🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
32. باب إكرام الضيف وفضل إيثاره:
باب: مہمان کی خاطرداری کرنا چاہئے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2056 ترقیم شاملہ: -- 5364
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى جَمِيعًا، عَنْ الْمُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ مُعَاذ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، وَحَدَّثَ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْكُمْ طَعَامٌ؟ "، فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْ نَحْوُهُ، فَعُجِنَ ثُمَّ جَاءَ رَجُلٌ مُشْرِكٌ مُشْعَانٌّ طَوِيلٌ بِغَنَمٍ يَسُوقُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبَيْعٌ أَمْ عَطِيَّةٌ أَوَ قَالَ أَمْ هِبَةٌ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ بَيْعٌ، فَاشْتَرَى مِنْهُ شَاةً، فَصُنِعَتْ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ يُشْوَى، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ مَا مِنَ الثَّلَاثِينَ وَمِائَةٍ إِلَّا حَزَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُزَّةً حُزَّةً مِنْ سَوَادِ بَطْنِهَا، إِنْ كَانَ شَاهِدًا أَعْطَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا خَبَأَ لَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ قَصْعَتَيْنِ، فَأَكَلْنَا مِنْهُمَا أَجْمَعُونَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِي الْقَصْعَتَيْنِ فَحَمَلْتُهُ عَلَى الْبَعِيرِ أَوْ كَمَا قَالَ.
ابوعثمان نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: سیدنا عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک شخص کے پاس ایک صاع اناج نکلا یا تھوڑا کم یا زیادہ۔ پھر وہ سب گوندھا گیا۔ پھر ایک مشرک آیا، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے لمبا بکریاں لے کر ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو (بکری) بیچتا ہے یا ہدیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں بیچتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی تو اس کا گوشت تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی، گردے، دل وغیرہ کو بھوننے کا حکم دیا، (حضرت عبدالرحمان رضی اللہ عنہ نے) کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک شخص کو اس کی کلیجی وغیرہ کا ایک ٹکڑا دیا، جو شخص موجود تھا اس کو دے دیا اور جو موجود نہیں تھا اس کے لیے رکھ لیا۔ (عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: آپ نے (کھانے کے لیے) دو بڑے پیالے بنائے اور ہم سب نے ان دو پیالوں میں سے کھایا اور سیر ہو گئے، دونوں پیالوں میں کھانا پھر بھی بچ گیا تو میں نے اس کو اونٹ پر لاد لیا یا جس طرح انہوں نے کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5364]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سو تیس افراد تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم میں سے کسی شخص کے پاس کھانا ہے؟ تو ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا اس کے قریب آٹا نکلا، اسے گوندھا گیا، پھر ایک مشرک آدمی پراگندہ بال یا لمبا تڑنگا، بکریاں ہانکتے ہوئے، آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچتے ہو یا عطیہ ہے یا فرمایا ہبہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ بیچوں گا، آپ نے اس سے ایک بکری خرید لی، اسے تیار کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کلیجی کو بھوننے کا حکم دیا اور اللہ کی قسم! ایک سو تیس آدمیوں میں سے ہر ایک کے لیے آپ نے اس کلیجی سے ایک ٹکڑا کاٹا، اگر موجود تھا تو اس کو دے دیا اور اگر غیر موجود تھا تو اس کے لیے رکھ لیا گیا اور بکری کے گوشت کو دو پیالوں میں ڈالا، ان سے سب نے کھایا اور ہم سیر ہو گئے اور دونوں پیالوں میں کھانا بچ گیا، اسے میں نے اونٹ پر رکھ لیا، یا جو بات انہوں نے کہی۔ [صحيح مسلم/كتاب الأشربة/حدیث: 5364]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2056
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، أبو عثمان، أبو محمد، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥أبو عثمان النهدي، أبو عثمان
Newأبو عثمان النهدي ← عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أبو عثمان النهدي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← سليمان بن طرخان التيمي
ثقة
👤←👥محمد بن عبد الأعلى القيسي، أبو صدقة، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الأعلى القيسي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
