صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب قول النبي صلى الله عليه وسلم: «لا نورث ما تركنا فهو صدقة».
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول کہ جو مال ہم چھوڑ جائیں اس کا کوئی وارث نہیں بلکہ وہ صدقہ ہوتا ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 1759 ترقیم شاملہ: -- 4581
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وقَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ فَاطِمَةَ، وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ، فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَكْرٍ، وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِي بَكْرٍ، فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِيٍّ، فَقَالُوا: أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ، فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکے سے اپنی وراثت کا مطالبہ کر رہے تھے، اس وقت وہ آپ کی فدک کی زمین اور خیبر سے آپ کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔۔ انہوں نے بھی زہری سے عقیل کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی، البتہ انہوں نے کہا: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت بیان کی اور ان کی فضیلت اور (اسلام میں) سبقت کا ذکر کیا، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی، اس پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف آئے اور کہنے لگے: آپ نے درست کیا، بہت اچھا کیا۔ جب وہ (حضرت علی رضی اللہ عنہ) امارت اور (اس کے حوالے سے) پسندیدہ روش کے قریب ہوئے تو لوگ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4581]
امام صاحب اپنے تین اور اساتذہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت بیان کرتے ہیں کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ سے اپنے حصے کا مطالبہ کرنے کے لیے آئے، وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فدک کی زمین اور خیبر کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دونوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، (آگے مذکورہ بالا حدیث ہے)، ہاں اتنا فرق ہے کہ معمر کہتے ہیں: پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عظیم حق کو بیان کیا، ان کی فضیلت کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے درست کیا اور آپ نے اچھا کام کیا اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ معروف بات کے قریب ہوئے تو لوگ ان کے قریب آ گئے۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4581]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1759
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
Sahih Muslim Hadith 4581 in Urdu
عائشة بنت أبي بكر الصديق ← أبو بكر الصديق