صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
4. باب الصائل على نفس الإنسان او عضوه إذا دفعه المصول عليه فاتلف نفسه او عضوه لا ضمان عليه:
باب: جب کوئی دوسرے کی جان یا عضو پر حملہ کرے اور وہ اس کو دفع کرے اور دفع کرنے میں حملہ کرنے والے کی جان یا عضو کو نقصان پہنچے تو اس پر کچھ تاوان نہ ہو گا (یعنی حفاظت خود اختیاری جرم نہیں ہے)۔
ترقیم عبدالباقی: 1673 ترقیم شاملہ: -- 4370
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ " أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَانْتَزَعَ يَدَهُ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتُهُ أَوْ ثَنَايَاهُ، فَاسْتَعْدَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَأْمُرُنِي تَأْمُرُنِي أَنْ آمُرَهُ أَنْ يَدَعَ يَدَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ، ادْفَعْ يَدَكَ حَتَّى يَعَضَّهَا ثُمَّ انْتَزِعْهَا ".
محمد بن سیرین نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ کو دانتوں سے کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے والا ایک یا دو دانت گر گئے، اس پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہتے ہو؟ تم مجھے یہ کہتے ہو کہ میں اسے یہ کہوں: وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں ہی رہنے دے تاکہ اور تم اس طرح اسے چباؤ جس طرح سانڈ چباتا ہے؟ تم بھی اپنا ہاتھ (اس کے منہ کی طرف) بڑھاؤ حتی کہ وہ اسے کاٹنے لگے، پھر تم اسے کھینچ لینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4370]
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ دانتوں سے چبایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، تو اس کا سامنے کا ایک دانت یا دونوں ٹوٹ گئے، (گر گئے) تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد طلب کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو مجھے کیا مشورہ یا ہدایت دیتا ہے، یہ مشورہ دیتا ہے کہ میں اسے حکم دوں، وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رہنے دیتا اور تو اسے کاٹتا رہتا، جس طرح اونٹ چباتا ہے؟ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں رکھ تاکہ وہ اسے چبائے، پھر اس کو کھینچ لینا۔“ [صحيح مسلم/كتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات/حدیث: 4370]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1673
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيد | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥قريش بن أنس الأنصاري، أبو أنس قريش بن أنس الأنصاري ← عبد الله بن عون المزني | صدوق تغير بآخره قدر ست سنين | |
👤←👥أحمد بن عثمان النوفلي، أبو الجوزاء، أبو عثمان أحمد بن عثمان النوفلي ← قريش بن أنس الأنصاري | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
6892
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية لك |
صحيح مسلم |
4370
| يدع يده في فيك تقضمها كما يقضم الفحل ادفع يدك حتى يعضها ثم انتزعها |
صحيح مسلم |
4368
| رجلا عض ذراع رجل فجذبه فسقطت ثنيته فرفع إلى النبي فأبطله وقال أردت أن تأكل لحمه |
جامع الترمذي |
1416
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية لك أنزل الله والجروح قصاص |
سنن النسائى الصغرى |
4766
| أردت أن تقضم ذراع أخيك كما يقضم الفحل فأبطلها |
سنن النسائى الصغرى |
4765
| لا دية لك |
سنن النسائى الصغرى |
4764
| يعض أحدكم أخاه كما يعض الفحل لا دية له |
سنن النسائى الصغرى |
4763
| أردت أن تقضم لحم أخيك كما يقضم الفحل |
سنن النسائى الصغرى |
4762
| إن شئت فادفع إليه يدك حتى يقضمها ثم انتزعها إن شئت |
سنن ابن ماجه |
2657
| يقضم أحدكم كما يقضم الفحل |
بلوغ المرام |
1028
| يعض أحدكم كما يعض الفحل ؟ لا دية له |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4370 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4370
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
استعدي:
نصرت و اعانت طلب کی۔
فوائد ومسائل:
کوئی آدمی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ دوسرا آدمی اس کا ہاتھ چبانے لگے،
اور وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں چھوڑ دے کہ وہ اسے چباتا رہے،
یہ ایک طبعی اور انسانی فطرت ہے،