👤←👥حامد بن عمر الثقفي، أبو عبد الرحمن
Newحامد بن عمر الثقفي ← محمد بن عبد الأعلى القيسي
ثقة
👤←👥عبيد الله بن معاذ العنبري، أبو عمرو
Newعبيد الله بن معاذ العنبري ← حامد بن عمر الثقفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
2618
هل مع أحد منكم طعام فإذا مع رجل صاع من طعام أو نحوه فعجن ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها فقال النبي بيعا أم عطية أو قال أم هبة قال لا بل بيع فاشتر
صحيح البخاري
2216
جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها فقال النبي بيعا أم عطية أو قال أم هبة قال لا بل بيع فاشترى منه شاة
صحيح البخاري
5382
هل مع أحد منكم طعام فإذا مع رجل صاع فجئ به فعجن ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنيمة يسوقها فقال النبي أبيع أم عطية أم هبة قال لا بل بيع فاشترى منه شاة فصنعت وأمر رسول الله بسواد البطن يشوى وايم الله ما من الثلاثين ومائة إلا قد حز له حزة من سواد بطنها إن كان
صحيح مسلم
5364
هل مع أحد منكم طعام فإذا مع رجل صاع من طعام أو نحوه فعجن ثم جاء رجل مشرك مشعان طويل بغنم يسوقها فقال النبي أبيع أم عطية أو قال أم هبة فقال لا بل بيع فاشترى منه شاة فصنعت وأمر رسول الله بسواد البطن أن يشوى قال وايم الله ما من الثلاثين ومائة إلا حز له رسول
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5364 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5364
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
مشحان:
پراگندہ اور بکھرے ہوئے بالوں والا،
دراز قد جیسا کہ راوی نے تفسیر کی ہے۔
(2)
حزة:
ٹکڑا،
حصہ۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرک کے ساتھ خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اس سے تحفہ بھی قبول کیا جا سکتا ہے،
اور اس سے آپ کے معجزہ کا اظہار ہو رہا ہے کہ آپ نے ایک بکری کی کلیجی کو ایک سو تیس آدمیوں میں تقسیم فرمایا اور وہ سب ایک بکری کے گوشت سے سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا،
جبکہ آٹا صرف ایک صاع (ڈھائی کلو یا بقول احناف چار کلو)
تھا،
جس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اکٹھے کھانا باعث برکت ہے،
کیونکہ اتفاق و اتحاد میں برکت ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5364]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2216
2216. حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران پراگندہ بال لمبے قد والا ایک مشرک آیا اور وہ کچھ بکریاں ہانک کر لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ بکریاں بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ دینے کے لیے ہیں؟ راوی کو شک ہے کہ عطیہ یا ہبہ کالفظ کہا۔ اس نے کہا: کچھ نہیں، بلکہ فروخت کے لیے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2216]
حدیث حاشیہ:
حافظ ؒ فرماتے ہیں:
معاملة الکفار جائزة إلا بیع ما یستعین به أهل الحرب علی المسلمین و اختلف العلماء في مبایعة من غالب ماله الحرام و حجة من رخص فیه قوله صلی اللہ علیه وسلم للمشرك أبیعا أم ہبة و فیه جواز بیع الکافر و إثبات ملکه علی ما في یدہ و جواز قبول الهدیة منه۔
(فتح)
یعنی کفار سے معاملہ داری کرنا جائز ہے مگر ایسا معاملہ درست نہیں جس سے وہ اہل اسلام کے ساتھ جنگ کرنے میں مدد پاسکیں۔
اور اس حدیث کی رو سے کافر کی بیع کو نافذ ماننا بھی ثابت ہوا۔
اور یہ بھی کہ اپنے مال کا وہ اسلامی قانون میں مالک ہی مانا جائے گا اور اس حدیث سے کافر کا ہدیہ قبول کرنا بھی جائز ثابت ہوا۔
یہ جملہ قانونی امور ہیں جن کے لیے اسلام میں ہر ممکن گنجائش رکھی گئی ہے۔
مسلمان جب کہ ساری دنیا میں آباد ہیں، ان کے بہت سے لین دین کے معاملات غیر مسلموں کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔
لہٰذا ان سب کو قانونی صورتوں میں بتلایا گیا اور اس سلسلہ میں بہت فراخدلی سے کام لیا گیا ہے جو اسلام کے دین فطرت اور عالمگیر مذہب ہونے کی واضح دلیل ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2216]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5382
5382. سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس، کھانا ہے؟ اچانک ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا اس کے لگ بھگ آٹا تھا جسے گوندھ لیا گیا۔ اس دوران میں ایک دراز قد مشرک جس کے بال پراگندہ تھے اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آنکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو فروخت کرتا یا عطیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا: عطیہ نہیں بلکہ فروخت کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی۔ اسے ذبح کیا گیا تو آپ نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو۔ جو وہاں موجود تھا اسے تو وہیں دے دیا گیا اور اگر وہ موجود نہ تھا تو اس کا حصہ محفوظ کر لیا گیا۔ پھر اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5382]
