صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب فَضِيلَةِ الْخَلِّ وَالتَّأَدُّمِ بِهِ:
باب: سرکہ کی فضیلت اور اسے بطور سالن استعمال کرنے کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2052 ترقیم شاملہ: -- 5353
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى مَنْزِلِهِ، فَأَخْرَجَ إِلَيْهِ فِلَقًا مِنْ خُبْزٍ، فَقَالَ: " مَا مِنْ أُدُمٍ؟ "، فَقَالُوا: لَا إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ، قَالَ: " فَإِنَّ الْخَلَّ نِعْمَ الْأُدُمُ "، قَالَ جَابِرٌ: فَمَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ طَلْحَةُ: مَا زِلْتُ أُحِبُّ الْخَلَّ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ جَابِرٍ،
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا: مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لایا آپ نے پوچھا: ”کوئی سالن نہیں ہے؟“ اس نے کہا: تھوڑا سا سرکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ سرکہ عمدہ سالن ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ (راوی) نے کہا: جب سے میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکہ کو پسند کرتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5353]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے اور اسے روٹی کے ٹکڑے پیش کیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا کوئی سالن ہے؟“ گھر والوں نے کہا: تھوڑے سے سرکہ کے سوا کچھ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ» ”سرکہ بہترین سالن ہے۔“ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے، میں سرکہ کو پسند رکھتا ہوں، حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے شاگرد طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب سے میں نے یہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، میں سرکہ کو پسند رکھتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2052
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5353
| الخل نعم الأدم |
صحيح مسلم |
5352
| نعم الأدم الخل |
صحيح مسلم |
5355
| نعم الأدم هو |
جامع الترمذي |
1840
| نعم الإدام الخل |
جامع الترمذي |
1839
| نعم الإدام الخل |
سنن أبي داود |
3821
| نعم الإدام الخل |
سنن أبي داود |
3820
| نعم الإدام الخل |
سنن ابن ماجه |
3317
| نعم الإدام الخل |
سنن النسائى الصغرى |
3827
| نعم الإدام الخل |
المعجم الصغير للطبراني |
624
| نعم الإدام الخل |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5353 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5353
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
فِلق:
فِلقَة کی جمع ہے،
ٹکڑے کو کہتے ہیں،
كسرة کا ہم وزن اور ہم معنی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
انسان دوسرے کو ہاتھ پکڑ کر گھر لے جا سکتا ہے،
یا چلتے وقت دوسرے کا ہاتھ پکڑا جا سکتا ہے۔
مفردات الحدیث:
فِلق:
فِلقَة کی جمع ہے،
ٹکڑے کو کہتے ہیں،
كسرة کا ہم وزن اور ہم معنی ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے،
انسان دوسرے کو ہاتھ پکڑ کر گھر لے جا سکتا ہے،
یا چلتے وقت دوسرے کا ہاتھ پکڑا جا سکتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5353]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3317
سرکہ کو سالن کے طور پر استعمال کرنے کا بیان۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3317]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے پینے میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
جس چیز کے ساتھ روٹی کھائی جا سکے وہ سالن ہے ضروری نہیں کہ پکی ہوئی کوئی چیز ہی ہو۔
(3)
سادہ غذا اور معمولی سالن بھی اللہ کا انعام ہے جس پر شکر کرنا چاہیے۔
(4)
سرکہ طبی طور پر بھی مفید چیز ہے لہٰذا اسے کھانے میں شامل رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
کھانے پینے میں سادگی مستحسن ہے۔
(2)
جس چیز کے ساتھ روٹی کھائی جا سکے وہ سالن ہے ضروری نہیں کہ پکی ہوئی کوئی چیز ہی ہو۔
(3)
سادہ غذا اور معمولی سالن بھی اللہ کا انعام ہے جس پر شکر کرنا چاہیے۔
(4)
سرکہ طبی طور پر بھی مفید چیز ہے لہٰذا اسے کھانے میں شامل رکھنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3317]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث3827
جب کوئی قسم کھائے کہ وہ سالن نہیں کھائے گا پھر اس نے سرکہ سے روٹی کھا لی تو اس کا کیا حکم ہے؟
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے گھر میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ روٹی کا ایک ٹکڑا اور سرکہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھاؤ، سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 3827]
اردو حاشہ:
سالن کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ جس چیز سے بھی روٹی تر ہوجائے یا گلے سے با آسانی گزر جائے‘ خواہ وہ شوربہ اور مائع کی شکل میں ہو یا جامد شکل میں جیسا کہ گوشت‘ انڈا وغیرہ‘ اسے سالن ہی کہیں گے۔ سرکہ بھی روٹی کو ترکرکے اپنے ذائقے کی مدد سے گلے سے گزرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہضم میں بھی ممد ہے۔ یہی سالن کے اوصاف ہیں‘ لہٰذا سرکہ بھی سالن ہے۔ سالن استعمال نہ کرنے کی قسم کھانے والا سرکہ استعمال کرے تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کی قسم ٹوٹ گئی۔
سالن کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ جس چیز سے بھی روٹی تر ہوجائے یا گلے سے با آسانی گزر جائے‘ خواہ وہ شوربہ اور مائع کی شکل میں ہو یا جامد شکل میں جیسا کہ گوشت‘ انڈا وغیرہ‘ اسے سالن ہی کہیں گے۔ سرکہ بھی روٹی کو ترکرکے اپنے ذائقے کی مدد سے گلے سے گزرنے میں مدد دیتا ہے بلکہ ہضم میں بھی ممد ہے۔ یہی سالن کے اوصاف ہیں‘ لہٰذا سرکہ بھی سالن ہے۔ سالن استعمال نہ کرنے کی قسم کھانے والا سرکہ استعمال کرے تو اسے قسم کا کفارہ ادا کرنا ہوگا کیونکہ اس کی قسم ٹوٹ گئی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3827]
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1839
سرکہ کا بیان۔
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1839]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی بہترین سالن ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1839]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے،
کیوں کہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے سرکہ کے سالن کی فضیلت ثابت ہوتی ہے،
کیوں کہ یہ سب کے لیے کم خرچ میں آسانی سے دستیاب ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1839]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5352
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن مانگا تو انہوں نے کہا: ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے، آپ نے اسے ہی منگوا لیا اور اس کے ساتھ روٹی کھانے لگے اور فرماتے: ”سرکہ بہترین سالن ہے، بہترین سالن سرکہ ہے۔“ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5352]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
عربوں کے لیے اس دور میں سرکہ کا حصول بہت آسان تھا،
اس لیے یہ عام تھا،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں تکلف روا نہیں رکھتے تھے،
جو میسر آ جاتا کھا لیتے اور انگوری سرکہ ویسے بھی لذیذ ہوتا ہے۔
فوائد ومسائل:
عربوں کے لیے اس دور میں سرکہ کا حصول بہت آسان تھا،
اس لیے یہ عام تھا،
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھانے میں تکلف روا نہیں رکھتے تھے،
جو میسر آ جاتا کھا لیتے اور انگوری سرکہ ویسے بھی لذیذ ہوتا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5352]
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5355
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں، میں اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ فرمایا تو میں اٹھ کر آپ کے پاس چلا گیا، آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم چل پڑے، حتی کہ آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کے حجرہ کے پاس پہنچ گئے تو اندر داخل ہو گئے، پھر آپ نے مجھے اجازت دی اور میں پردہ کی حالت میں ان کے پاس پہنچ گیا، آپ نے پوچھا: ”کیا صبح کا کھانا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5355]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
بني:
کھجور کے پتوں کا دسترخوان۔
بنی،
با پر زبر اور نون پر زبر ہے،
کھجور کے پتوں کا تھال۔
مفردات الحدیث:
بني:
کھجور کے پتوں کا دسترخوان۔
بنی،
با پر زبر اور نون پر زبر ہے،
کھجور کے پتوں کا تھال۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5355]
Sahih Muslim Hadith 5353 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري