجلي، أبو عبد الله
Newمالك بن مغول البجلي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة ثبت
👤←👥حماد بن أسامة القرشي، أبو أسامة
Newحماد بن أسامة القرشي ← مالك بن مغول البجلي
ثقة ثبت
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← حماد بن أسامة القرشي
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
452
لما أسري برسول الله انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي في السماء السادسة وإليها ينتهي ما عرج به من تحتها وإليها ينتهي ما أهبط به من فوقها حتى يقبض منها قال إذ يغشى السدرة ما يغشى
صحيح مسلم
431
أسري برسول الله انتهي به إلى سدرة المنتهى وهي في السماء السادسة إليها ينتهي ما يعرج به من الأرض فيقبض منها وإليها ينتهي ما يهبط به من فوقها فيقبض منها قال إذ يغشى السدرة ما يغشى
جامع الترمذي
3276
انتهى إليها ما يعرج من الأرض وما ينزل من فوق قال فأعطاه الله عندها ثلاثا لم يعطهن نبيا كان قبله فرضت عليه الصلاة خمسا وأعطي خواتيم سورة البقرة وغفر لأمته المقحمات ما لم يشركوا بالله شيئا
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 431 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 431
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ:
سونے کے پتنگے،
چراغ کی روشنی پر گرنے والے پروانے مراد ہیں۔
(2)
الْمُقْحِمَاتُ:
اقحام کا معنی ہوتا ہے،
کسی کو بلا سوچے سمجھے داخل کرنا۔
"أَقْحَمَ فَرَسَهُ النَّهْرَ" اپنے گھوڑے کو جبراً نہر میں داخل کیا۔
الْمُقْحِمَاتُ:
سے مراد وہ بڑے بڑے گناہ ہیں جو انسان کی تباہی و بربادی کا باعث ہیں۔
فوائد ومسائل:
(1)
سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان سے شروع ہو کر ساتویں آسمان کے اوپر تک پھیلی ہوئی ہے،
اس کی جڑیں چھٹے آسمان پر ہیں اور شاخیں ساتویں پر ہیں۔
(2)
بعض لوگوں کے ایمان کی پختگی اور نیکیوں کی وجہ سے سب گناہ معاف ہو جائیں گے،
یہ اللہ تعالیٰ کا کرم واحسان ہے یا پھر بقدر جرم وگناہ عذاب کے بعد ان کے گناہ ختم ہو جائیں گے اور پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے۔
نوٹ:
۔
مندرجہ ذیل تین حدیثیں ہندوستانی اور پاکستانی نسخوں میں اگلے باب کے تحت درج ہیں۔
اور ان کا تعلق بھی اگلے باب ہی سے ہے۔
لیکن بیروت نسخے میں مذکورہ بالا باب کے تحت ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 431]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 452
نماز کی فرضیت اور اس سلسلے میں انس بن مالک کی حدیث کی سند میں راویوں کے اختلاف اور اس (کے متن) میں ان کے لفظی اختلاف کا ذکر۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (معراج کی شب) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جایا گیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کو لے کر سدرۃ المنتہیٰ پہنچے، یہ چھٹے آسمان پر ہے ۱؎ جو چیزیں نیچے سے اوپر چڑھتی ہیں ۲؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، اور جو چیزیں اس کے اوپر سے اترتی ہیں ۳؎ یہیں ٹھہر جاتی ہیں، یہاں تک کہ یہاں سے وہ لی جاتی ہیں ۴؎ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت کریمہ «إذ يغشى السدرة ما يغشى» ۵؎ (جب کہ سدرۃ کو ڈھانپ لیتی تھیں وہ چیزیں جو اس پر چھا جاتی تھیں) پڑھی اور (اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے) کہا: وہ سونے کے پروانے تھے، تو (وہاں) آپ کو تین چیزیں دی گئیں: پانچ نمازیں، سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں ۶؎، اور آپ کی امت میں سے اس شخص کی کبیرہ گناہوں کی بخشش، جو اللہ کے ساتھ بغیر کچھ شرک کئے مرے۔ [سنن نسائي/كتاب الصلاة/حدیث: 452]
452 ۔ اردو حاشیہ:
➊ براق کا ذکر روایات معراج میں بیت المقدس تک ہی ملتا ہے، اس لیے کہا گیا ہے کہ بیت المقدس سے آگے آسمانوں کا سفر ایک سیڑھی نما چیز معراج کے ذریعے سے ہوا لیکن اس کی کوئی واضح دلیل موجود نہیں۔ واللہ اعلم۔
➋ بیت المقدس میں تمام انبیاء علیہم السلام کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کے لیے حاضر ہونا اور آپ کا ان کی امامت کروانا آپ کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے جو کسی اور نبی کو نصیب نہیں ہوا۔ ظاہر تو یہی ہے کہ انبیاء علیہم السلام جسمانی طور پر حاضر تھے نہ کہ صرف روحانی طور پر جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر بیت المقدس اور آسمانوں پر تشریف لے گئے۔ فوت شدہ انبیاء علیہم السلام کے جسم بھی اللہ تعالیٰ محفوظ رکھتا ہے۔ [سنن ابی داود، الصلاة، حدیث: 1047]
اگر انبیاء علیہم السلام صرف روحانی طور پر ہی لائے گئے ہوں تو بھی واقعہ کی اہمیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ بہرحال یہ معاملہ برزخ کا ہے جو انسان کی رسائی سے باہر ہے۔
➌عام احادیث میں سدرۃ المنتہیٰ تک جانے کا ذکر ہی ملتا ہے مگر صحیحین کی ایک روایت میں ایک اور مقام پر آپ کے چڑھنے کا ذکر ہے جہاں سے آپ کو قلموں کی سرسراہٹ بھی سنائی دی۔ [صحیح البخاري، الصلاة، حدیث: 349، وصحیح مسلم، الایمان، حدیث: 163]
لیکن اس مقام کا کوئی نام ذکر نہیں کیا گیا۔
➍سورۃ البقرہ کی آخری آیات کا نزول بالاتفاق مدنی ہے اور واقعہ معراج مکی ہے۔ معراج میں سورۂ بقرہ کی آخری آیات دیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہ آیات عطا کرنے کا وعدہ کر لیا گیا جب کہ نزول بعد میں مدینہ منورہ میں ہوا۔ واللہ أعلم۔
➎کبائر کی معافی کی دو صورتیں ہوں گی: جس کواللہ تعالیٰ چاہے گا پہلے مرحلے ہی میں اپنے فضل و کرم سے معاف فرما کر جنت میں داخل فرما دے گا کیونکہ بعض کے بلاتوبہ بھی کبائر معاف ہو جائیں گے، ورنہ جہنم میں سزا بھگت کر پھر معافی ہو گی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 452]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3276
سورۃ النجم سے بعض آیات کی تفسیر۔
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (معراج کی رات) سدرۃ المنتہیٰ کے پاس پہنچے تو کہا: یہی وہ آخری جگہ ہے جہاں زمین سے چیزیں اٹھ کر پہنچتی ہیں اور یہی وہ بلندی کی آخری حد ہے جہاں سے چیزیں نیچے آتی اور اترتی ہیں، یہیں اللہ نے آپ کو وہ تین چیزیں عطا فرمائیں جو آپ سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں فرمائی تھیں، (۱) آپ پر پانچ نمازیں فرض کی گئیں، (۲) سورۃ البقرہ کی «خواتیم» (آخری آیات) عطا کی گئیں، (۳) اور آپ کی امتیوں میں سے جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، ان کے مہلک و بھیانک گناہ بھی بخش دیئے گئے، (پھ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3276]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ڈھانپ رہی تھی سدرہ کو جو چیز ڈھانپ رہی تھی (النجم: 16)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3276]

Sahih Muslim Hadith 431 in Urdu