الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
83. باب آخر اهل النار خروجا:
باب: جہنم سے جو آخری شخص نکلے گا۔
ترقیم عبدالباقی: 186 ترقیم شاملہ: -- 461
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ كِلَاهُمَا، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنْهَا، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ حَبْوًا، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيَأْتِيهَا فَيُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهَا مَلْأَى، فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَجَدْتُهَا مَلْأَى، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهَا، أَوْ إِنَّ لَكَ عَشَرَةَ أَمْثَالِ الدُّنْيَا، قَالَ: فَيَقُولُ: أَتَسْخَرُ بِي، أَوْ أَتَضْحَكُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ، حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَكَانَ يُقَالُ: ذَاكَ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ".
منصور نے ابراہیم سے، انہوں نے عبیدہ سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں اسے جانتا ہوں جو دوزخ والوں میں سب سے آخر میں اس سے نکلے گا اور جنت والوں میں سے سب سے آخر میں جنت میں جائے گا۔ وہ ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور پیٹ کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جاؤ۔ وہ جنت میں آئے گا تو اسے یہ خیال دلایا جائے گا کہ جنت بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھے تو وہ بھری ہوئی ملی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ آپ نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا تو اسے یہی لگے گا کہ وہ بھری ہوئی ہے۔ وہ واپس آ کر (پھر) کہے گا: اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا۔ تیرے لیے (وہاں) پوری دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زیادہ جگہ ہے (یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا زیادہ جگہ ہے) آپ نے فرمایا: وہ شخص کہے گا: کیا تو میرے ساتھ مزاح کرتا ہے (یا میری ہنسی اڑاتا ہے) حالانکہ تو ہی بادشاہ ہے؟“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنس دیے یہاں تک کہ آپ کے پچھلے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: چنانچہ یہ کہا جاتا تھا کہ یہ شخص سب سے کم مرتبہ جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 461]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک میں جانتا ہوں کہ جہنم سے سب سے آخر میں کون نکلے گا، اور جنت میں سب سے آخر میں کون داخل ہوگا؟ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا آگ سے نکلے گا۔ اللہ تعالیٰ (آخر میں اسے) فرمائے گا جا! جنت میں داخل ہو جا! وہ جنت میں داخل ہوگا، تو وہ یہ سمجھے گا کہ جنت بھر چکی ہے۔ واپس آکر عرض کرے گا اے میرے رب! وہ تو بھر چکی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: جا جنت میں داخل ہو جا! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ (دوبارہ) جائے گا، تو اسے محسوس ہوگا، وہ تو بھر چکی ہے۔ واپس آ کر پھر کہے گا اے میرے رب! میں نے تو اسے بھری ہوئی پایا ہے۔ اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا: جا کر جنت میں داخل ہو جا! کیونکہ تیرے لیے دنیا کے برابر اور اس سے دس گنا زائد جگہ ہے، یا تیرے لیے دنیا سے دس گنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص عرض کرے گا، کیا تو مجھ سے مذاق کرتا ہے یا ہنسی کرتا ہے؟ حالانکہ تو بادشاہ ہے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہنسے، یہاں تک کہ آپ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہو گئیں۔ راوی کہتے ہیں: اس بناء پر کہا جاتا تھا، یہ سب سے کم درجے والا جنتی ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإيمان/حدیث: 461]
ترقیم فوادعبدالباقی: 186
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في الرقاق، باب: صفة الجنة والنار برقم (6571) و في التوحيد، باب: كلام الرب عزوجل يوم القيامة مع الانبياء وغيرهم برقم (7511) مختصراً والترمذي في ((جامعه)) فى صفة جهنم، باب: ما جاء ان اللنار، نفسين، وما ذكر من يخرج من النار من اهل التوحيد . وقال: هذا حديث حسن صحيح برقم (2595) وابن ماجه في ((سننه)) في الزهد، باب: صفة الجنة برقم (4339) انظر ((التحفة)) برقم (9405)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
462
| آخر أهل النار خروجا من النار رجل يخرج منها زحفا فيقال له انطلق فادخل الجنة قال فيذهب فيدخل الجنة فيجد الناس قد أخذوا المنازل فيقال له أتذكر الزمان الذي كنت فيه فيقول نعم فيقال له تمن فيتمنى فيقال له لك الذي تمنيت وعشرة أضعاف الدنيا قال فيقول أتسخر بي وأنت |
صحيح مسلم |
461
| آخر أهل النار خروجا منها وآخر أهل الجنة دخولا الجنة رجل يخرج من النار حبوا فيقول الله تبارك و له اذهب فادخل الجنة فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى فيرجع فيقول يا رب وجدتها ملأى فيقول الله تبارك و له اذهب فادخل الجنة قال فيأتيها فيخيل إليه أنها ملأى |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 461 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 461
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
:
(1)
حَبْوًا:
ہاتھوں اور پاؤں کے بل پر،
ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل پر یا ہاتھوں اور سرین کے بل پر چلنا۔
(2)
نَوَاجِذُهُ:
ناجذ کی جمع ہے،
داڑھیں۔
(3)
مَنْزِلَةٌ:
مقام و مرتبہ،
درجہ۔
فوائد ومسائل:
یہ مختصرروایت ہے،
اورجنتی آدمی کاتفصیلی مکالمہ حدیث 299/182 میں گزرچکاہے۔
مفردات الحدیث:
:
(1)
حَبْوًا:
ہاتھوں اور پاؤں کے بل پر،
ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل پر یا ہاتھوں اور سرین کے بل پر چلنا۔
(2)
نَوَاجِذُهُ:
ناجذ کی جمع ہے،
داڑھیں۔
(3)
مَنْزِلَةٌ:
مقام و مرتبہ،
درجہ۔
فوائد ومسائل:
یہ مختصرروایت ہے،
اورجنتی آدمی کاتفصیلی مکالمہ حدیث 299/182 میں گزرچکاہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 461]
عبيدة بن عمرو السلمانى ← عبد الله بن مسعود