صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
5. باب فضيلة الإمام العادل وعقوبة الجائر والحث على الرفق بالرعية والنهي عن إدخال المشقة عليهم:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
ترقیم عبدالباقی: 1829 ترقیم شاملہ: -- 4728
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَى.
بسر بن سعید نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے ہم معنی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4728]
امام صاحب رحمہ اللہ ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت کی ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4728]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1829
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4728 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4728
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
ہر انسان نگران اور محافظ ہے،
کسی کا دائرہ کار بہت وسیع ہے،
اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی وسیع ہیں اور کسی کا دائرہ محدود ہے،
اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی محدود ہیں اور ہر ایک سے اس کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے مناسب سوال ہوگا ایک انسان ایک ملک کا حاکم ہے اور ایک صرف اپنے اعضاء وجوارح کا نگران ہے،
ابھی اس کے ذمہ کوئی اور کام نہیں ہے،
صرف اپنے والدین اور اپنے عزیزواقارب سے سلوک کے بارے میں مسئول ہے،
اس اعتبار سے کوئی ایک بالغ مرد یا عورت مسئولیت سے خالی نہیں ہے،
ہر ایک جواب دہ ہے،
اس لیے ہر انسان کو ابھی سے تیار رہنا چاہیے اور سوچ لینا چاہیے،
اس نے اپنے فرائض کی ادائیگی کہاں تک شرعی حدود اور ان کے لوازمات کی پابندی کیساتھ کی ہے اور کہاں شرعی حدودو ضوابط کو پامال کیا۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے،
ہر انسان نگران اور محافظ ہے،
کسی کا دائرہ کار بہت وسیع ہے،
اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی وسیع ہیں اور کسی کا دائرہ محدود ہے،
اس لیے اس کی ذمہ داریاں بھی محدود ہیں اور ہر ایک سے اس کی حیثیت اور مقام و مرتبہ کے مناسب سوال ہوگا ایک انسان ایک ملک کا حاکم ہے اور ایک صرف اپنے اعضاء وجوارح کا نگران ہے،
ابھی اس کے ذمہ کوئی اور کام نہیں ہے،
صرف اپنے والدین اور اپنے عزیزواقارب سے سلوک کے بارے میں مسئول ہے،
اس اعتبار سے کوئی ایک بالغ مرد یا عورت مسئولیت سے خالی نہیں ہے،
ہر ایک جواب دہ ہے،
اس لیے ہر انسان کو ابھی سے تیار رہنا چاہیے اور سوچ لینا چاہیے،
اس نے اپنے فرائض کی ادائیگی کہاں تک شرعی حدود اور ان کے لوازمات کی پابندی کیساتھ کی ہے اور کہاں شرعی حدودو ضوابط کو پامال کیا۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4728]
Sahih Muslim Hadith 4728 in Urdu
بسر بن سعيد الحضرمي ← عبد الله بن عمر العدوي