علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
2. باب حكم المحاربين والمرتدين:
باب: لڑنے والوں کا اور اسلام سے پھر جانے والوں کا حکم۔
ترقیم عبدالباقی: 1671 ترقیم شاملہ: -- 4357
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ وَهُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ الْحَرَّانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ،
یحییٰ بن ابی کثیر نے ابوقلابہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: (قبیلہ) عُکل کے آٹھ افراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔۔ آگے انہی کی حدیث کی طرح ہے اور انہوں نے حدیث میں یہ الفاظ زائد بیان کیے: اور آپ نے (خون روکنے کے لیے) انہیں داغ نہیں دیا۔ (اس طرح وہ جلدی موت کے منہ میں چلے گئے۔) [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4357]
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عکل قبیلہ کے آٹھ افراد آئے، آگے مذکورہ بالا حدیث ہے، جس میں یہ اضافہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو داغا نہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1671
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4357 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4357
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
ان لوگوں کو ارتداد اور قصاص کی بناء پر قتل کرنا مقصود تھا،
چور کی سزا کی طرح صرف ہاتھ کاٹنا مطلوب نہیں تھا،
اس لیے چور کے ہاتھ کو تو اس کی زندگی بچانے کے لیے داغا جاتا ہے،
تاکہ خون بند ہو جائے،
لیکن ان کو داغ نہیں لگایا،
تاکہ خون کے بند ہونے سے زندگی نہ بچ سکے۔
فوائد ومسائل:
ان لوگوں کو ارتداد اور قصاص کی بناء پر قتل کرنا مقصود تھا،
چور کی سزا کی طرح صرف ہاتھ کاٹنا مطلوب نہیں تھا،
اس لیے چور کے ہاتھ کو تو اس کی زندگی بچانے کے لیے داغا جاتا ہے،
تاکہ خون بند ہو جائے،
لیکن ان کو داغ نہیں لگایا،
تاکہ خون کے بند ہونے سے زندگی نہ بچ سکے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4357]
Sahih Muslim Hadith 4357 in Urdu
عبد الله بن زيد الجرمي ← أنس بن مالك الأنصاري