🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب النهي عن التكني بابي القاسم وبيان ما يستحب من الاسماء:
باب: ابوالقاسم کنیت رکھنے کی ممانعت اور اچھے ناموں کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2135 ترقیم شاملہ: -- 5598
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ نُمَيْرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قال: لَمَّا قَدِمْتُ نَجْرَانَ سَأَلُونِي، فَقَالُوا: إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ يَا أُخْتَ هَارُونَ وَمُوسَى قَبْلَ عِيسَى بِكَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهُ، عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَمُّونَ بِأَنْبِيَائِهِمْ وَالصَّالِحِينَ قَبْلَهُمْ ".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب میں نجران میں آیا، تو وہاں کے (انصاری) لوگوں نے مجھ پر اعتراض کیا کہ تم پڑھتے ہو کہ (آیت) (اے ہارون کی بہن) (مریم: 28) (یعنی مریم علیہا السلام کو ہارون کی بہن کہا ہے) حالانکہ (سیدنا ہارون موسیٰ علیہ السلام کے بھائی تھے اور) موسیٰ علیہ السلام، عیسیٰ علیہ السلام سے اتنی مدت پہلے تھے (پھر مریم ہارون علیہا السلام کی بہن کیونکر ہو سکتی ہیں؟)، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (یہ وہ ہارون تھوڑی ہیں جو موسیٰ کے بھائی تھے) بنی اسرائیل کی عادت تھی (جیسے اب سب کی عادت ہے) کہ وہ پیغمبروں اور اگلے نیکوں کے نام پر نام رکھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5598]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب میں علاقہ نجران آیا، لوگوں نے مجھ سے سوال کیا اور کہا، تم پڑھتے ہو: ہارون کی بہن ﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ﴾ [سورة مريم: 28] ۔ [صحيح مسلم/كتاب الآداب/حدیث: 5598]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥المغيرة بن شعبة الثقفي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عيسىصحابي
👤←👥علقمة بن وائل الحضرمي
Newعلقمة بن وائل الحضرمي ← المغيرة بن شعبة الثقفي
ثقة
👤←👥سماك بن حرب الذهلي، أبو المغيرة
Newسماك بن حرب الذهلي ← علقمة بن وائل الحضرمي
صدوق سيء الحفظ، تغير بآخره وروايته عن عكرمة مضطربة
👤←👥إدريس بن يزيد الأودي، أبو عبد الله
Newإدريس بن يزيد الأودي ← سماك بن حرب الذهلي
ثقة
👤←👥عبد الله بن إدريس الأودي، أبو محمد
Newعبد الله بن إدريس الأودي ← إدريس بن يزيد الأودي
ثقة حجة
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى
Newمحمد بن المثنى العنزي ← عبد الله بن إدريس الأودي
ثقة ثبت
👤←👥عبد الله بن سعيد الكندي، أبو سعيد
Newعبد الله بن سعيد الكندي ← محمد بن المثنى العنزي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← عبد الله بن سعيد الكندي
ثقة حافظ
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر
Newابن أبي شيبة العبسي ← محمد بن نمير الهمداني
ثقة حافظ صاحب تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5598
يسمون بأنبيائهم والصالحين قبلهم
جامع الترمذي
3155
ألا أخبرتهم أنهم كانوا يسمون بأنبيائهم والصالحين قبلهم
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 5598 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 5598
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
حضرت مریم علیہا السلام کو ﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ﴾ کہہ کر پکارا گیا ہے،
حالانکہ ہارون علیہ السلام،
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھائی ہیں،
جو حضرت مریم اور عیسیٰ علیہم السلام سے کافی عرصہ پہلے گزر چکے ہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہارون سے مراد یہاں موسیٰ علیہ السلام کا بھائی نہیں ہے،
بلکہ اور ہارون ہے اور بنو اسرائیل،
اپنی اولاد کے نام گزشتہ انبیاء اور نیک لوگوں کے نام پر رکھ لیتے تھے اور حضرت مریم کو ﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ﴾ اس انسان کی نیکی اور پارسائی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے کہا گیا،
وگرنہ وہ ان کا حقیقی بھائی نہ تھا اور اب علماء کے نزدیک بالاتفاق،
انبیاء کے نام پر نام رکھنا جائز ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جو محمد نام رکھنے سے منع فرمایا ہے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نام کا شخص اگر کوئی غلط حرکت کرے تو لوگ اس کی غلط کاری پر لعن طعن کرتے ہیں تو گویا اس کے سبب آپ کے نام کو برا بھلا کہا گیا تو یہ آپ کے نام کی عظمت و احترام کے منافی ہے،
اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا،
یہ نام نہ رکھو،
لیکن جب ان کو بتایا گیا کہ یہ نام آپ نے خود بعض لوگوں کا رکھا ہے تو وہ خاموش ہو گئے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 5598]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 3155
سورۃ مریم سے بعض آیات کی تفسیر۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نجران بھیجا (وہاں نصاریٰ آباد تھے) انہوں نے مجھ سے کہا: کیا آپ لوگ «يا أخت هارون» ۱؎ نہیں پڑھتے؟ جب کہ موسیٰ و عیسیٰ کے درمیان (فاصلہ) تھا جو تھا ۲؎ میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں انہیں کیا جواب دوں؟ میں لوٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو بتایا، تو آپ نے فرمایا: تم نے انہیں کیوں نہیں بتا دیا کہ لوگ اپنے سے پہلے کے انبیاء و صالحین کے ناموں پر نام رکھا کرتے تھے ۳؎۔ [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3155]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے ہارون کی بہن تیرا باپ غلط آدمی نہیں تھا،
اور نہ تیری ماں بدکارتھی۔

2؎:
پھر تو یہ بات غلط ہے کیوں کہ یہاں خطاب مریم سے ہے مریم کو ہارون کی بہن کہا گیا ہے،
ہارون موسیٰ کے بھائی تھے،
اور موسیٰ وعیسیٰ علیہما السلام کے زمانوں میں ایک لمبا فاصلہ ہے،
پھر مریم کو ہارون کی بہن کہنا کیسے صحیح ہو سکتا ہے؟
3؎:
یعنی آیت میں جس ہارون کا ذکر ہے وہ مریم کے بھائی ہیں،
اور وہ ہارون جو موسیٰ کے بھائی ہیں وہ اور ہیں۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3155]

Sahih Muslim Hadith 5598 in Urdu