صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
22. باب استحباب وضع النوى خارج التمر واستحباب دعاء الضيف لاهل الطعام وطلب الدعاء من الضيف الصالح وإجابته لذلك:
باب: کھجور کھاتے وقت گٹھلیاں علیحدہ رکھنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2042 ترقیم شاملہ: -- 5328
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي، قَالَ: فَقَرَّبْنَا إِلَيْهِ طَعَامًا وَوَطْبَةً فَأَكَلَ مِنْهَا ثُمَّ أُتِيَ بِتَمْرٍ، فَكَانَ يَأْكُلُهُ وَيُلْقِي النَّوَى بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ وَيَجْمَعُ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى، قَالَ شُعْبَةُ: هُوَ ظَنِّي وَهُوَ فِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِلْقَاءُ النَّوَى بَيْنَ الْإِصْبَعَيْنِ ثُمَّ أُتِيَ بِشَرَابٍ، فَشَرِبَهُ ثُمَّ نَاوَلَهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ، فَقَالَ أَبِي: وَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا، فَقَالَ: " بَارِكْ لَهُمْ فِي مَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہوئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا، آپ نے اس میں سے تناول فرمایا، پھر آپ کے سامنے کھجوریں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے۔ (کھانے کے لیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں۔ شعبہ نے کہا: میرا گمان (غالب) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنا اس (حدیث) میں ہے۔ پھر (آپ کے سامنے) مشروب لایا گیا۔ آپ نے اسے پیا، پھر اپنی دائیں جانب والے کو دے دیا۔ (عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے والد نے جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑی ہوئی تھی عرض کی: ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دعا کرتے ہوئے) فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5328]
حضرت عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں ٹھہرے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا اور بَرنی کھجور، پنیر اور گھی کا حلوہ پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے تناول فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خشک کھجوریں پیش کی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں کھا رہے تھے اور گٹھلی انگلیوں میں ڈالتے، شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھ کر پھینکتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: میرے خیال میں ان شاء اللہ دو انگلیوں سے گٹھلی پھینکنا اس حدیث میں موجود ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی کر بعد میں اپنے دائیں جانب والے کو دے دیا، تو میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام پکڑ کر درخواست کی کہ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! ان کو جو کچھ تو نے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما، انہیں بخش دے اور ان پر رحم فرما۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5328]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2042
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5328
| بارك لهم في ما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم |
جامع الترمذي |
3576
| اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم |
سنن أبي داود |
3729
| اللهم بارك لهم فيما رزقتهم واغفر لهم وارحمهم |
Sahih Muslim Hadith 5328 in Urdu
يزيد بن خميرالرحبي ← عبد الله بن بسر النصري