حدیث حاشیہ:
یہ راوی کو شک ہے، یہ حدیث بیع اور ہبہ کے بیان میں گزر چکی ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5382]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 2618
2618. حضرت عبدالرحمان بن ابو بکر ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سو تیس اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ پتہ چلا ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک صاع کے بقدرآٹا ہے۔ وہ گوندھا گیا۔ اتنے میں ایک لمبا تڑنگا مشرک بکریوں کا ریوڑ ہانکتا ہوا وہاں پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ہدیہ کے لیے لائے ہو یا فروخت کرنے کاارادہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ فروخت کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بکری خریدی، اسے ذبح کرکے اس کاگوشت بنایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کی کلیجی وغیرہ اکھٹی کرکے اس کو بھونا جائے۔ (راوی نے کہا:) اللہ کی قسم! ایک سو تیس میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کو آپ نے کلیجی کا ٹکڑا کاٹ کر نہ دیاہو۔ اگر وہ موجود تھا تو اس کو دیا ورنہ اس کا حصہ رکھ چھوڑا۔ پھر آپ نے گوشت کے دو تھال تیار کیے۔ سب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2618]
حدیث حاشیہ:
اس سے بھی کسی کافر مشرک کا ہدیہ قبول کرنا یا اس سے کوئی چیز خریدناجائز ثابت ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عظیم معجزہ بھی ثابت ہوا کہ آپ کی دعاءسے وہ قلیل گوشت سب کے لیے کافی ہوگیا۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2618]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2216
2216. حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر ؓ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے کہ اس دوران پراگندہ بال لمبے قد والا ایک مشرک آیا اور وہ کچھ بکریاں ہانک کر لایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: یہ بکریاں بیچنے کے لیے ہیں یا عطیہ دینے کے لیے ہیں؟ راوی کو شک ہے کہ عطیہ یا ہبہ کالفظ کہا۔ اس نے کہا: کچھ نہیں، بلکہ فروخت کے لیے ہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خرید لی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:2216]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس عنوان کا مقصد یہ ہے کہ مشرکین اور اہل حرب کے ساتھ معاملہ اس عالم رنگ وبو کے باشندوں کی حیثیت سے ان کے حقوق تسلیم کرتے ہوئے کیا جائے گا۔
ہاں، اگر ان سے جنگ کی نوبت آجائے تو ان کے لیے اسلام کا ایک جداگانہ ضابطہ ہے۔
اہل ذمہ اور اہل صلح کے لیے الگ الگ قاعدے ہیں۔
ان کا مال ہمارے اہل اسلام کے مال کی طرح اور ان کا خون ہمارے خون کی طرح محترم ہے۔
مشرک یا کافر کی اہل شرک یا اہل کفر ہونے کی حیثیت سے ان کی گردن مارنے کی اجازت نہیں ہے۔
بہر حال مشرکین وکفار کے بھی حقوق ہیں۔
وہ بھی حق ملکیت رکھتے ہیں،ان سے خریدوفروخت کی جاسکتی ہے لیکن انتہا پسندوں کے خیال کے مطابق مشرک اور کافر جس حالت میں بھی ہو اس کا خون حلال اور مال و آبرو جائز ہے۔
بہر حال اسلام نے کفار ومشرکین کا انسان ہونے کے ناتے سے خیال رکھا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے ایک مشرک سے بکری خریدی جبکہ ہمارے دور کے انتہا پسندوں کے ہاں ایسے حالات میں شاید بکریوں کے ریوڑ کو ذبح کردینا جائز ہو۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ لکھتے ہیں:
کفار سے معاملہ داری کرنا جائز ہے مگر ایسا معاملہ درست نہیں جس سے وہ اہل اسلام کے خلاف جنگ کرنے میں مدد حاصل کرسکیں، نیز کافر کی خریدوفروخت صحیح ہے اور وہ اسلامی قانون کے اعتبار سے اپنے اموال کا مالک تسلیم کیا جائے گا۔
اس حدیث کی رو سے کافر سے ہدیہ قبول کرنا بھی جائز ثابت ہوا۔
(فتح الباري: 815/4)
واضح رہے کہ مذکورہ روایت انتہائی مختصر ہے، تفصیلی روایت آئندہ بیان ہوگی۔
(صحیح البخاري، الھبة، حدیث: 2618)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2216]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:2618