اس لیے اس پر مؤاخذہ کیسے ہو سکتا ہے،
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعاتی اور نفسیاتی انداز میں اس کو بات سمجھا دی کہ تیرا مطالبہ درست نہیں ہے،
اگر تو ہوتا،
تو تو بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیتا۔
مفردات الحدیث:
استعدي:
نصرت و اعانت طلب کی۔
فوائد ومسائل:
کوئی آدمی اس بات کو گوارا نہیں کرتا کہ دوسرا آدمی اس کا ہاتھ چبانے لگے،
اور وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں چھوڑ دے کہ وہ اسے چباتا رہے،
یہ ایک طبعی اور انسانی فطرت ہے،
اس لیے اس پر مؤاخذہ کیسے ہو سکتا ہے،
اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعاتی اور نفسیاتی انداز میں اس کو بات سمجھا دی کہ تیرا مطالبہ درست نہیں ہے،
اگر تو ہوتا،
تو تو بھی اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ لیتا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4370]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 1028
مجرم (بدنی نقصان پہنچانے والے) سے لڑنے اور مرتد کو قتل کرنے کا بیان
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1028»
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ کی ایک شخص سے لڑائی ہو گئی۔ ایک نے دوسرے کو دانتوں سے کاٹا تو اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچ کر باہر نکالا تو اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ کر گر گیا۔ دونوں اپنا جھگڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تم ایک دوسرے کو اس طرح کاٹ کھاتے ہو جس طرح نر اونٹ کاٹتا ہے۔ اس کے لیے کوئی دیت نہیں۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1028»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الديات، باب إذا عض رجلاً فوقعت ثناياه، حديث:6892، ومسلم، القسامة، باب الصائل علي نفس الإنسان وعضوه، إذا دفعه...، حديث:1673.» تشریح:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی شخص کی طرف سے پہنچنے والے نقصان اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اگر انسان سے کوئی جرم ہو جائے تو وہ جرم قابل مؤاخذہ نہیں۔
جمہور کا یہی مذہب ہے۔
«أخرجه البخاري، الديات، باب إذا عض رجلاً فوقعت ثناياه، حديث:6892، ومسلم، القسامة، باب الصائل علي نفس الإنسان وعضوه، إذا دفعه...، حديث:1673.»
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کسی شخص کی طرف سے پہنچنے والے نقصان اور ضرر کو دور کرنے کے لیے اگر انسان سے کوئی جرم ہو جائے تو وہ جرم قابل مؤاخذہ نہیں۔
جمہور کا یہی مذہب ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1028]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث4762
دانت کے قصاص کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ لیا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا، تو اس کا ایک دانت ٹوٹ کر گر گیا (یا دو دانت) اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فریاد کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ کیا یہ کہ میں اسے حکم دوں کہ وہ اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں دئیے رہے تاکہ تم اسے جانور کی طرح چبا ڈالو، اگر تم چاہو تو اپنا ہاتھ اسے دو تاکہ وہ اسے چبائے پھر اگر چاہو تو اسے کھینچ لینا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4762]
اردو حاشہ:
(1) مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو دانت کاٹے اور دوسرا شخص، کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لے جس کی وجہ سے دانت کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ جائے تو اس کا کوئی قصاص نہیں ہوگا۔ اگر اس میں قصاص واجب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قصاص لے کر دیتے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ فیصلہ کرانے کے لیے حاکم وقت کے پاس مقدمہ پیش کرنا درست ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان خود بخود ہی قصاص لینا شروع نہ کر دے۔ ایسا کرنے سے ظلم وزیادتی اور شر وفساد پھیلنے کا اندیشہ ہے جس سے معاشرے کا امن وامان تباہ ہوگا۔
