🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب نهي الآكل مع جماعة عن قران تمرتين ونحوهما في لقمة إلا بإذن اصحابه:
باب: اجتماعی کھانے میں دو دو کھجوریں یا دو دو لقمے کھانے کی ممانعت کے بیان میں۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2045 ترقیم شاملہ: -- 5335
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَقْرِنَ الرَّجُلُ بَيْنَ التَّمْرَتَيْنِ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ أَصْحَابَهُ ".
سفیان نے جبلہ بن سحیم سے روایت کی کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر اکٹھی دو دو کھجوریں کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں کی اجازت کے بغیر دو کھجوریں ملا کر کھائے۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2045
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥جبلة بن سحيم التيمي، أبو سويرة، أبو سريرة
Newجبلة بن سحيم التيمي ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← جبلة بن سحيم التيمي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري
ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري
ثقة ثبت
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2489
يقرن الرجل بين التمرتين جميعا حتى يستأذن أصحابه
صحيح مسلم
5335
يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه
جامع الترمذي
1814
يقرن بين التمرتين حتى يستأذن صاحبه
سنن ابن ماجه
3331
يقرن الرجل بين التمرتين حتى يستأذن أصحابه
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5335 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5335
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے موقوف (اپنا قول)
اور مرفوع (آپ کی طرف منسوب)
دونوں طرح ثابت ہے،
جس سے معلوم ہوتا ہے،
دانے دار اشیاء جن کو ایک ایک کر کے اور ملا کر کھایا جاتا ہے،
ان کو ساتھیوں کی اجازت کے بغیر ملا کر کھانا جائز نہیں ہے،
یا کم از کم ادب اور وقار کے منافی ہے،
لیکن آج کل ان اخلاقی ہدایات کو درخور اعتناء نہیں سمجھا جاتا اور کھانوں میں اسلامی شریعت کی ہدایات کی بجائے مغربی تہذیب کی پابندی کی جاتی ہے اور اس پر بڑا خوش ہوا جاتا ہے کہ ہم بڑے مہذب اور شائستہ لوگ ہیں۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5335]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1814
دو دو کھجور ایک لقمے میں کھانے کی کراہت کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کھجور ایک ساتھ کھانے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اپنے ساتھ کھانے والے کی اجازت حاصل کر لے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1814]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
ایسا وہ کرے گا جو کھانے کے سلسلہ میں بے انتہا حریص اور لالچی ہو،
اور جسے ساتھ میں دوسرے کھانے والوں کا بالکل لحاظ نہ ہو،
اس لیے اس طرح کے حرص اور لالچ سے دور رہنا چاہیئے،
خاص طور پر جب کھانے کی مقدار کم ہو،
یہ ممانعت اجتماعی طور پر کھانے کے سلسلہ میں ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1814]

Sahih Muslim Hadith 5335 in Urdu