🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
44. باب بيان قدر ثواب من غزا فغنم ومن لم يغنم:
باب: جو شخص جہاد کرے اور لوٹ کمائے اس کا ثواب اس سے کم ہے جو جہاد کرے اور لوٹ نہ کمائے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1906 ترقیم شاملہ: -- 4925
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْد ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، عَنْ أَبِي هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيُصِيبُونَ الْغَنِيمَةَ إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ مِنَ الْآخِرَةِ وَيَبْقَى لَهُمُ الثُّلُثُ، وَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ ".
حیوہ بن شریح نے ابوہانی سے روایت کی، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے، انہوں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لڑنے والی کوئی بھی جماعت جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتی ہے، پھر وہ لوگ مالِ غنیمت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ آخرت کے اجر سے دو حصے فورا حاصل کر لیتے ہیں، ان کے لیے ایک باقی رہ جاتا ہے اور اگر وہ غنیمت حاصل نہیں کرتے تو (آخرت میں) ان کا اجر پورا ہو گا۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4925]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جماعت اللہ کی راہ میں جہاد کرتی ہے اور انہیں غنیمت حاصل ہو جاتی ہے، تو انہیں آخرت کے اجر سے دو تہائی اجر مل جاتا ہے اور ان کا ایک تہائی حصہ رہ جاتا ہے اور اگر انہیں غنیمت نہیں ملتی تو ان کا پورا اجر باقی رہتا ہے۔ [صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4925]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1906
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمرو السهمي، أبو محمد، أبو نصر، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن يزيد المعافري، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد المعافري ← عبد الله بن عمرو السهمي
ثقة
👤←👥حميد بن هانئ الخولاني، أبو هانئ
Newحميد بن هانئ الخولاني ← عبد الله بن يزيد المعافري
صدوق حسن الحديث
👤←👥حيوة بن شريح التجيبي، أبو زرعة
Newحيوة بن شريح التجيبي ← حميد بن هانئ الخولاني
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن يزيد العدوي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن يزيد العدوي ← حيوة بن شريح التجيبي
ثقة
👤←👥عبد بن حميد الكشي، أبو محمد
Newعبد بن حميد الكشي ← عبد الله بن يزيد العدوي
ثقة حافظ
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 4925 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 4925
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر مجاہد خلوص نیت سے جہاد میں حصہ لیتا ہے،
غنیمت اس کا مطلوب و مقصود نہیں ہوتی،
لیکن وہ صحیح سالم واپس آ جاتا ہے اور اسے غنیمت بھی مل جاتی ہے،
تو مجاہد کے لیے جو تین انعامات ہیں،
سلامتی،
غنیمت اور آخرت کا اجروثواب،
ان میں سے دو انعامات وہ حاصل کر لیتا ہے اور صرف تیسرا باقی رہ جاتا ہے،
لیکن اگر وہ شہادت کے مرتبہ پر فائز ہو جاتا ہے،
یا غنیمت سے محروم ہو جاتا ہے،
تو اس اصول کے مطابق کہ اجر بقدر مشقت و تکلیف ہے،
اس کے اجروثواب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ کھلی حقیقت ہے کہ جو بچ نہ سکا،
یا اسے غنیمت نہ ملی اس کی مشقت و کلفت اس سے زائد ہے،
جو بچ گیا اور غنیمت بھی حاصل کر لی،
مثلا اہل بدر کو اگر غنیمت حاصل نہ ہوتی تو ان کا اجروثواب اس سے بھی زائد ہو جاتا جو انہیں اب حاصل ہے،
اس لیے اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ اہل اُحد کا درجہ اہل بدر سے بلند ہونا چاہیے،
کیونکہ ان میں سے بہت سے شہید ہو گئے اور باقی رہنے والوں کو غنیمت نہیں ملی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 4925]