(3) بوقت ضرورت آدمی کو جانور کے ساتھ تشبیہ دینا جائز ہے۔ اس کا اصل مقصد ایسے برے فعل سے نفرت دلانا ہوتا ہے جو اس کے شایانِ شان نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے اس غلط کام کو جانور کے کام کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حملہ آور سے اپنا دفاع کرنا، شرعاً درست اور جائز ہے۔ بالخصوص جب اس کے بغیر خلاصی ناممکن ہو۔ اس دوران حملہ آور کا اگر کوئی عضو ضائع بھی ہو جائے تو دفاع کرنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہاتھ چبانے والے شخص کا دانت اکھڑ گیا اور آپ نے اس کی کوئی قیمت نہ لگائی۔
(1) مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو دانت کاٹے اور دوسرا شخص، کاٹنے والے کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچ لے جس کی وجہ سے دانت کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ جائے تو اس کا کوئی قصاص نہیں ہوگا۔ اگر اس میں قصاص واجب ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قصاص لے کر دیتے۔
(2) اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ فیصلہ کرانے کے لیے حاکم وقت کے پاس مقدمہ پیش کرنا درست ہے، نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان خود بخود ہی قصاص لینا شروع نہ کر دے۔ ایسا کرنے سے ظلم وزیادتی اور شر وفساد پھیلنے کا اندیشہ ہے جس سے معاشرے کا امن وامان تباہ ہوگا۔
(3) بوقت ضرورت آدمی کو جانور کے ساتھ تشبیہ دینا جائز ہے۔ اس کا اصل مقصد ایسے برے فعل سے نفرت دلانا ہوتا ہے جو اس کے شایانِ شان نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے اس غلط کام کو جانور کے کام کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔
(4) اس حدیث مبارکہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ حملہ آور سے اپنا دفاع کرنا، شرعاً درست اور جائز ہے۔ بالخصوص جب اس کے بغیر خلاصی ناممکن ہو۔ اس دوران حملہ آور کا اگر کوئی عضو ضائع بھی ہو جائے تو دفاع کرنے والے سے قصاص نہیں لیا جائے گا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہاتھ چبانے والے شخص کا دانت اکھڑ گیا اور آپ نے اس کی کوئی قیمت نہ لگائی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4762]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2657
ایک آدمی نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت کاٹا، اس کے ہاتھ کھینچنے پر کاٹنے والے کے آگے کے دو دانت گر گئے تو اس کے حکم کا بیان۔
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: ”تم میں سے ایک (دوسرے کے ہاتھ کو) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2657]
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دوسرے کے بازو کو کاٹا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کا سامنے کا دانت گر گیا، مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو باطل قرار دیا، اور فرمایا: ”تم میں سے ایک (دوسرے کے ہاتھ کو) ایسے چباتا ہے جیسے اونٹ۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الديات/حدیث: 2657]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جس پر حملہ کیا جائے وہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
(2)
اس کوشش میں اگر حملہ آور کو نقصان پہنچ جائے تو اسے دوسرے سے جرمانہ نہیں دلایا جائے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
جس پر حملہ کیا جائے وہ اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
(2)
اس کوشش میں اگر حملہ آور کو نقصان پہنچ جائے تو اسے دوسرے سے جرمانہ نہیں دلایا جائے گا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2657]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1416
قصاص کا بیان۔
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1416]
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: «والجروح قصاص» ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الديات/حدیث: 1416]
اردو حاشہ:
وضاخت:
1؎:
یعنی:
زخموں کا بھی بدلہ ہے۔
(المائدہ: 45)،
لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیاجائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔
وضاخت:
1؎:
یعنی:
زخموں کا بھی بدلہ ہے۔
(المائدہ: 45)،
لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیاجائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1416]
محمد بن سيرين الأنصاري ← عمران بن حصين الأزدي