صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب كراهة تمني لقاء العدو والامر بالصبر عند اللقاء:
باب: جنگ کی آرزو کرنا منع ہے اور جنگ کے وقت صبر کرنا لازم ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1741 ترقیم شاملہ: -- 4541
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُمْ فَاصْبِرُوا ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے مقابلے کی تمنا مت کرو، لیکن جب تمہارا ان سے مقابلہ ہو تو صبر کرو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4541]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دشمن سے ٹکراؤ یا مقابلہ کی تمنا نہ کرو اور جب اس سے مقابلہ ہو جائے تو ثابت قدم رہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4541]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1741
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4541 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4541
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے،
بلکہ اہمیت اور وزن دینا چاہیے،
تاکہ صحیح تیاری ہو سکے اور جب جنگ کے بغیر کام چل سکتا ہو تو محض اپنی طاقت کے بھروسہ پر،
اپنی قوت بازو پر اعتماد کرتے ہوئے،
اپنے آپ کو بہت کچھ خیال کرتے ہوئے،
دشمن سے ٹکراؤ کی خواہش اور آرزو نہیں کرنی چاہیے،
ہاں اگر لڑائی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو ظاہری اسباب اور وسائل سے کام لیتے ہوئے،
اللہ کی نصرت و حمایت کے حصول کی دعا کرتے ہوئے مقابلہ میں جم جانا چاہیے اور مقابلہ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن کو حقیر نہ سمجھنا چاہیے،
بلکہ اہمیت اور وزن دینا چاہیے،
تاکہ صحیح تیاری ہو سکے اور جب جنگ کے بغیر کام چل سکتا ہو تو محض اپنی طاقت کے بھروسہ پر،
اپنی قوت بازو پر اعتماد کرتے ہوئے،
اپنے آپ کو بہت کچھ خیال کرتے ہوئے،
دشمن سے ٹکراؤ کی خواہش اور آرزو نہیں کرنی چاہیے،
ہاں اگر لڑائی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو ظاہری اسباب اور وسائل سے کام لیتے ہوئے،
اللہ کی نصرت و حمایت کے حصول کی دعا کرتے ہوئے مقابلہ میں جم جانا چاہیے اور مقابلہ سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4541]
Sahih Muslim Hadith 4541 in Urdu
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي