صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
17. باب خيار الائمة وشرارهم:
باب: اچھے اور برے حاکموں کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 1855 ترقیم شاملہ: -- 4806
وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ رُزَيْقٌ مَوْلَى بَنِي فَزَارَةَ، قَالَ مُسْلِم: وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ قَرَظَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلم.
اسحٰق بن موسیٰ انصاری نے کہا: ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن جابر نے اسی سند سے خبر دی اور کہا: بنو فزارہ کے آزاد کردہ غلام رزیق۔ امام مسلم نے کہا: یہ حدیث معاویہ بن صالح نے بھی ربیعہ بن یزید سے روایت کی، انہوں نے مسلم بن قرظہ سے، انہوں نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4806]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے ایک اور استاذ سے مذکورہ بالا حدیث بیان کرتے ہیں اور امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہی روایت معاویہ بن صالح رحمہ اللہ نے بھی اپنی سند سے بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4806]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1855
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4806 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4806
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دو قسم کے حکمرانوں کی نشاندہی کی گئی ہے،
ایک وہ حکمران جو اپنی رعایا کے ہمدرد اور خیرخواہ ہیں،
ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور ان کی مشکلات کو حل کرتے ہیں،
اس لیے لوگ ان سے پیار و محبت کرتے ہیں،
ان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں اور ان کی موت کے بعد بھی ان کے جنازہ میں شرکت کرتے ہیں،
دوسرے وہ حکمران جو اپنے مفادات کے اسیر ہیں،
لوگوں کے مفادات اور مشکلات کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے،
اپنے سوا کسی سے انہیں ہمدردی نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے سوا کسی کے خیرخواہ ہیں،
یہ درحقیقت اپنے ہی دشمن ہیں،
لوگوں کی بددعائیں لیتے ہیں،
ان کے غیظ و غضب اور نفرت و کراہت کا نشانہ بنتے ہیں،
ان کے مرنے پر کوئی ان کے لیے آنسو نہیں بہاتا،
اس طرح ایک دوسرے انداز سے حکمرانوں کو اپنی رعایا کی ہمدردی اور خیرخواہی پر ابھارا گیا ہے،
تاکہ وہ ان کی نیک دعائیں لیں اور ان کی محبت و مودت کا مرکز بنیں،
ان کی قہر آلود آنکھوں کا نشانہ نہ بنیں۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں دو قسم کے حکمرانوں کی نشاندہی کی گئی ہے،
ایک وہ حکمران جو اپنی رعایا کے ہمدرد اور خیرخواہ ہیں،
ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں اور ان کی مشکلات کو حل کرتے ہیں،
اس لیے لوگ ان سے پیار و محبت کرتے ہیں،
ان کے حق میں دعائیں کرتے ہیں اور ان کی موت کے بعد بھی ان کے جنازہ میں شرکت کرتے ہیں،
دوسرے وہ حکمران جو اپنے مفادات کے اسیر ہیں،
لوگوں کے مفادات اور مشکلات کا انہیں کوئی احساس نہیں ہے،
اپنے سوا کسی سے انہیں ہمدردی نہیں ہے اور نہ ہی وہ اپنے سوا کسی کے خیرخواہ ہیں،
یہ درحقیقت اپنے ہی دشمن ہیں،
لوگوں کی بددعائیں لیتے ہیں،
ان کے غیظ و غضب اور نفرت و کراہت کا نشانہ بنتے ہیں،
ان کے مرنے پر کوئی ان کے لیے آنسو نہیں بہاتا،
اس طرح ایک دوسرے انداز سے حکمرانوں کو اپنی رعایا کی ہمدردی اور خیرخواہی پر ابھارا گیا ہے،
تاکہ وہ ان کی نیک دعائیں لیں اور ان کی محبت و مودت کا مرکز بنیں،
ان کی قہر آلود آنکھوں کا نشانہ نہ بنیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4806]
Sahih Muslim Hadith 4806 in Urdu
مسلم بن قرظة الأشجعي ← عوف بن مالك الأشجعي