صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
30. باب جواز وسم الحيوان غير الآدمي في غير الوجه وندبه في نعم الزكاة والجزية:
باب: سوائے آدمی کے جانور کو داغ دینا درست ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 2119 ترقیم شاملہ: -- 5554
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال: لَمَّا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، قَالَتْ لِي: يَا أَنَسُ، انْظُرْ هَذَا الْغُلَامَ فَلَا يُصِيبَنَّ شَيْئًا حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَنِّكُهُ، قَالَ: فَغَدَوْتُ، فَإِذَا هُوَ فِي الْحَائِطِ وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ جَوْنِيَةٌ، وَهُوَ يَسِمُ الظَّهْرَ الَّذِي قَدِمَ عَلَيْهِ فِي الْفَتْحِ ".
محمد (ابن سیرین) نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا کے ہاں بچہ پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے کہا: انس! اس بچے کا دھیان رکھو، اس کے منہ میں کوئی چیز نہ جائے یہاں تک کہ صبح تم اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ آپ اسے گھٹی دیں گے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں صبح کے وقت آیا، اس وقت آپ باغ میں تھے، آپ کے جسم پر ایک کالے رنگ کی بنوجون کی بنائی ہوئی منقش اونی چادر تھی اور آپ ان سواری کے جانوروں (کے جسم) پر نشان ثبت فرما رہے تھے جو فتح مکہ کے زمانے میں (فتح مکہ کے فوراً بعد جنگ حنین کے موقع پر) آپ کو حاصل ہوئے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5554]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے انس! اس بچے کا دھیان رکھنا، یہ کوئی چیز نہ کھا لے حتیٰ کہ تم اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو گھٹی دیں، چنانچہ میں اس کو لے گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر «حَوِيَّةٌ» ”حویتی“ چادر تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سواریوں کو داغ لگا رہے تھے جو فتح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں۔ [صحيح مسلم/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 5554]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2119
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥عبد الله بن عون المزني، أبو عون عبد الله بن عون المزني ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت فاضل | |
👤←👥محمد بن إبراهيم السلمي، أبو عمرو محمد بن إبراهيم السلمي ← عبد الله بن عون المزني | ثقة | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← محمد بن إبراهيم السلمي | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
5824
| انظر هذا الغلام فلا يصيبن شيئا حتى تغدو به إلى النبي يحنكه فغدوت به فإذا هو في حائط وعليه خميصة حريثية وهو يسم الظهر الذي قدم عليه في الفتح |
صحيح مسلم |
5554
| أتيت النبي وعليه خميصة وهو في حائط يسم الظهر قال رويدا |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5554 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5554
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
حويتية:
مچھلی کی طرح دھاری دار۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام بیت المال کے جانوروں کو امتیاز اور علامت کے طور پر خود نشان یا داغ لگا سکتا ہے اور بقول بعض اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔
مفردات الحدیث:
حويتية:
مچھلی کی طرح دھاری دار۔
فوائد ومسائل:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام بیت المال کے جانوروں کو امتیاز اور علامت کے طور پر خود نشان یا داغ لگا سکتا ہے اور بقول بعض اس پر صحابہ کرام کا اجماع ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5554]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5824
5824. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنم دیا تو انہوں نے مجھے کہا: اے انس! اس بچے کا خیال رکھو، یہ کوئی چیز نہ کھانے پائے حتیٰ کہ صبح کے وقت تم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، تاکہ آپ اسے گھٹی دیں چنانچہ میں اسے لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ ایک سیاہ اونی چادر اڑھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ان اونٹوں کو داغ لگا رہے تھے جو فتح مکہ میں آپ کے پاس آئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5824]
حدیث حاشیہ:
حریثی نسبت ہے حریث کی طرف۔
شاید اس نے یہ کملیاں بنانا شروع کی ہوں گی بعض روایتوں میں خیبری ہے۔
بعض میں جونی یہ بنی الجون کی طرف نسبت ہے۔
حافظ نے کہا جونی کملی اکثر یہاں ہوتی ہے۔
اسی سے ترجمہ باب کی مطابقت ہو گئی۔
کالی کملی رکھنے اوڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ ایسی کملی رکھنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوتی ہے جو ہمارے لیے سب سے بڑی سعادت ہے اللھم ارزقنا آمین۔
حریثی حریث نامی کپڑا بنانے والے کی طرف نسبت ہے۔
حریثی نسبت ہے حریث کی طرف۔
شاید اس نے یہ کملیاں بنانا شروع کی ہوں گی بعض روایتوں میں خیبری ہے۔
بعض میں جونی یہ بنی الجون کی طرف نسبت ہے۔
حافظ نے کہا جونی کملی اکثر یہاں ہوتی ہے۔
اسی سے ترجمہ باب کی مطابقت ہو گئی۔
کالی کملی رکھنے اوڑھنے کے بہت سے فوائد ہیں اور سب سے بڑا فائدہ یہ کہ ایسی کملی رکھنے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوتی ہے جو ہمارے لیے سب سے بڑی سعادت ہے اللھم ارزقنا آمین۔
حریثی حریث نامی کپڑا بنانے والے کی طرف نسبت ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5824]
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5824
5824. حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: جب ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ جنم دیا تو انہوں نے مجھے کہا: اے انس! اس بچے کا خیال رکھو، یہ کوئی چیز نہ کھانے پائے حتیٰ کہ صبح کے وقت تم اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ، تاکہ آپ اسے گھٹی دیں چنانچہ میں اسے لے کر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ایک باغ میں تھے اور آپ ایک سیاہ اونی چادر اڑھے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ ان اونٹوں کو داغ لگا رہے تھے جو فتح مکہ میں آپ کے پاس آئے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5824]
حدیث حاشیہ:
(1)
خمیصہ کالی چادر کو کہتے ہیں جو حریث کی طرف منسوب ہے۔
ممکن ہے کہ قبیلۂ قضاعہ کا یہ شخص اس قسم کی اونی چادریں بناتا ہو۔
بعض حضرات نے اسے جونیہ پڑھا ہے جو بنی جون کی طرف منسوب ہے یا اس کا رنگ سیاہ و سفید تھا، اس بنا پر اسے جونیہ کہا گیا ہے۔
(2)
اس سیاہ اونی چادر کے بہت سے فوائد ہیں:
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسی سیاہ گرم چادر رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اونی چادر کو سیاہ رنگ سے رنگ دیا، آپ نے اسے زیب تن فرمایا مگر جب اس میں پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اون کی بو محسوس کی تو اسے اتار پھینکا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4074)
(1)
خمیصہ کالی چادر کو کہتے ہیں جو حریث کی طرف منسوب ہے۔
ممکن ہے کہ قبیلۂ قضاعہ کا یہ شخص اس قسم کی اونی چادریں بناتا ہو۔
بعض حضرات نے اسے جونیہ پڑھا ہے جو بنی جون کی طرف منسوب ہے یا اس کا رنگ سیاہ و سفید تھا، اس بنا پر اسے جونیہ کہا گیا ہے۔
(2)
اس سیاہ اونی چادر کے بہت سے فوائد ہیں:
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسی سیاہ گرم چادر رکھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک اونی چادر کو سیاہ رنگ سے رنگ دیا، آپ نے اسے زیب تن فرمایا مگر جب اس میں پسینہ آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں اون کی بو محسوس کی تو اسے اتار پھینکا۔
(سنن أبي داود، اللباس، حدیث: 4074)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5824]
Sahih Muslim Hadith 5554 in Urdu
محمد بن سيرين الأنصاري ← أنس بن مالك الأنصاري