پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3ق. باب تحريم لبس الحرير وغير ذٰلك للرجال
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2070 ترقیم شاملہ: -- 5419
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، ويحيى بن حبيب ، وحجاج بن الشاعر ، واللفظ لابن حبيب، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: لَبِسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أُهْدِيَ لَهُ ثُمَّ أَوْشَكَ أَنْ نَزَعَهُ، فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقِيلَ لَهُ: قَدْ أَوْشَكَ مَا نَزَعْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " نَهَانِي عَنْهُ جِبْرِيلُ "، فَجَاءَهُ عُمَرُ يَبْكِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ أَمْرًا وَأَعْطَيْتَنِيهِ فَمَا لِي، قَالَ: " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهُ لِتَلْبَسَهُ إِنَّمَا أَعْطَيْتُكَهُ تَبِيعُهُ "، فَبَاعَهُ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ.
ابوزبیر نے کہا کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن دیباج کی قبا پہنی جو آپ کو ہدیہ کی گئی تھی، پھر فوراً ہی آپ نے اس کو اتار دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دی۔ آپ سے کہا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے اس کو فوراً اتار دیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا۔“ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آئے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے ایک چیز ناپسند کی اور وہ مجھے دے دی! اب میرے لیے کیا (راستہ) ہے؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، میں نے تمہیں اس لیے دی کہ اس کو بیچ لو۔“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو دو ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5419]
امام صاحب اپنے چار اساتذہ سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کرتے ہیں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیباج کی قبا پہنی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفتاً دی گئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جلدی کھینچ ڈالا اور اسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے اسے فوراً ہی اتار ڈالا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جبریل علیہ السلام نے اس سے منع کر دیا ہے“ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ روتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ایک چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند فرمائی ہے اور وہ مجھے عطا کر دی ہے تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے وہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دی، صرف اس لیے دی ہے کہ تم اسے بیچ لو۔“ تو انہوں نے وہ دو ہزار درہم میں فروخت کر دی۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5419]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2070
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5419 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5419
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے،
ابھی آپ کو ریشم پہننے سے منع نہیں کیا گیا تھا،
جب آپ نے ریشمی قبا پہن لی تو فوراً جبرائیل نے آ کر اس سے منع کر دیا اور آپ نے تعمیل حکم کرتے ہوئے،
اس وقت اسے اتار ڈالا،
جس سے معلوم ہوا،
جبرائیل قرآن کے علاوہ بھی احکام و ہدایات لے کر آپ کے پاس آتے تھے،
چونکہ ریشم کا استعمال صرف مردوں کے لیے منع ہے،
اس لیے آپ نے،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے بیچنے کا حکم دیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا،
اگر کسی کے فعل کے بارے میں کوئی خلجان ہو تو وہ متعلقہ آدمی کے سامنے پیش کر کے اسے حل کروا لینا چاہیے،
خواہ مخواہ دل میں اس کے بارے میں بدظنی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
اور یہ اور واقعہ ہے ”مشرک“ کو دینے کا واقعہ اس سے الگ ہے۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس وقت کا واقعہ ہے،
ابھی آپ کو ریشم پہننے سے منع نہیں کیا گیا تھا،
جب آپ نے ریشمی قبا پہن لی تو فوراً جبرائیل نے آ کر اس سے منع کر دیا اور آپ نے تعمیل حکم کرتے ہوئے،
اس وقت اسے اتار ڈالا،
جس سے معلوم ہوا،
جبرائیل قرآن کے علاوہ بھی احکام و ہدایات لے کر آپ کے پاس آتے تھے،
چونکہ ریشم کا استعمال صرف مردوں کے لیے منع ہے،
اس لیے آپ نے،
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس کے بیچنے کا حکم دیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا،
اگر کسی کے فعل کے بارے میں کوئی خلجان ہو تو وہ متعلقہ آدمی کے سامنے پیش کر کے اسے حل کروا لینا چاہیے،
خواہ مخواہ دل میں اس کے بارے میں بدظنی پیدا نہیں کرنی چاہیے۔
اور یہ اور واقعہ ہے ”مشرک“ کو دینے کا واقعہ اس سے الگ ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5419]
Sahih Muslim Hadith 5419 in Urdu
محمد بن مسلم القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري