🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب تحريم الخمر وبيان انها تكون من عصير العنب ومن التمر والبسر والزبيب وغيرها مما يسكر:
باب: خمر کی حرمت کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1980 ترقیم شاملہ: -- 5132
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنِ الْفَضِيخِ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ لَنَا خَمْرٌ غَيْرَ فَضِيخِكُمْ هَذَا الَّذِي تُسَمُّونَهُ الْفَضِيخَ إِنِّي لَقَائِمٌ أَسْقِيهَا أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا أَيُّوبَ، وَرِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِنَا إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: " هَلْ بَلَغَكُمُ الْخَبَرُ؟ قُلْنَا: لَا قَالَ: فَإِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ يَا أَنَسُ: أَرِقْ هَذِهِ الْقِلَالَ، قَالَ: فَمَا رَاجَعُوهَا وَلَا سَأَلُوا عَنْهَا بَعْدَ خَبَرِ الرَّجُلِ ".
عبدالعزیز بن صہیب نے کہا: لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے فضیخ (ملی جلی کچی اور پکی ہوئی کھجوروں کا رس جس میں خمیر اٹھ جائے) کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا: تمہارے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کوئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابوطلحہ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا: تمہیں خبر پہنچی؟ ہم نے کہا: نہیں۔ اس نے کہا: شراب حرام کر دی گئی ہے۔ تو (ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: انس! (شراب کے) یہ سارے مٹکے بہا دو۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں (کبھی) کچھ پوچھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5132]
عبدالعزیز بن صہیب بیان کرتے ہیں، لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے کہا ہماری شراب تمہاری اس فضیخ کے سوا نہ تھی جس کو تم فضیخ کا نام دیتے ہو، میں کھڑا حضرت ابوطلحہ، ابو ایوب اور بہت سے دوسرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو اپنے گھر میں یہ فضیخ پلا رہا تھا، تو اچانک ایک آدمی آیا اور کہا، کیا تمہیں خبر پہنچ گئی ہے؟ ہم نے کہا، نہیں، اس نے کہا، شراب حرام ہو چکی ہے، تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا، اے انس! ان مٹکوں کو بہا دو، انہوں نے اس آدمی سے خبر سننے کے بعد اس کو نہیں پیا اور نہ اس کے بارے میں سوال کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5132]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1980
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضرصحابي
👤←👥عبد العزيز بن صهيب البناني، أبو حمزة
Newعبد العزيز بن صهيب البناني ← أنس بن مالك الأنصاري
ثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← عبد العزيز بن صهيب البناني
ثقة حجة حافظ
👤←👥يحيى بن أيوب المقابري، أبو زكريا
Newيحيى بن أيوب المقابري ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5132 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5132
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فضيخ:
کھجوروں کا کچا شیرہ جو پڑے پڑے جوش مارنا شروع کر دے،
کبھی کبھی،
بسر کچی پکی کھجوروں اور رطب تازہ کھجوروں کو ملا کر بناتے ہیں اور کبھی بسر اور تمر کو ملاکر بناتے ہیں،
اوپر کی حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بسر اور تمر کے آمیزہ کو فضیح کہا ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث میں حضرت انس نے فضیخ کو ہی خمر کا نام دیا ہے اور صحابہ کرام نے خمر کی حرمت ایک آدمی سے سنی،
کہ اتنے میں ایک منادی بھی آ گیا،
تو صحابہ کرام نے فوراً اس حکم پر بلا کسی توقف کے عمل کیا،
حالانکہ،
شراب ان کی گھٹی میں رچی بسی تھی اور یہ سوال بھی نہیں کیا،
خمر حرام ہوا ہے اور فضیخ تو خمر نہیں،
بلکہ فوراً فضیخ کے مٹکے بہا دئیے،
جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ صحابہ کرام صرف ماء الذبيب (انگور کا شیرہ)
کو ہی شراب (خمر)
نہیں سمجھتے تھے،
بلکہ ہر نشہ آور چیز کو خمر سمجھتے تھے،
اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5132]