علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
34. باب صلح الحديبية في الحديبية:
باب: حدیبیہ میں جو صلح ہوئی اس کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1786 ترقیم شاملہ: -- 4638
وحَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ.
معتمر کے والد (سلیمان)، ہمام اور شیبان سب نے قتادہ سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سعید بن ابی عروبہ کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4638]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی سندوں سے، مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4638]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1786
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4638 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4638
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے ان احادیث سے جن میں کتب کا لفظ آیا ہے،
مثلاً (كَتَب إلی قيصر و إلی كسریٰ كَتَب إلی أهل اليمن،
كتب النبی صلی الله عليه وسلم)
وغیرہ الفاظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ تمام خطوط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود لکھے تھے،
لہذا آپ لکھنا جانتے تھے،
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھنے کے لیے،
حضرت زید بن ثابت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مقرر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لکھتے تھے اور جو آپ چاہتے،
وہی لکھتے تھے،
اس لیے،
لکھنے کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے اور یہ معروف طریقہ ہے کہ نسبت آمر (حکم دینے والا)
کی طرف کی جاتی ہے،
مثلاً ابو شاہ لینی نے کہا تھا (اُكتُب لی يا رسول الله)
اے اللہ کے رسول! مجھے لکھ دیجئے،
یعنی لکھوا دیجئے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اُكتبوا لأَبِی شاه)
ابو شاہ کو لکھ دو۔
فوائد ومسائل:
بعض حضرات نے ان احادیث سے جن میں کتب کا لفظ آیا ہے،
مثلاً (كَتَب إلی قيصر و إلی كسریٰ كَتَب إلی أهل اليمن،
كتب النبی صلی الله عليه وسلم)
وغیرہ الفاظ سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ تمام خطوط آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود لکھے تھے،
لہذا آپ لکھنا جانتے تھے،
حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط لکھنے کے لیے،
حضرت زید بن ثابت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مقرر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے لکھتے تھے اور جو آپ چاہتے،
وہی لکھتے تھے،
اس لیے،
لکھنے کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے اور یہ معروف طریقہ ہے کہ نسبت آمر (حکم دینے والا)
کی طرف کی جاتی ہے،
مثلاً ابو شاہ لینی نے کہا تھا (اُكتُب لی يا رسول الله)
اے اللہ کے رسول! مجھے لکھ دیجئے،
یعنی لکھوا دیجئے،
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(اُكتبوا لأَبِی شاه)
ابو شاہ کو لکھ دو۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4638]
Sahih Muslim Hadith 4638 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري