صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
25. باب نهي الآكل مع جماعة عن قران تمرتين ونحوهما في لقمة إلا بإذن اصحابه:
باب: اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو لقمے کھانے کی ممانعت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2045 ترقیم شاملہ: -- 5335
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ ".
سفیان نے جبلہ بن سحیم سے روایت کی کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر اکٹھی دو دو کھجوریں کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ملا کر کھائے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥جبلة بن سحيم التيمي، أبو سويرة، أبو سريرة جبلة بن سحيم التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← جبلة بن سحيم التيمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت | |
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة زهير بن حرب الحرشي ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
2489
| يقرن الرجل بين التمرتين جميعا حتى يستأذن أصحابه |
صحيح مسلم |
5335
| يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه |
جامع الترمذي |
1814
| يقرن بين التمرتين حتى يستأذن صاحبه |
سنن ابن ماجه |
3331
| يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5335 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5335
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے موقوف (اپنا قول)
اور مرفوع (آپ کی طرف منسوب)
دونوں طرح ثابت ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
دانے دار اشیاء جن کو ایک ایک کر کے اور ملا کر کھایا جاتا ہے،
ان کو ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملا کر کھانا جائز نہیں ہے،
یا کم از کم ادب اور وقار کے منافی ہے،
لیکن آج کل ان اخلاقی ہدایات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور کھانوں میں اسلامی شریعت کی ہدایات کی بجائے مغربی تہذیب کی پابندی کی جاتی ہے اور اس پر بڑا خوش ہوا جاتا ہے کہ ہم بڑے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے موقوف (اپنا قول)
اور مرفوع (آپ کی طرف منسوب)
دونوں طرح ثابت ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
دانے دار اشیاء جن کو ایک ایک کر کے اور ملا کر کھایا جاتا ہے،
ان کو ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملا کر کھانا جائز نہیں ہے،
یا کم از کم ادب اور وقار کے منافی ہے،
لیکن آج کل ان اخلاقی ہدایات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور کھانوں میں اسلامی شریعت کی ہدایات کی بجائے مغربی تہذیب کی پابندی کی جاتی ہے اور اس پر بڑا خوش ہوا جاتا ہے کہ ہم بڑے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5335]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1814
دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1814]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1814]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو،
اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو،
اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے،
خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو،
یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
وضاحت:
1؎:
ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو،
اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو،
اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے،
خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو،
یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1814]
Sahih Muslim Hadith 5335 in Urdu
جبلة بن سحيم التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي