الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3ق. باب تحريم لبس الحرير وغير ذٰلك للرجال
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ترقیم عبدالباقی: 2071 ترقیم شاملہ: -- 5420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ ، قال: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيٍّ ، قال: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ بِهَا إِلَيَّ فَلَبِسْتُهَا، فَعَرَفْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ النِّسَاءِ ".
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابوعون سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوصالح سے سنا، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنا رہے تھے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا، آپ نے وہ میرے پاس بھیج دیا، میں نے اس کو پہن لیا، پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر غصہ محسوس کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تمہارے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس کو کاٹ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5420]
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ میں ریشمی دھاری دار جوڑا دیا گیا اور آپ نے وہ مجھے بھیج دیا تو میں نے وہ پہن لیا، پھر میں نے آپ کے چہرے پر ناراضی کے آثار دیکھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تمہیں، یہ اس لیے نہیں بھیجا کہ تم اس کو پہن لو، میں نے تو صرف اس لیے یہ بھیجا تھا کہ تم اسے پھاڑ کر عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5420]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2071
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5840
| كساني النبي حلة سيراء فخرجت فيها فرأيت الغضب في وجهه فشققتها بين نسائي |
صحيح البخاري |
2614
| أهدى إلي النبي حلة سيراء فلبستها فرأيت الغضب في وجهه فشققتها بين نسائي |
صحيح مسلم |
5423
| شققتها بين نسائي |
صحيح مسلم |
5422
| شققه خمرا بين الفواطم |
صحيح مسلم |
5420
| لم أبعث بها إليك لتلبسها إنما بعثت بها إليك لتشققها خمرا بين النساء |
سنن أبي داود |
4043
| أهديت إلى رسول الله حلة سيراء فأرسل بها إلي فلبستها فأتيته فرأيت الغضب في وجهه وقال إني لم أرسل بها إليك لتلبسها وأمرني فأطرتها بين نسائي |
سنن النسائى الصغرى |
5300
| لم أعطكها لتلبسها فأمرني فأطرتها بين نسائي |
سنن ابن ماجه |
3596
| لا ولكن اجعلها خمرا بين الفواطم |
بلوغ المرام |
419
| كساني النبي حلة سيراء فخرجت فيها فرايت الغضب في وجهه فشققتها بين نسائي |
عبد الرحمن بن قيس الحنفي ← علي بن أبي طالب الهاشمي