2618. حضرت عبدالرحمان بن ابو بکر ؓ سے روایت ہے کہ ہم ایک سو تیس اشخاص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کسی کے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟ پتہ چلا ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک صاع کے بقدرآٹا ہے۔ وہ گوندھا گیا۔ اتنے میں ایک لمبا تڑنگا مشرک بکریوں کا ریوڑ ہانکتا ہوا وہاں پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ہدیہ کے لیے لائے ہو یا فروخت کرنے کاارادہ ہے؟ اس نے کہا: نہیں، بلکہ فروخت کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بکری خریدی، اسے ذبح کرکے اس کاگوشت بنایا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کی کلیجی وغیرہ اکھٹی کرکے اس کو بھونا جائے۔ (راوی نے کہا:) اللہ کی قسم! ایک سو تیس میں سے کوئی شخص ایسا باقی نہ رہا جس کو آپ نے کلیجی کا ٹکڑا کاٹ کر نہ دیاہو۔ اگر وہ موجود تھا تو اس کو دیا ورنہ اس کا حصہ رکھ چھوڑا۔ پھر آپ نے گوشت کے دو تھال تیار کیے۔ سب۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:2618]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشرک سے پوچھا:
تم یہ بکریاں بطور ہدیہ لائے ہو یا انہیں فروخت کرنے کا ارادہ ہے؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرک کا ہدیہ قبول کرنا جائز ہے۔
اگر ناجائز ہوتا تو آپ اس کے متعلق دریافت کیوں کرتے؟ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی کے دل میں رحم آ جاتا ہے اور اس میں طمع اور لالچ کے جذبات نہیں ہوتے، مسلمانوں کا قافلہ دیکھ کر ممکن ہے کہ مشرک کو خیال آئے، اس موقع پر کچھ ہدیہ پیش کرنا چاہیے، اس بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ہدیہ لائے ہو یا فروخت کرنے کا ارادہ ہے۔
(2)
اس کا یہ مطلب نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں کوئی طمع تھی، البتہ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مجھے مشرکین کے ہدایا قبول کرنے سے منع کر دیا گیا ہے۔
(سنن أبي داود، الخراج، حدیث: 3057)
اس میں تطبیق یوں ہے کہ آپ ان مشرکین کا ہدیہ قبول کرتے تھے جن سے ایمان کی توقع ہوتی تھی، اور جس ہدیے میں مشرکین سے دوستی بڑھانا مقصود ہو تو وہ جائز نہیں۔
بہرحال امام بخاری ؒ نے ان احادیث سے ثابت کیا ہے کہ کفار و مشرکین سے ہدایا قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ حالات سازگار ہوں، سیاسی اور معاشرتی طور پر کوئی پیچیدگی نہ ہو، البتہ اس مشرک کا ہدیہ قبول کرنا منع ہے جو دوستی اور محبت کی بنا پر ہو جس سے محبت اور تعلقات بڑھانا مقصود ہو۔
واللہ أعلم (فتح الباري: 284/5)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2618]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5382
5382. سیدنا عبدالرحمن بن ابو بکر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے کہا کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس، کھانا ہے؟ اچانک ایک آدمی کے پاس ایک صاع یا اس کے لگ بھگ آٹا تھا جسے گوندھ لیا گیا۔ اس دوران میں ایک دراز قد مشرک جس کے بال پراگندہ تھے اپنی بکریاں ہانکتا ہوا ادھر آنکلا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو فروخت کرتا یا عطیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا: عطیہ نہیں بلکہ فروخت کرتا ہوں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی۔ اسے ذبح کیا گیا تو آپ نے اس کی کلیجی بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! ایک سو تیس لوگوں کی جماعت میں سے کوئی شخص ایسا نہیں تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کلیجی کا ایک ایک ٹکڑا کاٹ کر نہ دیا ہو۔ جو وہاں موجود تھا اسے تو وہیں دے دیا گیا اور اگر وہ موجود نہ تھا تو اس کا حصہ محفوظ کر لیا گیا۔ پھر اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:5382]
حدیث حاشیہ:
(1)
ابن بطال نے کہا ہے کہ اس حدیث سے پیٹ بھر کر کھانا ثابت ہوتا ہے اگرچہ کبھی کبھار بھوک برداشت کرنا افضل ہے۔
بہرحال پیٹ بھر کر کھانا اگرچہ مباح ہے لیکن اس کی ایک حد ہے، جب اس حد سے تجاوز ہو تو اسراف و فضول خرچی ہو گی۔
صرف اس حد تک کھائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مددگار ثابت ہو اور اس سے جسم بوجھل نہ ہو جو اللہ کی عبادت سے رکاوٹ کا باعث بنے۔
(فتح الباري: 654/9) (2)
ہمارے رجحان کے مطابق پیٹ بھر کے کھانے کی حد یہ ہے کہ پیٹ کے تین حصے ہوں:
ایک حصہ کھانے کے لیے، ایک پینے کے لیے اور ایک سانس کی آمد و رفت کے لیے چھوڑ دیا جائے۔
اگر یہ معمول بنا لیا جائے تو انسان توانا و تندرست رہے گا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5382]

Sahih Muslim Hadith 5364 in Urdu